[rank_math_breadcrumb]

بلوچستان: ہنگول نیشنل پارک میں ‘امید کی شہزادی’ کی خاموش نگہبانی، پرنسیس آف ہوپ کی اسل کہانی ہے کیا؟

بلوچستان کے جنوب میں واقع ہنگول نیشنل پارک پاکستان کا سب سے بڑا قومی پارک ہے، جہاں سمندر، ریگستان، پہاڑ اور مٹی کے آتش فشاں ایک ہی جغرافیائی خطے میں موجود ہیں۔ یہ علاقہ اپنی قدرتی ساخت، نایاب جنگلی حیات اور منفرد زمینی مناظر کے باعث ملک کے اہم سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

اسی پارک کے اندر ایک قدرتی چٹان موجود ہے جو دور سے دیکھنے پر تاج پہنے کسی خاتون کے مجسمے جیسی محسوس ہوتی ہے۔ اس چٹان کو امید کی شہزادی یا پرنسیس آف ہوپ کہا جاتا ہے۔ یہ انسانی ہاتھوں سے تراشی گئی ساخت نہیں بلکہ صدیوں پر محیط قدرتی کٹاؤ کا نتیجہ ہے، جس نے مٹی اور پتھریلی پرتوں کو مجسمے جیسی شکل دے دی۔

2002 میں عالمی شہرت یافتہ اداکارہ انجلینا جولی اقوام متحدہ کی خیرسگالی سفیر کی حیثیت سے اس علاقے کے دورے پر آئیں۔ انہوں نے اس چٹان کو امید کی علامت قرار دیا، جس کے بعد یہ نام عالمی سطح پر مقبول ہوا۔ چٹان کی بلندی تقریباً 25 میٹر بتائی جاتی ہے اور یہ تلچھٹی اور چکنی مٹی کی پرتوں پر مشتمل ہے، جو ہوا اور موسموں کے اثر سے مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

ماہرین ارضیات کے مطابق ہنگول کا علاقہ قدیم ادوار میں سمندر کی تہہ کا حصہ تھا۔ زمینی حرکات کے باعث یہ خطہ سطح زمین پر ابھرا جبکہ قدرتی عوامل نے وقت کے ساتھ اس چٹان کو موجودہ شکل دی۔ اسی وجہ سے یہ مقام جغرافیائی تحقیق کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

1988 میں ہنگول کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ یہاں سندھ آئبیکس سمیت متعدد نایاب جنگلی حیات پائی جاتی ہے، تاہم امید کی شہزادی اس پارک کی سب سے نمایاں شناخت بن چکی ہے۔ مکران کوسٹل ہائی وے سے گزرتے ہوئے یہ چٹان نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے اور شام کے وقت سورج کی روشنی اسے سنہری رنگ دے دیتی ہے، جس سے اس کا منظر مزید واضح اور دلکش ہو جاتا ہے۔

امید کی شہزادی قدرتی عمل کی ایک مثال ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وقت، زمین اور ہوا مل کر کس طرح ایک منفرد منظر تخلیق کر سکتے ہیں۔