اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے عوام کو کیا حاصل ہوا، اس پر بحث ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہنی چاہیے۔ مگر اسلام آباد والوں کو اس ترمیم سے اس لیے تکلیف نہیں ہے کہ صوبوں کے عوام کو مطلوبہ فائدہ نہیں ملا۔
وفاقی حکومت کی اپنی حالت یہ ہے کہ اس کے زیرِ انتظام چلنے والی سرکاری کمپنیوں نے ایک سال میں 833 ارب روپے کا نقصان کیا ہے۔ ریلوے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پوسٹ آفس، ایئر لائن، اسٹیل مل، بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں، سب خسارے میں چلی گئی ہیں۔
میری اسلام آباد کے ’بادشاہی دور‘ کے بیوروکریٹس سے مختلف پروگراموں میں ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ انہیں اس ترمیم سے سب سے زیادہ چڑ اس بات پر ہوتی ہے کہ ’صوبے ہماری بات نہیں سنتے‘۔
پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک بیوروکریٹ نے کہا کہ صوبے مقامی حکومتیں درست طریقے سے نہیں چلاتے۔ میں نے کہا کہ تمہاری بات درست ہے، مگر جس صوبے سے تمہارا تعلق ہے اور جس وفاقی دارالحکومت میں تم ملازمت کر رہے ہو، ان دونوں نے ابھی تک سچی یا جھوٹی، کوئی مقامی حکومتیں بھی قائم نہیں کیں۔
باقی تین صوبوں میں خامیاں ضرور ہیں مگر نام کی حد تک ہی سہی، کچھ مقامی ادارے موجود ہیں۔ کبھی ان دونوں سے بھی کہو کہ اچھی مقامی حکومتیں بنائیں، تاکہ باقی تین صوبوں کو بھی شرم آئے۔
ایک وفاقی بیوروکریٹ نے ایک اجلاس میں اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں کہا کہ ملک میں ’ڈی وولیوشن ڈیزیز‘ پھیل گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ تمہارا محترم محکمہ تو مکمل طور پر وفاقی ہے، وہ تو صوبوں کو منتقل بھی نہیں ہوا، اس میں کون سا انقلاب آ گیا ہے؟ یہ بتاؤ تاکہ میں بھی تمہارا ساتھ دوں۔ جواب میں وہ فضول باتیں کرنے لگا۔
وفاقی سیاستدان اور بیوروکریٹس اس ترمیم کے خلاف کسی عوامی درد کی وجہ سے نہیں ہیں، بلکہ انہیں اپنی بادشاہت چھن جانے کا دکھ ہے۔
اب صوبے وفاقی بیوروکریٹس کے رعب میں نہیں آتے۔ کبھی کبھار تو ان کے خطوط کا جواب بھی نہیں دیتے۔ انہیں صوبائی محکموں کی کمیٹیوں میں بھی اب شامل نہیں کیا جاتا۔ سرکاری اجلاسوں میں بھی وفاقی بیوروکریٹس کو پہلے جیسی اہمیت نہیں ملتی۔
جو صوبے پہلے ان کی انتظامی بادشاہت کے ماتحت تھے، اب اپنی مرضی چلانے لگے ہیں۔ عالمی ڈونر ادارے بھی اب صوبوں سے براہِ راست بات کرنے لگے ہیں۔
اسلام آباد کی بادشاہ بیوروکریسی کا بس چلے تو وہ اس ترمیم کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دے، اور شاید ملک میں ون یونٹ یا مارشل لا واپس لے آئے۔
البتہ یہ حقیقت اٹل ہے کہ صوبائی حکومتوں نے اس ترمیم کے ذریعے عوام کی زندگیاں بہتر بنانے کے بجائے صوبوں میں نئی ’اسلام آبادیں‘ قائم کر لی ہیں۔ جمہوریت، اختیارات اور وسائل کی تقسیم کو انہوں نے اپنی اپنی بادشاہتیں قائم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

