سندھ میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ آج کے نوجوان صرف سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرتے ہیں، انہیں سندھ کے مسائل میں کم دلچسپی ہے، وہ کتابیں نہیں پڑھتے اور معاشرے میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ میرے خیال میں ایسی باتیں زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو نوجوانوں سے کوئی خاص رابطہ نہیں رکھتے، یونیورسٹیوں کا رخ نہیں کرتے، دور بیٹھ کر نوجوانوں کے بارے میں تصورات قائم کرتے ہیں اور اکثر انہیں ’جنریشن زی‘ قرار دے کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
سندھی نوجوانوں کے بارے میں میرا تجربہ مختلف رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران عوامی ورکرز پارٹی کی جانب سے منعقدہ کامریڈ حیدر بخش جتوئی سوشلسٹ اسکول، صحافی نثار کوکر کے زیرِ اہتمام لاڑکانہ لٹریچر فیسٹیول، اور اروڑ یونیورسٹی میں طلبہ کے لیے ’پرتشدد انتہا پسندی‘ کے موضوع پر ایک نشست میں مجھے درجنوں نوجوانوں سے ملنے، ان سے گفتگو کرنے اور ان کے خیالات و سوالات سننے کا موقع ملا۔ یہ نوجوان آج کے سندھ، پاکستان اور عالمی منظرنامے سے باخبر تھے اور ان میں پختہ سیاسی سوچ بھی نظر آئی۔
ان پروگراموں کے دوران کیے گئے سوالات کے معیار سے ان کے مطالعے کا اندازہ ہوتا تھا۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی سہولت کے بعد ممکن ہے کہ کاغذی کتابوں اور اخبارات کی فروخت کم ہوئی ہو، لیکن پڑھنے کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ البتہ سوشل میڈیا نے لکھنے اور پڑھنے کا انداز ضرور بدل دیا ہے۔ ہمارے پبلشرز اور صحافتی اداروں کو اس نئے دور کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، جس سے آج کا نوجوان جڑا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر آن لائن کتاب خرید کر ڈاؤن لوڈ کرنا اور پڑھنا آسان، تیز اور سستا طریقہ ہے، مگر سندھی پبلشرز ابھی تک یہ سہولت فراہم نہیں کر رہے۔
میری اپنی کتابوں کے آن لائن ایڈیشن کے لیے بیرونِ ملک رہنے والے کئی دوست درخواست کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کا ڈیجیٹل ورژن موجود نہیں۔ سلیمان وساڻ کی ویب سائٹ ’سندھ سلامت‘ پر کئی سندھی کتابیں موجود ہیں، لیکن اگر کتابوں کے ڈیجیٹل ایڈیشن دستیاب ہوں تو اس ذخیرے کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنے پبلشرز سے درخواست کی، مگر نہ وہ اپنی ویب سائٹ پر ڈیجیٹل کاپی فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی مجھے سافٹ کاپی دینے پر آمادہ ہیں تاکہ اسے سندھ سلامت پر رکھا جا سکے۔
اسی طرح سندھی اخبارات کے ڈیجیٹل ایڈیشن بھی غیر معیاری ہیں۔ ان کی ویب سائٹس پر پرانے اخبارات کا ریکارڈ یا تو موجود نہیں، یا تصویری شکل میں ہے جسے پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ مضامین کے آرکائیوز نہ ہونے کے باعث سندھی تحریریں سرچ انجن میں بھی نہیں ملتیں۔ اخبارات کی ڈیجیٹل حالت ابھی تک پچاس سال پرانی محسوس ہوتی ہے۔ آج کے نوجوانوں کو کتابیں اور اخبارات نہ پڑھنے کا طعنہ دینے سے پہلے اداروں سے یہ سوال ہونا چاہیے کہ کیا ان کا مواد موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے؟ جب پبلشرز اور اخبارات خود کو بہتر ڈیجیٹل معیار میں ڈھالیں گے تو انہیں اندازہ ہوگا کہ سندھی نوجوان انہیں کتنا پڑھتے ہیں۔
سندھ میں سیاسی شعور رکھنے والے، جدید مسائل کو سمجھنے والے اور کچھ کرنے کی تڑپ رکھنے والے نوجوانوں کی سیاسی تربیت اور تنظیم سازی کرنے والی سیاسی جماعتیں کمزور ہو چکی ہیں۔ معاشرہ غیر سیاسی نہیں ہوا، بلکہ سیاسی تنظیمیں کمزور ہو گئی ہیں۔ سندھ کے نوجوان نہ غیر سیاسی ہوئے ہیں اور نہ غافل؛ انہیں متحرک رکھنے والے ادارے کمزور پڑ گئے ہیں اور ان کی قیادت ان تک پہنچ نہیں پا رہی۔
ہر دور اور ہر نسل کے اپنے انداز ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی دھرتی اور لوگوں سے جڑتی ہے اور ان کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ اس وقت بڑی تعداد میں سندھی نوجوان تعلیم اور ملازمت کے لیے بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ وہاں وہ رابطوں کے نیٹ ورک قائم کر کے دوسرے نوجوانوں کو تعلیم، ملازمت، کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس تمام کام سے ناواقف ہیں۔ یہ جدید دور میں قومیت کے نئے اظہار ہیں۔
اسی طرح کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بھی نوجوانوں کے کئی نیٹ ورک سرگرم ہیں، اگرچہ وہ کسی سیاسی یا تنظیمی چھتری تلے نہیں۔ وطن اور عوام سے وابستگی کے بے شمار منتشر اظہار آج کی نسل کے ہزاروں نوجوان کر رہے ہیں، جن سے ہم اکثر لاعلم ہیں۔ آج کی نسل زیادہ تر شہری ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے اور اس کے روابط کے ذرائع ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، اس لیے ان کی وطن دوستی کے اظہار کے طریقے بھی مختلف ہیں۔
سیاسی تنظیموں کی قیادت کو اس نئی حقیقت کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی اور سماجی ادارے ایسا نہ کر سکے تو وہ آج کے نوجوان کو ساتھ لے کر نہیں چل سکیں گے اور خود جمود کا شکار ہو جائیں گے۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اکثر تنظیموں کے مرکزی اور ضلعی عہدیدار پچاس برس سے زائد عمر کے ہیں اور کئی سالوں سے انہی عہدوں پر موجود ہیں۔ نئے چہروں کی شمولیت کم دکھائی دیتی ہے۔ یقیناً ان رہنماؤں نے تاریخ کے مختلف مراحل میں اہم کردار ادا کیا ہے، مگر اداروں کو ٹھہرے ہوئے تالاب کے بجائے بہتے پانی کی طرح ہونا چاہیے۔
جو افراد اور ادارے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیل نہیں ہوں گے، وہ صرف نوجوانوں پر تنقید کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمیں آج کے نوجوان کو نئی نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے دور کے مطابق اپنے نعرے، منشور، رابطے کے طریقے، اظہار کے انداز اور تنظیمی ڈھانچے ترتیب دینا ہوں گے۔
ٹیکنالوجی نے آج کے نوجوان کو جو طاقت دی ہے، وہ سیاسی اور سماجی تحریکوں کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔ انٹرنیٹ، ای میل، واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا کے جدید ذرائع استعمال کرنے والا نوجوان چند دنوں میں وہ ہلچل پیدا کر سکتا ہے، جس میں پہلے مہینے لگ جاتے تھے۔ جو کام پہلے اسٹڈی سرکلز، پمفلٹس، جلسوں اور تقاریر سے ہوتا تھا، اب سوشل میڈیا، ڈیٹا گرافکس، وی لاگز، مصنوعی ذہانت سے تیار مواد، زوم میٹنگز اور آن لائن جلسوں کے ذریعے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں ہو رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال نے دنیا کی کئی طاقتور حکومتوں اور اداروں کو بھی چوکنا رکھا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سینکڑوں گمنام نوجوان تعصبی مواد پھیلانے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں اور سندھ و سندھیوں کے خلاف زہر اگلنے والوں کو مؤثر جواب دے رہے ہیں۔ یہ ایک اہم قومی خدمت ہے، جو دنیا بھر میں بیٹھے نوجوان انجام دے رہے ہیں، چاہے وہ کسی سیاسی جماعت کے رکن نہ بھی ہوں۔
ان میں سے بہت سے نوجوان تاریخی حوالوں اور اعداد و شمار کے ساتھ نہ صرف سندھی بلکہ اردو اور انگریزی میں بھی تعصب پر مبنی پروپیگنڈے کا جواب دے رہے ہیں۔
ممکن ہے سیاسی قیادت اس سارے عمل سے پوری طرح واقف نہ ہو۔ سیاسی جماعتیں ان نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہیں، کیونکہ یہ باخبر نوجوان محض نعرے نہیں لگائیں گے بلکہ مشکل سوال بھی کریں گے۔ وہ پیر اور وڈیرہ سیاست کے فرسودہ نظام کا حصہ بننے سے انکار کریں گے اور احترام کے نام پر اپنے اختلافات کو دبائیں گے نہیں۔
آج کی یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کی سوچ اور اظہار 1970 کی دہائی کے نوجوانوں سے بہت مختلف ہے۔ جب تک سندھ کی سیاسی قیادت ان سے رابطہ نہیں بڑھائے گی، انہیں سمجھ بھی نہیں سکے گی۔ اس نسل کو سندھ سے گہری محبت ہے، وہ مسائل سے باخبر ہیں اور ان کے حل کے لیے جدوجہد بھی کر رہے ہیں۔ درحقیقت آج کا تعلیم یافتہ نوجوان سندھ کی جدید وطن پرستی کی نئی بنیادیں رکھ رہا ہے — جنہیں سمجھنے اور سراہنے کی ضرورت ہے۔

