[rank_math_breadcrumb]

پیٹرول مہنگا، کفایت شعاری سستی: حکومتی اعلانات اور عوامی بوجھ کی حقیقت

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان کی حکومت نے بھی مہنگائی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت تمام سرکاری گاڑیوں کو آئندہ دو ماہ کے لیے فراہم کیے جانے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ تاہم یہ کمی سرکاری بسوں، ایمبولینسز اور دیگر آپریشنل گاڑیوں پر لاگو نہیں ہوگی۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے وفاقی سطح پر تقریباً ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی 60 فیصد سرکاری گاڑیاں بھی دو ماہ کے لیے گراؤنڈ کر دی جائیں گی۔

اسی طرح قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں دو ماہ کے لیے 20 فیصد رضاکارانہ کٹوتی کا اعلان کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ وفاقی اور صوبائی محکموں میں گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے ایسے سرکاری افسران، جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ بھی بطور کٹوتی لی جائے گی۔

کفایت شعاری مہم کے تحت وفاقی اور صوبائی کابینہ کے تمام وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی نے بھی رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہیں اور الاؤنسز نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر یہ اقدام قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

تاہم یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی کابینہ کے ارکان کی دو ماہ کی تنخواہیں اور مراعات چھوڑ دینے سے قومی خزانے یا عوام کو عملی طور پر کتنا فائدہ پہنچے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم کی کابینہ میں 31 وفاقی وزرا، 11 وزرائے مملکت، چار مشیر اور نو معاونین خصوصی شامل ہیں۔ اس طرح وفاقی کابینہ کے ارکان کی مجموعی تعداد 55 بنتی ہے۔

وفاقی کابینہ کے ایک رکن کی تنخواہ اور مراعات ملا کر اوسطاً تقریباً 5 لاکھ 19 ہزار روپے بنتے ہیں۔ اس حساب سے اگر کابینہ کے تمام ارکان کی ایک ماہ کی تنخواہیں روکی جائیں تو تقریباً 2 کروڑ 85 لاکھ 45 ہزار روپے کی بچت ہوگی۔ وزیراعظم کے اعلان کے مطابق دو ماہ کی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کی صورت میں قومی خزانے کو تقریباً پانچ کروڑ 70 لاکھ 90 ہزار روپے کی بچت ہوگی۔

دوسری طرف حکومت پاکستان نے چھ مارچ کو پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ بھی کر دیا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا جب حکومت پہلے ہی یہ بتا چکی تھی کہ ملک میں تقریباً 28 روز کے لیے تیل کا ذخیرہ موجود ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی یومیہ کھپت 20 سے 22 ملین لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی یومیہ کھپت تقریباً 28 سے 30 ملین لیٹر ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر ملک میں روزانہ تقریباً 50 سے 52 ملین لیٹر پیٹرول اور ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔

اگر روزانہ تقریباً پانچ کروڑ لیٹر پیٹرول اور ڈیزل استعمال کیا جاتا ہے تو 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد پاکستانی عوام سے یومیہ تقریباً پونے تین ارب روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔

اس حساب سے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد صرف ایک ہفتے میں عوام سے تقریباً 19 ارب روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔

یوں ایک طرف عوام سے روزانہ اربوں روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف حکومت کی کفایت شعاری مہم کے تحت کابینہ کے ارکان کی دو ماہ کی تنخواہیں روک کر قومی خزانے کو تقریباً پونے چھ کروڑ روپے کی بچت دکھائی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں: