بڑہتی ہوئی درآمدی ادائیگیوں کے باعث زرمبادلہ ذخائر میں کمی: اسٹیٹ بینک

ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی ذخائر 73.2 ملین ڈالر یعنی 0.34 فیصد کم ہو کر 21.3 ارب ڈالر رہ گئے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 13 فروری 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران یہ کمی بنیادی طور پر کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں کمی کے باعث ہوئی۔ کمرشل بینکوں کے ذخائر 92.3 ملین ڈالر یعنی 1.78 فیصد کم ہو کر 5.1 ارب ڈالر رہ گئے، جس نے مجموعی ذخائر پر دباؤ ڈالا اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافے کے اثر کو زائل کر دیا۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اپنے ذخائر میں 19.1 ملین ڈالر یعنی 0.12 فیصد ہفتہ وار اضافہ ہوا، جس کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 16.197 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں کمی کی بڑی وجوہات میں بینکنگ نظام سے ڈالر کی ادائیگیاں، درآمدی بل کی ادائیگی، بیرونی واجبات اور مالیاتی ضروریات کے باعث غیر ملکی کرنسی کا اخراج شامل ہوتا ہے۔ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی بھی عموماً نجی شعبے کی درآمدی ادائیگیوں اور بیرونِ ملک رقوم کی منتقلی سے جڑی ہوتی ہے، جس سے مجموعی ذخائر عارضی طور پر کم ہو جاتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مجموعی طور پر 7.13 ارب ڈالر یعنی 78.68 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ موجودہ کیلنڈر سال میں اب تک ذخائر میں 281.8 ملین ڈالر یعنی 1.77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔