[rank_math_breadcrumb]

ملیے اپنی پالتو بکریوں کے بچوں پر سندھ کی مشہور لوک داستانوں کے کرداروں کے نام رکھنے والے ٹنڈوالہیار کے فدا حسین چوہان سے

سندھ کے ضلع ٹنڈو الہیار میں گھریلو سطح پر بڑے عرسے سے بکریاں پالنے والے فدا حسین چوہان نے 40 سے زائد ایرانی نسل کی بکریاں پال رکھی ہیں۔

پیدائش کے بعد ہر بکری کے بچے کا باقاعدہ نام رکھا جاتا ہے۔ نام رکھنے کے وہ اپنے دوستوں دعوت کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں شرکت کرنے والے ان کے دوست انہیں باضبطہ مبارک باد دیتے ہیں۔

فدا حسین چوہان اپنی پالتو زیادہ تر بکریوں کے نام سندھ کی مشہور لوک داستانوں کے کرداروں کے ہیں۔ جو مقامی ثقافت سے گہری وابستگی کا اظہار ہیں۔

ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے فدا حسین چوہان  نے کہا ایک بار کینیڈا سے سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (سانا) کے دوست ان سے ملنے آئے تو انہوں نے پوچھا وہ فلاں بکری کیس، فلان بکری خوبصورت ہے۔ ‘تب مجھے کیال آیا کہ کیوں نہ تمام بکریوں کے نام رکھے جائیں۔’

جس کے بعد انہوں نے بکری کے بچوں کے نام رکنا شروع کیے۔ وہ اپنی پالتو بکریوں کے نام مشہور لوک داستانوں کے کرداروں بشمول مومل سومل رکھتے ہیں۔ ‘اگر میں اپنے بچے کو بولوں کی مومل کو لے لاؤ تو مومل کو ہی لاتے ہیں۔’

ان بکریوں سے گھر کے افراد جیسا پیار اور لگاؤ رکھا جاتا ہے، اور انہیں خاندان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ فدا حسین چوہان کے خاندان والے اور دوست بکریوں کو دیے گئے نام سے یاد رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں: