پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز چھ فروری سے آٹھ فروری تک لاہور میں بسنت میلہ منانے جا رہی ہیں۔ دو دہائیوں کے وقفے کے بعد بسنت کی واپسی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا یہ تہوار روایتی انداز میں منایا جا سکے گا یا اس پر قانونی اور سیاسی پابندیاں غالب رہیں گی۔
لاہور میں صدیوں تک موسم بہار کی آمد کا مطلب بسنت ہوا کرتا تھا۔ شہر رنگوں کی چادر اوڑھ لیتا۔ چھتوں پر خاندان جمع ہوتے۔ گلیوں میں ڈھول کی تھاپ سنائی دیتی۔ پیلے کپڑے عام نظر آتے اور آسمان ہزاروں پتنگوں سے بھر جاتا۔
پھر یہ سب اچانک رک گیا۔ تقریباً دو دہائیوں تک بسنت، جو کبھی لاہور کی ثقافتی شناخت تھی، عدالتی پابندیوں، حکومتی فیصلوں اور عوامی خدشات کے باعث عملی طور پر معطل رہی۔
مریم نواز نے برسوں بعد اس پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا اور بسنت کی واپسی کا فیصلہ کیا۔ ان کا مؤقف ثقافت اور زبان کے فروغ سے جڑا ہوا بتایا جاتا ہے، مگر اس فیصلے کے ساتھ کئی سوالات بھی دوبارہ سامنے آ گئے ہیں۔
بسنت کا لفظ سنسکرت کے لفظ وسنت سے نکلا ہے، جس کا مطلب بہار ہے۔ ریاستوں اور جدید سیاسی نظام سے پہلے برصغیر میں موسم سرما کے خاتمے اور بہار کی آمد پر مقامی سطح پر جشن منایا جاتا تھا۔ پنجاب کے زرعی معاشرے میں بہار نئی فصل، نئی امید اور زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
لاہور میں بسنت کی خاص حیثیت اکثر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور سے جوڑی جاتی ہے، جب شاہی دربار میں پتنگ بازی اور موسیقی کی محفلیں منعقد ہوتی تھیں۔ مغل دور کے زوال، سکھ دور اور بعد ازاں برطانوی دور میں بھی یہ روایت کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہی۔
قیام پاکستان کے بعد شہر کی آبادی اور ساخت بدلتی رہی، مگر بسنت کئی دہائیوں تک ایک گھریلو اور خاندانی نوعیت کا تہوار رہی۔ بعد ازاں یہ روایت بدلنے لگی اور بسنت نے کاروباری شکل اختیار کر لی۔
1980 سے 1990 کی دہائی میں بسنت ایک بڑی صنعت بن گئی۔ ٹی وی چینلز نے براہ راست نشریات شروع کیں۔ کمپنیوں نے اسپانسرشپ دی۔ ہوٹلوں نے بسنت پیکجز متعارف کرائے اور غیر ملکی سیاح لاہور کا رخ کرنے لگے۔
اسی دوران پتنگ بازی، جو کبھی تفریح سمجھی جاتی تھی، خطرناک مقابلے میں بدل گئی۔ جیت کے لیے ڈور کو زیادہ تیز بنانے کے تجربات ہوئے۔ شیشہ، کیمیکل اور دھاتی ذرات استعمال ہونے لگے اور بسنت مختلف حادثات سے جڑتی چلی گئی۔
موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹنے کے واقعات سامنے آئے۔ بچے زخمی ہوئے۔ بجلی کی تاروں سے ٹکرانے پر کرنٹ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ لوگ چھتوں سے گرنے لگے اور ہسپتالوں نے بسنت کو ایمرجنسی سیزن کہنا شروع کر دیا۔
عدالتوں نے مداخلت کی۔ حکومتوں نے وعدے کیے۔ پولیس کارروائیاں کرتی رہی، مگر صورتحال میں نمایاں بہتری نہ آ سکی۔ بالآخر حکومت نے پتنگ بازی پر تقریباً مکمل پابندی عائد کر دی اور بسنت عملاً غائب ہو گئی۔
اب حکومت کنٹرولڈ اور مشروط بسنت متعارف کرا رہی ہے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق بسنت صرف لاہور تک محدود ہو گی۔ پتنگ بنانے اور فروخت کرنے والے رجسٹرڈ ہوں گے۔ صرف منظور شدہ پتنگ اور ڈور فروخت کی جائے گی۔ شیشہ، کیمیکل اور دھات والی ڈور پر پابندی ہو گی۔
حکومت کے مطابق مارکیٹوں اور چھتوں کی نگرانی کی جائے گی۔ خطرناک عمارتیں بند کی جائیں گی۔ اگرچہ یہ ایس او پیز کاغذ پر مؤثر نظر آتی ہیں، مگر ان پر عمل درآمد اصل امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت نے سیاسی پہلو کے تحت ایک اور پابندی بھی عائد کی ہے۔ پتنگوں پر سیاسی رہنماؤں کی تصاویر، جماعتی جھنڈے، مذہبی تحریریں اور قومی پرچم لگانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ صرف سادہ یا ڈیزائن والی پتنگیں اڑائی جا سکیں گی۔
تحریک انصاف کے وکلا نے ان پابندیوں کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ اسی طرح گانوں کی ایک فہرست پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جس پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔
اتنی پابندیوں اور سیاسی دباؤ کے ماحول میں بسنت مریم نواز حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بنتی جا رہی ہے۔ جو تہوار ثقافتی شناخت کے طور پر واپس لانے کا ارادہ کیا گیا تھا، وہ اب انتظامی اور سیاسی چیلنج میں تبدیل ہو چکا ہے۔
