پاکستان کے سب سے بڑے آثارقدیمہ کے مرکز موہن جو دڑو میں جاری پاک–امریکہ مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کے دوران ایک اہم دریافت سامنے آئی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے قدیم شہر کے گرد مٹی کی اینٹوں سے بنی ایک باقاعدہ شہر پناہ (فصیل) کی نشاندہی کی ہے، جسے ماضی میں ایک اونچا پلیٹ فارم سمجھا جاتا تھا۔
یہ تحقیق حکومتِ سندھ کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز اور سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچر سوسائٹی (SEAS)کے اشتراک سے کی جا رہی ہے۔ اس مشن کی نگرانی معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر جوناتھن مارک کینوائر (Jonathan Mark Kenoyer) کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی ٹیم میں علی لاشاری بھی شامل ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق 1950–51 میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر مورٹیمر ویلر( Sir Mortimer Wheeler) نے اس ساخت کو مٹی کی اینٹوں کا ایک بڑا پلیٹ فارم قرار دیا تھا، تاہم حالیہ کھدائی اور زمینی تہوں (اسٹریٹی گرافی) کے شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ یہ دراصل شہر کی فصیل تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فصیل ممکنہ طور پر تجارت کے نظم و ضبط، شہر میں داخلے کے کنٹرول اور انتظامی و شہری منصوبہ بندی کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت وادیٔ سندھ کی تہذیب کے شہری نظام، سماجی و معاشی کنٹرول اور منصوبہ بندی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی۔ یہ انکشاف اس بات کا ثبوت ہے کہ موہن جو دڑو نہ صرف ایک منظم شہر تھا بلکہ اس کی حفاظت اور انتظام کے لیے باقاعدہ ڈھانچے بھی موجود تھے۔
موہن جو دڑو کی ابتدائی کھدائی کا باقاعدہ آغاز 1922 میں بھارتی ماہرِ آثارِ قدیمہ راکھیل داس بینرجی نے کیا، جس کے بعد جان مارشل اور دیگر ماہرین نے اس شہر کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ آج اس تاریخی مقام پر سیاحوں اور محققین کے لیے میوزیم، معلوماتی مرکز، رہنمائی کی سہولت، واک ویز، اور تحفظِ آثار کے لیے مخصوص انتظامات موجود ہیں۔ حکومتِ سندھ اور متعلقہ ادارے اس عالمی ورثے کے تحفظ اور سہولیات میں بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔

موہن جو دڑو دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ مختلف ادوار میں یہاں کئی بین الاقوامی ماہرین نے کھدائیاں کیں، جن کے نتیجے میں نکاسیٔ آب کا شاندار نظام، پکی اینٹوں کی عمارتیں، عظیم غسل خانہ اور منظم گلیاں دریافت ہوئیں۔ یہ شہر سندھ کے تاریخی علاقے میں لاڑکانہ کے قریب واقع ہے اور پاکستان کے اہم ترین ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دریافت نہ صرف علمی دنیا کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے پاکستان کے تاریخی ورثے کی عالمی اہمیت بھی مزید اجاگر ہوگی۔ مزید تحقیق کے بعد اس فصیل کی مکمل ساخت اور اس کے استعمال کے بارے میں مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

