دریائے سندھ صرف ایک دریا نہیں۔ یہ وہ دریا ہے جس نے صرف زمین کو نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کو جنم دیا۔ صدیوں تک اس کے پانی نے سندھ کی سرزمین کو زندگی بخشی اور اس خطے کی معیشت، تجارت اور ثقافت کو پروان چڑھایا۔
کبھی سندھ کی زمین پر دریا کے پانی کا ایک وسیع جال پھیلا ہوا تھا۔ چھوٹی بڑی ندیاں، قدرتی شاخیں اور ندی نالے پورے خطے کو سیراب کرتے تھے۔ انہی پانیوں کی بدولت سندھ کی زمین زرخیز تھی، بستیاں آباد تھیں اور تجارت عروج پر تھی۔
دریائے سندھ جب سمندر سے ملتا تھا تو اس کے دہانے پر ایک وسیع ڈیلٹا آباد تھا۔ دریائے سندھ کا یہ ڈیلٹا کبھی دنیا کا پانچواں بڑا ڈیلٹا سمجھا جاتا تھا۔ یہ محض مٹی اور پانی کا علاقہ نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی اور معاشی نظام تھا۔
اس ڈیلٹا میں مینگرووز کے گھنے جنگلات تھے۔ مچھلیوں اور جھینگوں کی بے شمار اقسام یہاں پائی جاتی تھیں اور ہزاروں ماہی گیر خاندان اپنی روزی اسی سمندر اور دریا کے ملاپ سے کماتے تھے۔
اسی ڈیلٹا کے کنارے دو اہم بندرگاہیں آباد تھیں، کیٹی بندر اور شاہ بندر۔ یہ بندرگاہیں صدیوں تک سندھ کی سمندری تجارت کا مرکز رہیں۔ یہاں سے کپاس، چاول، اناج اور دیگر سامان کشتیوں اور جہازوں کے ذریعے خلیج، مشرقی افریقہ اور دیگر علاقوں تک پہنچایا جاتا تھا۔
اس زمانے میں دریائے سندھ کا پانی بڑی مقدار میں سمندر تک پہنچتا تھا اور یہی پانی ڈیلٹا کو زندہ رکھتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ منظر بدلنا شروع ہو گیا۔
انیسویں صدی میں جب برطانوی حکومت نے سندھ پر قبضہ کیا تو اس نے دریائے سندھ کو ایک نئی نظر سے دیکھا۔ انگریزوں کے لیے یہ دریا صرف قدرتی بہاؤ کا حصہ نہیں بلکہ ایک زرعی اور معاشی منصوبہ تھا۔
برطانوی حکومت نے سندھ میں بڑے پیمانے پر آبپاشی کا نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے دریائے سندھ کی قدرتی شاخوں اور تاریخی ندیوں کو تبدیل کیا گیا۔
سندھ میں صدیوں سے کئی قدرتی ندیاں بہتی تھیں جو دریا سے نکل کر مختلف علاقوں کو سیراب کرتی تھیں۔ مگر برطانوی انجینئرنگ نے ان قدرتی راستوں کو منظم نہروں میں بدل دیا۔ان نہروں کے ذریعے وسیع زرعی زمینیں تیار کی گئیں۔ نئی آبادیاں بسائی گئیں اور زراعت کے ذریعے بڑی معاشی آمدنی حاصل کی گئی۔
اسی وسیع آبپاشی نظام کا ایک اہم حصہ تھا سکھر بیراج۔
سکھر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ پر اس عظیم منصوبے کی تعمیر 1923 میں شروع ہوئی۔ تقریباً سات سال کی مسلسل محنت کے بعد 1932 میں یہ بیراج مکمل ہوا۔ ابتدا میں اس کا نام لوئیڈ بیراج رکھا گیا تھا جو اس وقت کے گورنر سر جارج لوئیڈ کے نام پر تھا۔ بعد میں اسے سکھر بیراج کے نام سے جانا جانے لگا۔ یہ بیراج تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر لمبا ہے اور اس میں 66 بڑے گیٹ نصب کیے گئے ہیں جو دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتے ہیں۔
اس بیراج سے سات بڑی نہریں نکالی گئیں جن میں نارا کینال، روہڑی کینال، دادو کینال، رائس کینال، خیرپور ایسٹ کینال، خیرپور ویسٹ کینال اور نارتھ ویسٹ کینال شامل ہیں۔ یہ نہریں سندھ کے وسیع علاقوں تک پانی پہنچاتی ہیں اور لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرتی ہیں۔
زراعت کے لحاظ سے سکھر بیراج نے سندھ کی معیشت کو بدل کر رکھ دیا۔ چاول، گندم، کپاس اور گنے کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا اور کئی بنجر علاقے قابل کاشت بن گئے۔
مگر اس ترقی کی ایک قیمت بھی تھی۔
جب دریائے سندھ کے پانی کو نہروں میں موڑ دیا گیا تو دریا کا وہ پانی جو صدیوں سے سمندر تک پہنچتا تھا، کم ہونا شروع ہو گیا۔ اس تبدیلی کا سب سے بڑا اثر دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر پڑا۔
ڈیلٹا کو زندہ رہنے کے لیے دریا کے میٹھے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب یہ پانی کم ہونے لگا تو سمندر کا کھارا پانی آہستہ آہستہ اندر کی طرف بڑھنے لگا۔ اس عمل کو سمندری پانی کی دراندازی کہا جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو گئی۔ مینگرووز کے جنگلات سکڑنے لگے اور مچھلیوں کی کئی اقسام متاثر ہوئیں۔ وہ بندرگاہیں جو کبھی تجارت کے لیے مشہور تھیں، آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھونے لگیں۔ کیٹی بندر اور شاہ بندر جیسے تاریخی تجارتی مراکز تقریباً ویران ہو گئے۔
یوں ایک طرف سکھر بیراج نے سندھ کی زراعت کو طاقت دی، مگر دوسری طرف دریائے سندھ کے قدرتی نظام پر گہرا اثر بھی ڈالا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بیراج خود بھی ایک تاریخی ڈھانچے میں تبدیل ہو گیا۔ تقریباً ایک صدی تک مسلسل کام کرنے کے بعد اس کے کئی حصے پرانے اور کمزور ہو گئے۔
اسی لیے حالیہ برسوں میں اس کی مرمت اور جدید کاری کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے تاکہ یہ نظام آئندہ دہائیوں تک کام کرتا رہے۔
سکھر بیراج صرف ایک انجینئرنگ منصوبہ نہیں بلکہ سندھ کی تاریخ، معیشت اور ماحولیات سے جڑی ایک بڑی کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں ترقی بھی ہے اور اس کے اثرات بھی۔
دریائے سندھ آج بھی بہہ رہا ہے، مگر اس کے پانی کا سفر اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ اور یہی تبدیلی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دریا صرف پانی نہیں ہوتے، وہ ایک پوری تہذیب کا حصہ ہوتے ہیں۔
