[rank_math_breadcrumb]

سانحہ گل پلازہ: تحقیقاتی رپورٹ میں نظام کی ناکامیوں اور انتظامی غفلت کا انکشاف

کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی کے سانحے سے متعلق کمشنر کراچی کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس میں عمارت کی تعمیر، فائر سیفٹی انتظامات، پانی کی فراہمی اور ادارہ جاتی ردِعمل پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آگ کا آغاز دکان نمبر 193، گراؤنڈ فلور میں اس وقت ہوا جب ایک کمسن بچے کے ہاتھ سے ماچس جلنے کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے کے وقت دکان کا مالک موجود نہیں تھا، جبکہ دکان میں موجود انتہائی آتش گیر سامان کے باعث آگ نے چند ہی لمحوں میں شدت اختیار کر لی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گل پلازہ میں فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات موجود نہیں تھے۔ عمارت میں فائر الارم نصب تھا، نہ اسپرنکلر سسٹم اور نہ ہی فائر سپریشن کا کوئی خودکار نظام موجود تھا۔ اس کے علاوہ آگ لگنے کے بعد بجلی بند کرنے میں تاخیر کو بھی آگ کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ پر بروقت قابو نہ پانے کی ایک اہم وجہ پانی کی فراہمی میں تاخیر تھی۔ فائر فائٹنگ کے دوران پانی دستیاب نہ ہونے کے باعث ابتدائی کوششیں ناکام رہیں اور آگ تیزی سے عمارت کے مختلف حصوں میں پھیلتی چلی گئی۔

عمارت کے ہنگامی اخراج کے نظام کو بھی رپورٹ میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایمرجنسی اخراج کے راستے ناکافی تھے جبکہ کئی راستے بند ہونے کے باعث لوگ بروقت عمارت سے باہر نہیں نکل سکے۔ سیڑھیوں اور راہ داریوں میں دھواں بھر جانے کے باعث متعدد افراد پھنس گئے، جبکہ میزنائن فلور آگ اور دھوئیں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

کمشنر کراچی کی رپورٹ میں گل پلازہ کی تعمیر کو بھی خلافِ ضابطہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمارت کا ڈیزائن فائر سیفٹی اصولوں کے منافی تھا اور شاپس کی تعداد منظور شدہ نقشے سے کہیں زیادہ تھی، جس سے نہ صرف فائر سیفٹی متاثر ہوئی بلکہ ہنگامی صورتحال میں انخلا مزید مشکل ہو گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ فائر بریگیڈ کے پاس اس نوعیت کی شدید آگ سے نمٹنے کے لیے جدید آلات کی کمی تھی، جس کے باعث ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔ اسی طرح پولیس کی جانب سے کراؤڈ کنٹرول اور ریسکیو کے عمل میں بھی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق فائر سیفٹی آڈٹس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، جبکہ عمارت انتظامیہ کی مجموعی غفلت کو اس سانحے کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے نتیجے میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گل پلازہ کا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ فائر سیفٹی نظام، عمارتوں کے ضابطوں اور ادارہ جاتی تیاری میں موجود سنگین خامیوں کا نتیجہ تھا، جس نے قیمتی انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔