سورج غروب ہوتا ہے۔ اذان کی آواز گونجتی ہے۔ پورا دن بھوکا پیاسا رہنے کے بعد دسترخوان سجا ہوا ہے، مگر پہلا نوالہ کھانے سے پہلے ایک چھوٹا سا پھل ہاتھ میں اٹھایا جاتا ہے۔ کھجور۔
کیا یہ صرف ایک مذہبی روایت ہے، یا اس کے پیچھے کوئی سائنسی حکمت بھی پوشیدہ ہے؟
دن بھر کے روزے کے بعد جسم کا بلڈ شوگر لیول کم ہو جاتا ہے۔ توانائی گھٹ جاتی ہے، توجہ متاثر ہوتی ہے اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں جسم کو فوری مگر متوازن توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھجور اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ اس میں موجود قدرتی گلوکوز اور فرکٹوز تیزی سے خون میں جذب ہو کر فوری توانائی فراہم کرتے ہیں۔
مگر یہی اس کی پوری کہانی نہیں۔ کھجور میں پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس بھی ہوتے ہیں، جو توانائی کو کچھ دیر تک برقرار رکھتے ہیں۔ یعنی فوری طاقت بھی، اور دیرپا اثر بھی۔
ماہرین غذائیت کے مطابق افطار میں پہلے دو یا تین کھجوریں کھانے سے معدہ آہستہ آہستہ متحرک ہوتا ہے۔ روزے کے دوران معدہ نسبتاً سکڑ جاتا ہے۔ اگر اچانک تلی ہوئی یا بھاری غذا کھا لی جائے تو تیزابیت اور بدہضمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کھجور معدے کو نرم آغاز دیتی ہے اور جسم کو اگلے مرحلے کے لیے تیار کرتی ہے۔
کھجور غذائیت سے بھرپور ہے۔ اس میں پوٹاشیم، میگنیشیم، آئرن، وٹامن بی 6 اور فائبر موجود ہوتے ہیں۔ پوٹاشیم جسم کے الیکٹرولائٹ توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر جب اسے پانی کے ساتھ کھایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ افطار میں کھجور اور پانی کا امتزاج بہترین سمجھا جاتا ہے۔
ایک کم معروف حقیقت یہ بھی ہے کہ کھجور میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس، جیسے فلیونوئیڈز اور فینولک مرکبات، موجود ہوتے ہیں۔ یہ خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں اور بعض مطالعات کے مطابق دل کی صحت کے لیے مفید ہو سکتے ہیں۔
روزے کے دوران قبض اور پیٹ پھولنے کی شکایت عام ہوتی ہے۔ کھجور میں موجود فائبر آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتا ہے اور نظام ہاضمہ کو سہارا دیتا ہے۔ اگر رمضان میں اعتدال کے ساتھ کھجور کھائی جائے تو یہ ہاضمے کے مسائل کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ افطار سے پہلے کھجور کھانے سے بھوک کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان ضرورت سے زیادہ کھانے سے بچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد رمضان میں وزن کو متوازن رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، بشرطیکہ وہ اعتدال اختیار کریں۔
اگر کسی کو سادہ کھجور پسند نہ ہو تو اسے دودھ، دہی یا اسموتھی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ عرب دنیا میں صدیوں سے کھجور اور دودھ کو توانائی بخش غذا سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر کھجور صحرائی علاقوں کی بنیادی خوراک رہی ہے۔ یہ طویل عرصے تک محفوظ رہ سکتی ہے، سفر کے لیے موزوں ہے اور کم مقدار میں زیادہ توانائی فراہم کرتی ہے۔
یوں افطار میں کھجور صرف ایک روایت نہیں بلکہ جسمانی حکمت بھی ہے۔ فوری توانائی، متوازن غذائیت، بہتر ہاضمہ اور قدرتی تحفظ۔
ایک چھوٹا سا پھل، مگر مکمل انرجی پیک۔
یہی وہ مقام ہے جہاں روایت اور سائنس ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اور ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بعض سادہ اعمال کے پیچھے گہری حکمت چھپی ہوتی ہے۔

