ایرانی قیادت اور امریکی صدر کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔ دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات ایک دوسرے سے مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں، جس سے سفارتی صورتحال غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔ انہوں نے ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران عمان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی آمادگی کے آثار ظاہر کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق وہ بات کرنا چاہتے ہیں اور میں بات کرنے پر راضی ہوں، اس لیے میں ان سے بات کروں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو یہ قدم پہلے اٹھانا چاہیے تھا۔
ان متضاد بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی سطح پر صورتحال ابھی واضح نہیں۔ ایک طرف ایران مذاکرات کی خبروں کو مسترد کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکی صدر بات چیت کے امکان کا ذکر کر رہے ہیں۔
عمان ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان بیک چینل رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر ایرانی قیادت نے مذاکرات سے متعلق خبروں کی تردید کر دی ہے۔
یوں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی سمت تاحال غیر یقینی ہے اور صورتحال بیانات کی سطح پر الجھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
