جنوری 2026 میں انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان ایک بڑا آزاد تجارتی معاہدہ طے پایا، جسے دونوں فریقین نے مدر آف آل ڈیلز قرار دیا۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا کو یورپی منڈیوں تک اپنی نوے فیصد سے زائد برآمدات پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہو گئی ہے، جس میں ٹیکسٹائل، ملبوسات، جواہرات اور جوتے شامل ہیں۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی تجارت میں تحفظ پسندی بڑھ رہی ہے اور انڈیا کو امریکا کی جانب سے عائد کردہ بعض تجارتی پابندیوں کا بھی سامنا رہا ہے۔
یہ معاہدہ مجموعی طور پر پچیس کھرب ڈالر کی معیشت اور دو ارب آبادی کو محیط کرتا ہے۔ اس کا مقصد انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان دو طرفہ تجارت کو دو ہزار تیس تک تین سو ارب ڈالر تک پہنچانا بتایا جا رہا ہے۔
یورپی منڈیوں میں انڈین مصنوعات کی لاگت کم ہونے سے انڈیا کو برآمدات بڑھانے اور صنعتی پیداوار میں وسعت کا موقع ملے گا۔
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے اثرات پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان اس وقت یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت اپنی چھیاسٹھ فیصد برآمدات بغیر ڈیوٹی یورپ بھیجتا ہے، جن کی سالانہ مالیت تقریباً نو ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ان برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل ہے، تاہم یہ سہولت دسمبر دو ہزار ستائیس میں ختم ہونے والی ہے اور اس میں توسیع کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔
انڈیا کو مستقل بنیادوں پر ڈیوٹی فری رسائی ملنے سے پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی برتری کمزور پڑ سکتی ہے۔ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس جیسے شعبوں میں انڈین مصنوعات کم قیمت پر دستیاب ہونے سے پاکستانی ایکسپورٹرز کے لیے یورپی مارکیٹ میں جگہ برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے بروقت حکمت عملی اختیار نہ کی تو برآمدی آرڈرز میں کمی اور صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کا خدشہ ہے۔
اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر روزگار پر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ٹیکسٹائل اور اس سے جڑی صنعتوں سے وابستہ لاکھوں افراد کی نوکریاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی دباؤ مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کو یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات ازسرنو ترتیب دینے، برآمدات میں تنوع لانے اور نئی منڈیوں کی تلاش پر توجہ دینا ہوگی۔
انڈیا اور یورپی یونین کا یہ معاہدہ خطے میں بدلتے ہوئے تجارتی اور جغرافیائی سیاسی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنی معیشت اور برآمدی شعبے کو کس طرح محفوظ بناتا ہے۔
