مشرق وسطی میں جاری کشیدگی صرف خلیجی ممالک تک ہی محدود نہیں رہی۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کی اور اب سینٹرل ایشیائی ممالک پر بھی جنگ کے بادل نظر آنے لگے ہیں۔
مشرق وسطی کے مختلف ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، دوسری جانب ترکیہ اور آزربائیجان کے علاقوں میں بھی حملے ہوئے جس پر ایران کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران آذربائیجان پر مبینہ ڈرون حملے کے بعد خطے میں سفارتی اور سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی ممالک نے اس واقعے پر ردعمل دیا ہے جبکہ ایران نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ قابلِ مذمت اقدامات خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
آزربائیجان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایرانی ڈرونز نے نخچیوان کے ہوائی اڈے کے قریب حملہ کیا جبکہ ایک ڈرون ایک اسکول کے قریب گر کر تباہ ہوا۔
آزربائیجان کی حکومت نے اس حملے کو ‘بلا جواز دہشت گردانہ اور جارحانہ اقدام’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام کو اس کی وضاحت اور معافی پیش کرنا ہوگی۔
ماہرین کے مطابق آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ قریبی دفاعی اور اقتصادی تعلقات بھی اس کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
اسرائیل آذربائیجان کو ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور نگرانی کی جدید ٹیکنالوجی فراہم کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزربائیجان پر حملے کو ایران کی جانب سے بھیجے گئے ڈروز سے کیا گیا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔
تاہم ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق تہران کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آذربائیجان کے وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ ایران نے آذربائیجان کی سرزمین کو نشانہ نہیں بنایا اور تہران ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔
ایران نے ترکیہ پر حملے کی خبروں کی بھی تردید کی ہے۔
ترکیہ کا کہنا تھا کہ ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل ترک فضائی حدود کی جانب بڑھ رہا تھا جسے نیٹو کے دفاعی نظام نے روک لیا۔
تاہم ایرانی مسلح افواج نے کہا کہ ترکیہ کی جانب کوئی میزائل فائر نہیں کیا گیا۔
مشرق وسطی کے طاقتور ممالک قطر اور سعودی عرب نے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران پر کڑی تنقید کی جس سے تنائو میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دو روز قبل معروف امریکی صحافی ٹکر کالسن نے ایک خبر میں دعویٰ کیا کہ قطر اور سعودی عرب نے موساد کے ایجنٹس کو گرفتار کیا ہے، جو وہاں دھماکوں کی منصوبہ بندی کرہے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورت حال ایران کے لئے تشویشناک ہوسکتی ہے جب خطے کے تمام ممالک باالخصوص ہمسائے ممالک ناراض ہوجائیں توایران کی تنہائی اس جاری لڑائی میں نقصان دہ ہوسکتی ہے۔
خطے کے سفارتی اور سیاسی محاذ پر بدھ اور جمعرات کو ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آئی جب سعودی عرب نے اعلان کیا کہ وہ اپنی زمین، فضائی اور بحری حدود کو ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے کی اجازت نہیں دے گا، ایران نے بھی اس اعلان کا خیر مقدم کیا۔
سعودی عرب میں ایران کے سفیرعلی رضا عنایتی نے کہا کہ تہران سعودی عرب کے اس مؤقف کو سراہتا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایران کی جانب سے آذربائیجان، ترکیہ، سعودی عرب اور عمان پر حملوں کی تردید کے بعد دلچسپ صورت حال سامنے آرہی ہے جب تجزی کاروں نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔
اگر ایران نے آذربائیجان، ترکیہ، سعودی عرب اور عمان پر حملے نہیں کے تو یہ ان ممالک کو کون ہدف بنارہا ہے ؟
ایران کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہوں تو وہ فوجی اہداف بن سکتے ہیں۔ تاہم تہران کا اصرار ہے کہ اس کا مقصد خطے کے ممالک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ امریکی فوجی تنصیبات کو ہدف بنانا ہے۔
دوسری جانب قطر کا کہنا ہے کہ اس کی سرزمین کو نشانہ بنایا جانا اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے کیونکہ دوحہ اس تنازع میں براہ راست شامل نہیں۔
ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی کشیدگی اور متضاد بیانات کے باعث خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید پھیلا تو خطے کے مزید ممالک بھی اس میں براہ راست شامل ہو سکتے ہیں۔
