شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کی موت کو ایک سال مکمل، ان کے لے پالک بیٹے کو سزائے موت

آکاش انصاری

یہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کی ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹ کے کٹہرے میں کھڑا ملزم شاہ لطیف اپنے والد معروف مزاحمتی شاعر، ادیب اور صحافی آکاش انصاری کو قتل کرنے کے الزام میں موت کی سزا سن رہا ہے۔۔

یہ 27 جنوری 2026 کی ایک صبح ہے جب عدالت نے 364 دنوں بعد اس ہائی پروفائل مقدمہ کا فیصلہ سنارہی تھی، عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل میں ان کے لے پالک بیٹے شاہ لطیف کو پر جرم ثابت ہوتا ہے۔

ڈاکٹر آکاش انصاری کی موت آج ایک سال مکمل ہوگیا، عدالت کے مطابق ڈاکٹر اللہ بخش المعروف آکاش انصاری کو 15 فروری 2025 کو حیدرآباد میں بھٹائی نگر تھانے کی حدود ان کے گھر کے ایک کمرے میں چاقو کے متعدد وار کر کے قتل کیا گیا تھا۔

لے پالک بیٹے نے آکاش انصاری کو مارنے کے لیے منصوبہ بندی کی مکمل ڈرامہ رچایا۔

تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا کہ قتل کے بعد لاش کو آگ لگا دی تھی  تاکہ شواہد کو مٹایا جا سکے، اور بعد ازاں ملزم نے شور مچا کر خود ہی ریسکیو 1122 کو فون کیا اور اطلاع دی کہ ان کے گھر میں آگ لگ گئی ہے۔

جب ڈرائیور اور دیگر لوگ آگ بجھانے پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ ملزم آگ بجھانے میں مدد نہیں کر رہا تھا بلکہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا، جس کے بعد ملزم شاہ کو گرفتار کیا گیا۔

فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے قرار دیا ملزم زیادہ سے زیادہ سزا کے حق دار ہے۔

عدالت نے ملزم کے حق میں اس کی والدہ حلیمہ کی گواہی بھی رد کردی اور قرار دیا کہ ملزم کے قریبی رشتدار کی گوای کو بہت باریک بینی سے دیکھا جاتا ہے کیوں کہ  ایسا گواہ فطری طورپر ملزم کا ساتھ دیتا ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق استغاثہ نے ثابت کیا کہ باپ اور بیٹے کے درمیان تعلقات بیٹے کی منشیات کی لت کی وجہ سے خراب تھے جبکہ ملزم جائیداد اور رقم کا مطالبہ کرتا تھا۔ 2024 میں ڈاکٹر آکاش نے اپنے بیٹے کے خلاف تقریباً 38 لاکھ روپے کی چوری کا مقدمہ بھی درج کروایا تھا جس کی وجہ سے ملزم غصے میں تھا۔

ڈاکٹر آکاش انصاری کون تھے؟

سندھی زبان کے فروغ کے لیے کام کرنے والے سرکاری ادارے سندھی لینگویج اتھارٹی کے ذیلی ادارے انسائیکلوپیڈیا سندھیانا کی ویب سائٹ کے مطابق، ڈاکٹر آکاش انصاری کا اصل نام اللہ بخش انصاری اور تخلص آکاش تھا۔

وہ 1956 میں ضلع بدین کے گاؤں ’ابُل وسی‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اللہ ڈنو بدینوی بھی شاعر تھے، جبکہ ان کی والدہ جنت خاتون، شاہ لطیف کی شاعری کی حافظہ تھیں۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم بدین سے حاصل کرنے کے بعد لیاقت میڈیکل کالج جامشورو سے 1984 میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے کچھ عرصہ بدین میں بطور ڈاکٹر پریکٹس بھی کی۔

وہ کالج کے زمانے سے ہی قومی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر مقبول ہو چکے تھے۔

اسی دور میں انہوں نے بائیں بازو کی سیاست میں حصہ لیا اور رسول بخش پلیجو کی سیاسی جماعت ’عوامی تحریک‘ میں 15 سال تک ڈپٹی سیکریٹری اور سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر آکاش انصاری نے 1995 میں صحافت میں قدم رکھا۔

انہوں نے روزنامہ ’سوال‘ اخبار کا اجرا کیا، جس کے چیف ایڈیٹر وہ خود تھے، جبکہ معروف شاعر مرحوم حسن درس ایڈیٹر تھے۔ یہ اخبار جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2000 میں بند کر دیا گیا۔

2002 میں، ڈاکٹر آکاش نے رورل ڈیولپمنٹ میں ایم اے کیا۔ پھر 2004 میں ایسٹرن واشنگٹن یونیورسٹی (امریکہ) سے جدید تعلیمی نظام پر ڈپلومہ مکمل کیا۔

اس کے بعد، انہوں نے بدین کے ساحلی علاقوں میں تعلیم اور دیہی ترقی کے لیے ایک سماجی تنظیم ’بدین رورل ڈیولپمنٹ‘ قائم کی اور اس کے تحت کئی منصوبے مکمل کیے۔

ان کے قائم کردہ سکولوں میں سے دو سکول اب ہائی سکول کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔

ان کی شاعری کی دو کتابوں میں سے ’کیسے رہوں جلاوطن‘ کے اب تک آٹھ اور ’ادھورے ادھورے‘ کے چار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔

ان کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ "An Elegy for the Brave Heart of Tomorrow”  کے عنوان سے ڈاکٹر سحر گل نے 2022 میں کیا ہے۔

آکاش انصاری کے سینکڑوں قومی اور رومانوی گیت عابدہ پروین، صنم ماروی، ماسٹر ولی، دیبا سحر، سرمد سندھی، صادق فقیر سمیت سندھ کے تقریباً تمام مشہور گلوکاروں نے گائے ہیں۔

 

اسی بارے میں: