[rank_math_breadcrumb]

پاکستان میں فائیو جی انٹرنیٹ سروس کے لیے اسپیکٹرم نیلامی کا اعلان

پاکستان میں ٹیلی مواصلات کے نظام کی نگرانی اور ضابطہ کاری کے ذمہ دار ریاستی ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے فائیو جی انٹرنیٹ سروس متعارف کرانے کے لیے 10 مارچ کو اسپیکٹرم نیلامی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک میں نیکسٹ جنریشن انٹرنیٹ سروسز کے فروغ کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ فائیو جی سروس، فور جی کے مقابلے میں 10 سے 100 گنا تک زیادہ تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حکام کے مطابق فائیو جی کی آمد سے نہ صرف صارفین کو بہتر انٹرنیٹ سروس میسر آئے گی بلکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور معیشت کے مختلف شعبوں میں ترقی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق فائیو جی نیٹ ورکس کی محفوظ تنصیب اور آپریشن کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ صارفین کے ڈیٹا اور قومی ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے تحفظ کو بھی ترجیح دی جائے گی۔

پی ٹی اے کی تیاری

پاکستان میں پہلے ہی فور جی نیٹ ورک کی دستیابی کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم متعدد صارفین انٹرنیٹ کی رفتار سے متعلق شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا فائیو جی سروس عام صارف کے لیے قابلِ برداشت قیمت پر دستیاب ہو سکے گی یا نہیں۔

پی ٹی اے کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں تقریباً 80 فیصد موبائل فونز ایسے اسپیکٹرم بینڈز کو سپورٹ کرتے ہیں جو فائیو جی سروس کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم نیٹ ورک انفراسٹرکچر، ٹاورز کی فائیبر کنیکٹیویٹی اور دیگر بنیادی سہولیات پر کام ابھی جاری ہے تاکہ فائیو جی کی خدمات معیاری انداز میں صارفین تک پہنچائی جا سکیں۔

ممکنہ چیلنجز

ماہرین کے مطابق فائیو جی سروسز کے آغاز کے لیے حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان میں ٹیلی کام کمپنیوں کی مالی ضروریات، صارفین کے لیے فائیو جی ڈیوائسز کی افورڈیبلٹی اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جیسے مسائل شامل ہیں۔

فائیو جی کے اثرات اور توقعات

ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی نیٹ ورک کے ذریعے نہ صرف موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ ہوگا بلکہ گیمنگ، لائیو اسٹریمنگ اور بزنس ایپلیکیشنز کے استعمال میں بھی بہتری متوقع ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلیکیشنز اور جدید ڈیجیٹل سروسز کے فروغ کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں

 

اسی بارے میں: