معروف ترقی پسند و انقلابی شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کیس میں نامزد ان کے لے پالک شاہ لطیف کو ٹرائل کورٹ نے موت کی سزا سنادی۔
حیدرآباد کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے معروف سندھی شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تصور راجپوت نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے منگل کے روز کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم شاہ لطیف کو سزائے موت سنائی۔
ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل میں نامزد ملزم شاہ لطیف ڈاکٹر آکاش انصاری کا لے پالک بیٹا ہے۔ گذشتہ سال 15 فروری کو ڈاکٹر آکاش انصاری کی جھلسی ہوئی لاش حیدرآباد میں ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی تھی۔
ابتدائی طور پر گھر میں شارٹ سرکٹ سے لگنے والے آگ کو ان کی موت کی وجہ بتایا گیا تھا تاہم پولیس نے جب واقعے کی تحقیقات کیں تو انکشاف ہوا کہ آکاش انصاری کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کے بعد واقعے کو حادثہ ظاہر کرنے کے لیے ان کی لاش کو جلا دیا گیا تھا۔
سول اسپتال حیدرآباد کے ڈاکٹرز نے بھی تصدیق کی تھی کہ آکاش انصاری کے جسم پر تیز دھار آلے کے زخم موجود تھے، جب کہ زیادہ تر جسم جلا ہوا تھا۔
پولیس نے قتل کے الزام میں مقتول کے لے پالک بیٹے لطیف آکاش اور ان کے ڈرائیور کو بدین سے حراست میں لے لیا۔
تفتیش کے دوران ملزم شاہ لطیف نے ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس نے قتل کو حادثہ قرار دینے کے لیے گھر میں آگ لگائی تھی۔
ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کا مقدمہ ان کے کزن کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

