ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 86 سال کی عمر میں فالج سے لڑتے ہوئے، تین دہائیوں تک ایران میں سخت گیر مذہبی قیادت کرنے اور گزشتہ دس سال سے فلسطین کی آزادی کی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کرنے کے بعد اسرائیل، امریکہ اور اس کے عرب اتحادیوں کی الیکٹرانک وار، عالمی پابندیوں اور جدید جنگی حکمتِ عملی کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہو گئے ہیں۔
علی خامنہ ای کی وفات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اندرونی طور پر سیاسی دباؤ اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے بھی صدام حسین اور کرنل قذافی پر جراثیمی اور ایٹمی ہتھیار بنانے کے الزامات لگا کر انہیں شہید کروایا، مگر بعد میں تاریخ میں یہ الزامات جھوٹے ثابت ہوئے اور یہ حقیقت سامنے آئی کہ امریکہ اور نیٹو کو ان ممالک کے قدرتی وسائل درکار تھے، جن پر قبضے کے بعد ان ممالک کو تنہا چھوڑ دیا گیا اور وہ آج تک خانہ جنگی کا شکار ہیں۔
یہی پالیسی ایران پر بھی اختیار کی گئی اور اب اس کی مرکزی قیادت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای واقعی ایک بے خوف انسان تھے۔ اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو کسی بنکر میں چھپ کر جان بچاتا، لیکن انہیں علم تھا کہ ہم انہیں ٹریس کر رہے ہیں، اس کے باوجود انہوں نے اپنے گھر میں رہنا پسند کیا اور بشار الاسد کی طرح روس جا کر نہیں چھپے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اعتراف کیا ہے کہ جو قوم شہادت کو عظیم رتبہ سمجھے، اس سے بات چیت یا کسی بھی طریقے سے اپنی بات نہیں منوائی جا سکتی، اس لیے اب معلوم نہیں کہ کیسی قیادت سامنے آئے گی۔
امریکی سرکاری ذرائع نے اپنے میڈیا کو بتایا ہے کہ امریکہ کے پاس کتنا ہی بڑا الیکٹرانک جاسوسی نظام کیوں نہ ہو، اتنی بڑی قیادت کو نشانہ بنانا اس کے بس میں نہیں تھا۔ اصل میں جب اپنے ہی غدار ہو جائیں تو کام آسان ہو جاتا ہے۔
نیویارک ٹائمز اور دیگر عالمی اداروں نے اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے کہ سی آئی اے اور اسرائیلی جاسوسی ادارے موساد نے گزشتہ دہائیوں میں ہزاروں ایرانیوں کو بطور مخبر بھرتی کیا۔
نیویارک ٹائمز اور دیگر عالمی ذرائع کے مطابق ایران کا پورا حفاظتی حصار اندرونی غداری کے باعث ٹوٹ چکا ہے۔ موساد نے ایران کے اعلیٰ ترین اداروں کے سربراہوں کو اپنا ایجنٹ بنا لیا ہے۔ سابق صدر محمود احمدی نژاد نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ ایران میں موساد کے جاسوسوں کو پکڑنے کے لیے جو خصوصی انٹیلی جنس یونٹ بنایا گیا تھا، اس کا سربراہ خود موساد کا ایجنٹ نکلا، جس نے برسوں تک اسرائیل کو اہم معلومات فراہم کیں۔
اگرچہ علی خامنہ ای اور دیگر بڑے رہنما خود فون استعمال نہیں کرتے تھے، لیکن ان کے محافظوں، ڈرائیوروں اور عملے کے افراد نے مسلسل سوشل میڈیا پر تصاویر اور لوکیشن شیئر کیں، جس سے اسرائیل کو ان کی درست موجودگی کا علم ہوا۔
ایرانی حکام نے خود اعتراف کیا ہے کہ ملک میں ہزاروں لوگ اسرائیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایرانی دفاعی حکام کے مطابق جون 2025 کی جنگ کے بعد تقریباً 2000 ایسے افراد گرفتار کیے گئے جو مبینہ طور پر موساد کے ساتھ رابطے میں تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی بدحالی کی وجہ سے کئی ایرانی حکام، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں، بھاری رقم کے عوض اسرائیل کو ملکی راز فروخت کرتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز اور دیگر عالمی مبصرین کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس کی اس ناکامی کے بعد اسرائیل اب بلا خوف و خطر ایران کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتا ہے کیونکہ اسے اندرونی معلومات حاصل ہیں۔ ایرانی قیادت میں ایک دوسرے پر بے اعتمادی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہ اب اپنے گھروں میں بھی محفوظ محسوس نہیں کرتے۔
حزب اللہ اور حماس اب ایران پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ایران سے ملنے والی معلومات ان کی موت کا سبب بن سکتی ہیں۔ ایران اب صرف بیرونی دشمن سے نہیں لڑ رہا بلکہ اپنی ہی صفوں میں موجود ان خفیہ دشمنوں سے لڑ رہا ہے جنہوں نے ایران کے پورے قلعے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔
ایرانی انٹیلی جنس کے ایک اہم رہنما، جس کا نام دونوں فریق چھپا رہے ہیں، نے 2018 میں ایران کے ایٹمی پروگرام کی ہزاروں حساس دستاویزات، نیوکلیئر آرکائیو، چوری کروا کر اسرائیل کو پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی اپنے چیف آف اسٹاف کے ساتھ مل کر اسرائیل کو لبنان، شام اور یمن کی خفیہ رپورٹیں دے رہے تھے۔ انہی غداروں کی معلومات پر اسرائیل بیروت میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ تک پہنچا۔
علی رضا اکبری، سابق نائب وزیر دفاع، جو ایران کے ایک انتہائی بااثر عہدیدار تھے اور جنہیں جنوری 2023 میں پھانسی دی گئی، انہوں نے برطانوی انٹیلی جنس اور موساد کو ایران کے ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔
انصار المہدی سیکیورٹی یونٹ کا سربراہ، جو ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کی حفاظت کرتا ہے، اس یونٹ کے کچھ ارکان کو ڈالر دے کر اسرائیل ایران کی حساس ترین عمارتوں کے اندر روبوٹک گنز اور دھماکہ خیز مواد نصب کرانے میں کامیاب ہو گیا۔
ایرانی انٹیلی جنس کی مبینہ ناکامی اور علی خامنہ ای کے جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ سیاسی ماہرین اسے ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کی شروعات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
عالمی دفاعی ماہرین، جن میں موساد اور جینز ڈیفنس کے سابق افسران شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ایران کے انٹیلی جنس نیٹ ورک میں بڑی دراڑیں پڑی ہیں۔ موساد نے ایران کے حساس ترین حلقوں میں اپنے لوگ بٹھا دیے ہیں۔
اسماعیل ہنیہ اور موجودہ صورتِ حال کا نشانہ بننا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کے سیکیورٹی اداروں میں اندرونی جاسوسی ہو رہی ہے۔ سپریم لیڈر جیسی شخصیت کا غیر محفوظ ہونا ایرانی انٹیلی جنس اداروں، وزارتِ اطلاعات اور پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس، کے درمیان عدم تعاون اور ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ ایران روایتی سیکیورٹی میں تو بہتر ہے لیکن جدید سائبر جنگ اور ڈیجیٹل جاسوسی میں وہ اسرائیل اور امریکہ سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔
ایران کے دو بڑے جاسوسی اداروں، وزارتِ اطلاعات اور پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس، کے درمیان برسوں سے جاری خفیہ جنگ ہی ایران کی موجودہ سیکیورٹی ناکامی کی بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔ وزارتِ اطلاعات ایرانی حکومت اور صدر کو جواب دہ ہے جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس براہِ راست سپریم لیڈر کے ماتحت ہے۔
ملک کی سول انٹیلی جنس کسی حد تک پیشہ ورانہ ہے جبکہ فوجی اور نظریاتی ونگ سخت گیر مذہبی ہے۔ وزارتِ اطلاعات سفارت کاری اور مذاکرات کی حامی ہے جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس جارحیت پسند اور پراکسی جنگ کی حامی رہی ہے۔ اسی وجہ سے دونوں اداروں میں گزشتہ دو دہائیوں سے اندرونی کشمکش جاری ہے۔
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کی وجہ ایک کشتی میں دو ملاح والی صورتِ حال ہے۔ جب دو ادارے ایک ہی مقصد کے لیے کام کریں لیکن ان کی کمان الگ ہو تو وہاں معلومات کا تبادلہ ختم ہو جاتا ہے۔ گزشتہ چند سال میں پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس نے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے جس کی وجہ سے وزارتِ اطلاعات کے پرانے اور تجربہ کار افسران کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اسی اندرونی کشمکش کا فائدہ اٹھا کر موساد ایرانی نظام میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی۔ جب ایران کے ایٹمی سائنسدانوں یا ہنیہ جیسے مہمانوں پر حملے ہوئے تو دونوں اداروں نے ایک دوسرے پر غداری کے الزامات لگائے۔ یہ بے اعتمادی اس قدر بڑھ گئی کہ ایک ادارہ دوسرے کے آپریشن کو ناکام بنانے لگا۔
خامنہ ای ان دونوں اداروں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے تھے۔ ان کے جانے کے بعد اندرونی بغاوت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب شاید وزارتِ اطلاعات کو مکمل طور پر ختم کرنے یا اپنے ماتحت کرنے کی کوشش کرے گی جس سے سول بیوروکریسی میں شدید غم و غصہ پیدا ہوگا۔ یہ ادارے ایک دوسرے کے سیاسی رہنماؤں کی فائلیں کھول سکتے ہیں تاکہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر اثر انداز ہو سکیں۔
پاسدارانِ انقلاب اس وقت زیادہ طاقتور ہے لیکن وزارتِ اطلاعات کے پاس ملک کے سیاسی خاندانوں اور افراد کی خفیہ معلومات زیادہ ہیں۔ یہ کشمکش ایران کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔
عالمی ماہرین کے مطابق ایران اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں یا تو ریاست میں بڑی تبدیلی آئے گی یا پھر فوجی طاقت کے ذریعے نظام کو مزید سخت کر دیا جائے گا۔
خامنہ ای گزشتہ 37 سال سے ریاست کا مرکزی ستون تھے۔ ان کے جانے سے ایران کے طاقتور حلقوں، فوج، عدلیہ اور مذہبی رہنماؤں، میں اقتدار کی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ ایرانی آئین کے تحت نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کا سربراہ اور ایک اور اعلیٰ عہدیدار ملک کا نظام چلائیں گے۔ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں سب سے بڑا کردار پاسدارانِ انقلاب کا ہوگا۔ یہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ایران اب مزید ایک فوجی ریاست کی طرح کام کرے گا جہاں مذہبی رہنماؤں کا کردار محض علامتی رہ جائے گا۔
ممکنہ جانشینوں میں مجتبیٰ خامنہ ای، حسن خمینی اور علی لاریجانی کے نام زیرِ گردش ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ شاید ایک شخص کے بجائے تین سے پانچ ارکان پر مشتمل رہبری کونسل قائم کر دی جائے۔
علی خامنہ ای کی شہادت یا وفات کے بعد مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بھی مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ خامنہ ای کے حکم پر چلنے والے پراکسی نیٹ ورک، حزب اللہ اور حوثیوں، کا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔ عرب ممالک اس تمام صورتِ حال پر پریشان ہیں۔ ایران میں کچھ اعلیٰ حکام نظریاتی طور پر موجودہ مذہبی نظام سے بیزار ہو چکے ہیں اور وہ اسے گرانے کے لیے بیرونی قوتوں کی مدد کر رہے ہیں۔ اگر ایران کی نئی قیادت، خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب، اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر بڑا حملہ کرتی ہے تو یہ صورتِ حال تیسری عالمی جنگ یا کم از کم ایک بڑی علاقائی جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔
ایران اب صرف بیرونی دشمن سے نہیں بلکہ اپنی اندرونی سچائی سے بھی لڑ رہا ہے۔ آنے والے چند مہینے فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ واقعات ایران کے زوال کا آغاز ہیں یا ایک نئی، زیادہ سخت اور مرکزی طاقت کے جنم کا اعلان۔

