Tag: تہران

  • درخت آدامسی: تہران کا چیونگم والا درخت

    درخت آدامسی: تہران کا چیونگم والا درخت

    آپ نے کبھی سنا ہے کہ چیونگم جانیں بچانےلگیں، ہوسکتا ہے نہ سنا ہو لیکن یہ حقیقت ہے

    ایران کے دارالحکومت تہران کی سب سے بڑی سڑک خیابان ولی عصر کی ایک عقبی گلی میں چیونگم لوگوں کی جان بچا رہی ہے

    قصہ کچھ یوں ہے کہ شمالی تہران کے ضلع نمبرایک میں فرشتہ نام کی ایک گلی ہے،اس گلی کے بیچوں بیچ ایک تنومند درخت ایستادہ ہے۔ اس درخت کی کوئی ایسی خصوصیت بھی نہیں کہ بہت قدیم ہو یا بہت نادر، وہ ایک عام سا درخت ہے جو تہران میں جگہ جگہ مل جاتے ہیں بلکہ خیابان ولی عصرتوایسے درختوں سے بھری پڑی ہے،خزاں میں جب درختوں کے پتے سرخ ہوجاتے ہیں تو یا علاقہ انتہائی خوبصورت لگتا ہے

     بات ہو رہی تھی فرشتہ محلے کی، تہران کی بلدیہ نے یہاں پکی سڑک ڈالی تو یہ درخت بالکل بیچوں بیچ آگیا،بلدیہ نےدرخت کاٹنا گوارا نہ کیا بلکہ سڑک اس کےارد گرد سے گذار دی۔ درخت تو بچ گیا البتہ شہری پریشان ہونے لگے،سڑک سے گذرتے ہوئے درخت کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا۔

    دن میں تو جیسے تیسے راہگیر اور گاڑیاں اس گلی سے گذر جاتیں لیکن رات میں دشواری دگنا ہوجاتی،گلی میں اندھیرےیا کم روشنی کی وجہ سےحادثے ہونےلگے،ڈرائیور دور سے دیکھ نہ پاتے اور گاڑی یا موٹرسائیکل درخت سےٹکراجاتیں،اس کےباوجود بلدیہ یا علاقہ مکینوں نے درخت کاٹنے کا سوچا تک نہیں ۔

    لیکن حادثوں سےبچنابھی تھا،اس کےلیےشہریوں نےایک نہایت منفرد اور دلچسپ طریقہ نکالا، وہ آتے جاتےاس درخت پر چیونگمیں چپکانےلگے،جو گاڑی والا یا راہگیر یہاں سےگذرتا،اپنی استعمال شدہ چیونگم درخت پرچپکا دیتا،آہستہ آہستہ درخت رنگ برنگی چیونگموں سےبھرگیا، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ رات میں کوئی گاڑی یا موٹرسائیکل گلی سےگذر رہی ہوتی تو اس کی ہیڈلائٹ درخت پرچپکی رنگ برنگی چیونگموں سے ٹکراتی، چیونگمیں ریفلیکٹر کا کام کرتیں گاڑی سوار فوری ہوشیار ہوجاتے اور حادثے سےبچ جاتے۔

    یہ ترکیب ایسی کارگرثابت ہوئی کہ یہ درخت اور علاقہ پورے تہران میں مشہور ہوگیا،لوگ اس درخت کو دیکھنےاوریہاں چیونگم چپکانے آنے لگے۔۔ اور تو اور گوگل میپ پربھی یہ علاقہ فرشتہ کے بجائے درخت آدامسی کےنام سےدرج ہوگیا

    اس درخت کو درخت آدامسی کیوں کہتے ہیں ۔ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ ایران میں چیونگم کو آدامس کہتے ہیں،اگرآپ کو وہاں چیونگم درکار ہوگی تو دکاندار سےکہنا ہوگا، آقا یک دانہ آدامس می خواہم، یعنی جناب ایک عدد چیونگم چاہیے۔

    اب سوال یہ ہے کہ چیونگم کوآدامس کیوں کہتے ہیں تواس کا جواب یہ ہے کہ آدامس انگریزی لفظ ایڈمز کا مفرس یعنی فارسی لہجہ ہے۔  1950 میں جب ایران میں چیونگم متعارف ہوئی تو وہ ایڈمس کمپنی کی تھی، کمپنی کےنام کی وجہ سے تہران کے بھائی لوگوں نےچیونگم کو ہی آدامس کہنا شروع کردیا، جیسے ہمارے یہاں واشنگ پاؤڈر کو عرف عام میں سرف کہا جاتا ہے حالانکہ سرف تو واشنگ پاؤڈر بنانے والی کمپنی کا نام ہے۔

    یہ کہانی دلچسپ تو ہے لیکن سبق آموزبھی ہے، درخت کوئی بھی اور کیسا بھی ہو، وہ کبھی معمولی اور عام نہیں ہوتا، ایک درخت کتنا پیچیدہ ہے بلکہ اس کا ایک ایک پتہ کتنی زبردست کاریگری ہے یہ سوچیں تو عقل حیرت میں گم ہوجاتی ہے،ایک پتےمیں کتنی رگیں ہیں، کتنا کلوروفل ہے، کتنی دھوپ جذب کرتا ہے، درخت کےلیےکتنی غذا بناتا ہے، جڑوں تک سے کیسے جڑا ہوا ہے، انسانوں کو کتنا آکسیجن دیتا ہے، اس کی شاخیں پرندوں کا بسیرا ہیں، اس پر طرح طرح کے حشرات اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ درخت نہیں ایک پوری دنیا ہے،

    تہران کی بلدیہ اور لوگوں کو اس کا پورا احساس تھا، انہوں نے یہ دنیا اجڑنےنہیں دی۔

  • تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی کشیدگی: کیا ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے؟

    تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی کشیدگی: کیا ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے؟

    ایرانی قیادت اور امریکی صدر کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔ دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات ایک دوسرے سے مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں، جس سے سفارتی صورتحال غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔ انہوں نے ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران عمان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی آمادگی کے آثار ظاہر کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق وہ بات کرنا چاہتے ہیں اور میں بات کرنے پر راضی ہوں، اس لیے میں ان سے بات کروں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو یہ قدم پہلے اٹھانا چاہیے تھا۔

    ان متضاد بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی سطح پر صورتحال ابھی واضح نہیں۔ ایک طرف ایران مذاکرات کی خبروں کو مسترد کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکی صدر بات چیت کے امکان کا ذکر کر رہے ہیں۔

    عمان ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان بیک چینل رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر ایرانی قیادت نے مذاکرات سے متعلق خبروں کی تردید کر دی ہے۔

    یوں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی سمت تاحال غیر یقینی ہے اور صورتحال بیانات کی سطح پر الجھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔