[rank_math_breadcrumb]

فیکٹ چیک ساگا: کیا پنجاب میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم کا آغاز ملک میں پہلی بار ہورہا ہے؟

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ پنجاب ملک کا پہلا صوبہ ہے جہاں سرکاری تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم متعارف کرائی جا رہی ہے۔

یہ دعویٰ بظاہر ایک بڑی پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم فیکٹ چیک ساگا کی تحقیق کے مطابق دستیاب ریکارڈ اس تصویر کو مکمل طور پر درست ثابت نہیں کرتا۔

فیکٹ چیک ساگا کی تحقیق کے مطابق سندھ حکومت اس سے قبل اس سمت میں عملی قدم اٹھا چکی ہے۔ سندھ میں سرکاری سطح پر اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی آن لائن تربیتی پروگرام پہلے ہی شروع کیا جا چکا تھا، جس کا مقصد اساتذہ کو جدید ڈیجیٹل ٹولز اور اے آئی کی بنیادی سمجھ فراہم کرنا تھا۔

انگریزی اخبار دی نیوز میں 12 ستمبر 2025 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق پاکستان میں پہلی بار سندھ حکومت نے اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی آن لائن تربیتی پروگرام کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کا مقصد اساتذہ کو تیز تر، مؤثر اور جدید تدریسی طریقے اپنانے میں مدد فراہم کرنا بتایا گیا۔

چھ ماہ پر مشتمل اس پائلٹ منصوبے کے تحت دادو، ٹنڈو الہیار، تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع کے 3,500 اساتذہ کو تربیت دی جائے گی۔ بیان کے مطابق اس منصوبے کے لیے مالی معاونت یونیسف فراہم کرے گا اور عالمی معیار کو یقینی بنائے گا، جبکہ خان اکیڈمی پاکستان تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔

یہ پروگرام نہ صرف لانچ کیا گیا بلکہ اس کی باقاعدہ تشہیر بھی کی گئی، اور اسے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے ایک نئے مرحلے کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس تناظر میں یہ کہنا درست نہیں کہ تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت متعارف کرانے میں پنجاب پہلا صوبہ ہے۔

فیکٹ چیک ساگا اس نکتے کو واضح کرتا ہے کہ دعویٰ اور حقیقت کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے، خاص طور پر جب بات قومی سطح کی پالیسی اور تعلیم جیسے حساس شعبے

کی ہو۔

اسی بارے میں: