پاکستان میں بڑے مذہبی جلوسوں کا امکان، امریکی عملے کی نقل و حرکت 10 مارچ سے محدود  کرنے کا اعلان

مذہبی جلوس

امریکی سفارت خانہ، اسلام آباد نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان بھر میں متوقع بڑے مذہبی جلوسوں کے پیش نظر 10 مارچ دوپہر 12 بجے سے امریکی عملے کی نقل و حرکت محدود کر دی جائے گی۔

امریکی سفارت خانے کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسلام آباد میں سفارت خانے کے علاوہ لاہور، کراچی اور پشاور میں قائم امریکی قونصل خانوں کی جانب سے ملک بھر میں ہونے والے بڑے مذہبی جلوسوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق ان اجتماعات کے باعث بڑے ہجوم، ٹریفک کے شدید دباؤ اور سیکیورٹی کے اضافی انتظامات کی توقع ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی کے پیش نظر مختلف علاقوں میں چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جبکہ بعض مقامات پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس میں عارضی خلل بھی آ سکتا ہے۔ جلوسوں کے راستوں کے قریب سڑکیں بند ہونے یا متبادل راستے اختیار کرنے کے باعث ٹریفک میں تاخیر کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

امریکی سفارت خانے کے مطابق بڑے اجتماعات اور جلوس بعض اوقات غیر متوقع صورت حال اختیار کر سکتے ہیں اور بظاہر پرامن اجتماعات بھی تشدد کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، اس لیے امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بڑے اجتماعات سے دور رہیں اور اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانوں کی تمام قونصلر خدمات بدستور معطل رہیں گی، تاہم اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ امریکی شہریوں کو خدمات فراہم کرتا رہے گا۔ جن افراد کی قونصلر خدمات کے لیے ملاقات طے ہے انہیں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں بذریعہ ای میل آگاہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سے کراچی اور لاہور میں امریکی قونصل خانے بند ہیں اور وہاں تعینات تمام امریکی عملے کو اہلِ خانہ سمیت ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی جا چکی ہے۔

امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بڑے عوامی اجتماعات سے گریز کریں، مظاہروں یا ہجوم کے قریب غیر ضروری طور پر نہ جائیں، اپنی ذاتی سیکیورٹی منصوبہ بندی کا جائزہ لیں، مقامی میڈیا سے باخبر رہیں، غیر ضروری توجہ سے بچیں، شناختی دستاویزات اپنے پاس رکھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔

اسی بارے میں: