ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے برسوں پر محیط ایک خفیہ انٹیلی جنس مہم چلائی گئی۔
جس میں تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کرنے سے لے کر موبائل نیٹ ورکس میں مداخلت تک جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی سے متعلق ایک تفصیلی مضمون شائع کیا گیا ہے، جس میں تہران کی نگرانی اور سائبر آپریشن کی معلومات موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جب تہران کی پاستور اسٹریٹ کے قریب سینئر ایرانی عہدیداروں کے محافظ اور ڈرائیور معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی پر پہنچے تو اسرائیلی انٹیلی جنس پہلے ہی ان پر نظر رکھے ہوئے تھی۔
رپورٹ کے مطابق تہران کے بیشتر ٹریفک کیمروں کو برسوں قبل ہیک کر لیا گیا تھا اور ان کی ویڈیوز خفیہ طور پر اسرائیل میں سرورز تک منتقل کی جاتی تھیں۔
ان کیمروں میں سے ایک مخصوص زاویہ رکھنے والا کیمرہ خاص طور پر اہم ثابت ہوا، جس کی مدد سے محافظوں کی گاڑیوں کی پارکنگ اور نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا۔
جدید الگورتھمز اور سوشل نیٹ ورک تجزیے کے ذریعے سیکیورٹی اہلکاروں کے معمولات، رہائش، ڈیوٹی اوقات اور ان شخصیات کی تفصیلات مرتب کی گئیں جنہیں وہ تحفظ فراہم کرتے تھے۔
انٹیلی جنس زبان میں اسے "پیٹرن آف لائف” کہا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی محض تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلہ بھی تھا۔
اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس اداروں، بشمول سی آئی اے، نے تصدیق کی کہ خامنہ ای ہفتہ کی صبح اپنے دفتر میں اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔
امریکی ذرائع کے مطابق ایک انسانی ذریعے نے بھی اس اطلاع کی توثیق کی، جس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے بروقت کارروائی کی۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کہتی ہے کہ پاستور اسٹریٹ کے قریب موبائل فون ٹاورز کے بعض حصوں کو عارضی طور پر غیر فعال کیا گیا، جس سے سیکیورٹی اہلکاروں کو بروقت وارننگ موصول نہ ہو سکی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی سگنلز انٹیلی جنس یونٹ 8200 اور خفیہ اداے موساد نے اربوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر کے ممکنہ اہداف کی نشاندہی کی۔
ایک سابق اسرائیلی افسر کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کلچر میں ‘ٹارگٹنگ انٹیلی جنس’ بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران "اسپیرو” میزائل استعمال کیے گئے، جو ایک ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایک اہلکار کے بقول، ‘ہم نے پہلے ان کی آنکھیں نکالیں’، اشارہ ایرانی فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کی جانب تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے متعدد جوہری سائنسدان اور فوجی افسران ہلاک کیے گئے تھے۔
اس دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام کو سائبر حملوں اور ڈرونز کے ذریعے مفلوج کیا گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے اور عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا، تاہم امریکی صدرایرانی ردعمل سے مطمئن نہیں تھے، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کو ہدف بنانے کی حکمت عملی کی بنیاد 2001 میں اس وقت رکھی گئی جب اسرائیلی وزیر اعظم ایرل شیرون نے موساد کے سربراہ کو ایران کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت کی تھی۔
بعد ازاں اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو سبوتاژ کرنے اور اس کے سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کی متعدد کارروائیاں کیں۔
سابق موساد عہدیدار سیما شائن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی، جب حماس کے حملے نے سیکیورٹی حکمت عملی کو یکسر بدل دیا۔
برطانوی اخبارکی رپورٹ کہتی ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے ماضی میں بیرون ملک سیکڑوں افراد کو نشانہ بنایا ہے، تاہم کسی بڑے مذہبی و سیاسی رہنما کو قتل کرنا ایک غیر معمولی قدم تھا۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں وقتی عسکری برتری تو دے سکتی ہیں، مگر ان کے طویل مدتی سیاسی نتائج غیر یقینی ہوتے ہیں۔
اسرائیلی انٹیلی جنس حلقوں میں اس کامیابی کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔
