[rank_math_breadcrumb]

سابق ایس ایس پی نیاز احمد کھوسہ سانحہ گل پلازہ کو بھتے کے لیے جلائی جانے والے بلدیہ فیکٹری سے جوڑتے ہیں

  1. سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے وقت میری پوسٹنگ ایس ایس پی اے وی سی سی کراچی تھی، اُس وقت ہمارے ایڈیشنل آئی جی اقبال محمود صاحب تھے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے ہمارے ڈی آئی جی جناب منظور مغل صاحب کے ذمے لگایا کہ آپ فاروق اعوان صاحب اور نیاز کو لے کر جائے وقوع پر جائیں اور اپنی طرف سے ایک آزادانہ انکوائری کر کے رپورٹ بھی دیں اور منظور مغل صاحب نے میرے ذمے لگایا کہ آپ ایس ایچ او کو بلا کر ایف آئی آر ڈرافٹ کر دیں۔

سب کے علم میں ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری بھتہ نہ دینے کی وجہ سے ہوا اور 266 افراد کو کس نے سفاکانہ طریقے سے دروازوں کو تالے لگا کر کیمیکل کی آگ کی نذر کر دیا گیا تھا اور 2012 میں بھی بلدیہ فیکٹری کی آگ تین دن تک جلتی رہی کیونکہ کیمیکل سے لگائی گئی آگ آسانی سے بجھتی نہیں۔

کیس کی تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ فیکٹری کے مالکان سے 200 کروڑ کیش، فیکٹری میں 50 فیصد مالکانہ حقوق اور فیکٹری کا اکاؤنٹنٹ اُن کی مرضی کا تعینات ہوگا کی ڈیمانڈ کی گئی تھی جس پر مالکان راضی نہ ہوئے، اُس کی پاداش میں فیکٹری کو آگ لگائی گئی اور آگ کے لیے ایک ایسے دن کا انتخاب کیا گیا جس دن ریشمی کپڑے کے دو ٹرک اترے ہوئے تھے۔ دو ٹرکوں میں سے ایک ٹرک کا مال اوپر کی منزل پر پہنچ چکا تھا اور دوسرے ٹرک کا مال ابھی گراؤنڈ فلور پر آف لوڈ ہو رہا تھا۔ ریشمی کپڑے نے پیٹرول سے بھی زیادہ آگ کو بڑھانے کا کام کیا جس کے نتیجے میں 266 افراد ہلاک ہوئے اور 100 سے زائد وہ زندہ بچ جانے والے افراد ہیں جن کا نچلا دھڑ نہیں ہے اور وہ آگ کی نذر ہو چکا ہے اور ابھی تک کسمپرسی اور اپاہجی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

گل پلازہ کے مالکان کا تعلق گھوم پھر کر کسی نہ کسی طرح جا کر بلدیہ فیکٹری سے بھتہ کی ڈیمانڈ اور بعد میں فیکٹری کو آگ لگانے والوں اور اُن کے ماسٹر مائنڈ سے جا کر ملتا ہے۔ گل پلازہ کی عمارت میں کل 1200 دکانیں تھیں، اگر ایک دکان کا اوسطاً ایک لاکھ روپیہ ماہانہ کرایہ لگایا جائے تو ایک ماہ میں 12 کروڑ کی خطیر رقم کا کرایہ بنتا ہے۔ جب گراؤنڈ پلس تھری کی عمارت میں 1200 دکانیں بن سکتی ہیں تو گراؤنڈ پلس الیون یا ٹویلول کی عمارت میں کتنی دکانیں بنیں گی؟ اور مستقبل میں بننے والی دکانوں سے کم از کم پچاس کروڑ ماہانہ کرایہ لینے کی پلاننگ کے بعد ہی گل پلازہ کو نذرِ آتش کرنے کا پلان بنایا گیا ہوگا۔

بلدیہ فیکٹری میں دو شفٹوں میں کام ہوتا تھا، پہلی شفٹ کے اینڈنگ ٹائم شام 06:30 پر سارے دروازوں پر تالے لگا کر فیکٹری کو آگ لگائی گئی تھی اور عین اسی طرح گل پلازہ کے اینڈنگ ٹائم رات 10:15 پر آگ لگی اور ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا صاحب کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے 16 گیٹ میں سے 13 گیٹ پر تالے لگے ہوئے تھے۔

بلدیہ فیکٹری میں روزانہ 1500 سے 2000 افراد کام کرتے تھے۔ واقعے والے دن پہلی شفٹ میں صرف 800 افراد موجود تھے، پھر بھی ہلاکتیں تقریباً 266 ہوئیں۔ جب گرفتار ملزمان سے پوچھا گیا کہ یہ رعایتکیوں دی گئی، تو انہوں نے بتایا کہ ماسٹر مائنڈ نے ہدایت کی تھی کہ "رحم دلی سے کام لیتے ہوئے، شفٹ ختم ہونے پر زیادہ تر کارکنوں کو جانے دیا جائے تاکہ ہلاکتیں کم ہوں۔ٹھیک اسی طرح گل پلازہ میں بھی بند ہونے کے وقت آگ لگائی گئی تاکہ اموات کم ہوں۔ اگر 1200 دکانوں پر صرف دو دو افراد بھی کام کر رہے ہوتے، تو صرف دکاندار اور کارندوں کی تعداد ہی 2400 ہوتی!!!! گاہک اور خریدار الگ ہزاروں میں ہوتے۔

اگر بلدیہ فیکٹری کی طرح گل پلازہ کی آگ کی بھی مناسب اور غیر جانبدارانہ تفتیش ہوئی اور ملزمان گرفتار ہوئے!! تو یہ بات ضرور سامنے آئے گی کہ جانی نقصان کم کرنے کے لیے ہی رات 10:15 بجے کا وقت چنا گیا تھا، تاکہ "ایک تیر سے دو شکارہو سکیں: ایک طرف مالی فائدہ حاصل کیا جائے اور دوسری طرف ہلاکتوں کے ذریعے توجہ بھٹکائی جا سکے۔ یہ واقعہ رات کے کسی بھی ایسے وقت ہو سکتا تھا جب عمارت بالکل خالی ہوتی اور جانی نقصان صفر ہوتا۔ لیکن اگر جانی نقصان صفر ہوتا، تو نئے صوبے یا کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا واویلا کون کرتا۔

اگر بدقسمتی سے کراچی کو الگ صوبہ بنا دیا گیا، تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ ایسے میں لوگ صومالیہ کی مثال کو بھی بھول جائیں گے، کیونکہ کراچی خود ایک انتہائی غیر مستحکم اور متنازع خطہ بن جائے گا۔ صوبے کے قیام کے فوراً بعد ہی، اندرونی تقسیم کی سیاست عود کر آئے گی:

لیاری کے بلوچ مطالبہ کریں گے کہ لیاری کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ سہراب گوٹھ، کٹی پہاڑی اور شیریں جناح کالونی کے پٹھان اپنے لیے تین الگ صوبوں کا مطالبہ کریں گے۔ اسی طرح جن علاقوں میں پنجابی اکثریت میں ہیں وہ اپنے لیے الگ صوبہ کا مطالبہ کریں گے۔

یوں، صوبہ بننے کا یہ عمل شہر کو مزید ٹکڑوں میں بانٹنے اور دائمی تنازعات کی بنیاد رکھنے کا کام کرے گا۔

اصل سوال یہ ہے کہ اس ممکنہ "صوبےکی باگ دوڑ کس کے ہاتھ میں ہوگی؟ اگر یہ کراچی انہی طاقتوں کے حوالے کر دیا گیا، جو کہ بھتہ خور ہیں، بوری بند لاشوں کے ذمہ دار ہیں، بلدیہ ٹاؤن فیکٹری جیسے سانحوں کے مجرم ہیں، 12 مئی 2007 کو بے گناہ شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے ہیں، 300 سے زائد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے قاتل ہیں اور لیاری کے گینگسٹر یا سہراب گوٹھ، کٹی پہاڑی اور شیریں جناح کے منشیات فروش۔

کیونکہ اگر کراچی شہر کی آبادی کو لسانی بنیادوں پر الگ صوبہ بنا کر دینا مقصود ہے تو کراچی شہر ہی صرف 4 یا 6 صوبوں میں بٹ جائے گا اور ان صوبوں کی باگ دوڑ جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی ان سے تو شیطان بھی پناہ مانگے گا۔

تو پھر ہمیں خود ہی سوچنا چاہیے کہ ہم اپنا اور اپنے شہر کا مستقبل کتنے محفوظ یا غیر محفوظ ہاتھوں میں دے رہے ہوں گے۔