سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حالیہ اجلاس میں ‘تھر کمیونٹی ایکشنز فار دی مینجمنٹ آف سسٹین ایبل ایکوسسٹم، لائیوسٹاک اینڈ لائیولی ہڈ’ (CAMELL) منصوبے کے نام کو بعض ارکان کی جانب سے اونٹ (Camel) سے جوڑنے پر سوشل میڈیا پر خاصی گرماگرمی اور تنقید ہوئی، تاہم اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق یہ منصوبہ دراصل تھرپارکر کے ماحول، مویشیوں اور مقامی آبادی کے روزگار کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم ترقیاتی اقدام ہے۔
سینیٹر سید مسرور احسن کی سربراہی میں کمیٹی اجلاس کو بتایا گیا کہ CAMELL منصوبہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔
بعض ارکان نے اس منصوبے کو ترقیاتی پروگرام میں تاخیر سے شامل کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تھرپارکر جیسے پسماندہ اور خشک سالی سے متاثرہ علاقے کے لیے ایسے منصوبوں کی فوری ضرورت ہے۔
اسٹیٹ منسٹر ملک رشید احمد خان کے مطابق وفاقی حکومت نے متعلقہ اداروں کی مشاورت سے اس منصوبے کا ابتدائی خاکہ تیار کیا ہے جبکہ اس کا پی سی-ون تیاری کے مرحلے میں ہے۔ اس کو آئندہ مالی سال کے بجیٹ میں شامل کرنے کا ارادہ ہے۔
منصوبے کی بنیادی فنڈنگ وفاقی حکومت فراہم کرے گی، جبکہ مستقبل میں بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں اور دیگر اداروں کی معاونت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ منصوبہ باقاعدہ منظوری کے بعد شروع کیا جائے گا اور حکام کا کہنا ہے کہ منظوری ملتے ہی عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔
کیمل منصوبے کا مقصد تھرپارکر میں ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانا، قدرتی وسائل کا پائیدار استعمال یقینی بنانا اور مقامی لوگوں کے معاشی مواقع بڑھانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چراگاہوں کی بحالی، مقامی مویشیوں کی نسلوں کے تحفظ، پانی کے ذخائر کی بہتری اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ علاقے میں جدید تشخیصی لیبارٹریوں کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ مویشیوں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے میں کمیونٹی کی شمولیت کو خاص اہمیت دی جائے گی۔ مقامی آبادی کو ماحول دوست زرعی اور لائیوسٹاک طریقوں کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ قدرتی وسائل کو نقصان پہنچائے بغیر اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔
اسی مقصد کے لیے مختلف تربیتی پروگرام، آگاہی مہمات اور مقامی سطح پر کمیونٹی تنظیموں کے قیام کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔
منصوبے کے تحت بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی کام کیا جائے گا تاکہ خشک موسم میں لوگوں اور مویشیوں کے لیے پانی کی دستیابی ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ شجرکاری مہم کے ذریعے علاقے میں سبزہ بڑھانے اور ماحولیاتی توازن کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
چراگاہوں کی بحالی کے اقدامات سے مویشی پالنے سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
حکام کے مطابق خواتین اور نوجوانوں کو منصوبے کا اہم حصہ بنایا جائے گا۔ خواتین کو دستکاری، گھریلو صنعتوں اور چھوٹے کاروبار کے لیے تربیت فراہم کی جائے گی جبکہ نوجوانوں کو جدید زرعی اور مویشی پالنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکیں۔
مقامی کمیٹیوں کے قیام کے ذریعے لوگوں کو منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے مراحل میں شامل رکھا جائے گا تاکہ منصوبے کے نتائج دیرپا ثابت ہوں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی حتمی مدت اور آغاز کی تاریخ منظوری کے بعد جاری کی جائے گی، تاہم اس نوعیت کے ترقیاتی منصوبے عموماً تین سے پانچ سال کے عرصے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ابتدائی تیاریوں کا عمل پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے تاکہ منظوری کے بعد کام میں تاخیر نہ ہو۔
ماہرین ماحولیات اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تھرپارکر میں پانی کی کمی، چراگاہوں کی خرابی اور محدود روزگار کے مواقع جیسے مسائل کے حل کے لیے جامع منصوبوں کی اشد ضرورت ہے۔
ان کے مطابق اگر یہ منصوبہ مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا تو اس سے نہ صرف ماحول کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ ہزاروں خاندانوں کے معاشی حالات میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
کمیٹی ارکان نے بھی اس منصوبے کو علاقے کی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ وزارت کو ہدایت کی ہے کہ منصوبے کی تیاری اور منظوری کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ اسے جلد از جلدپبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کر کے عملی اقدامات شروع کیے جا سکیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ تھرپارکر میں پائیدار ماحول اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور علاقے کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی کو فروغ دے گا۔

