نوجوان سماجی رہنما اور عالمی کورونا وبا کے لاک ڈاؤن کے دوران سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں واقع اپنے گاؤں کے بچوں کو اپنی مدد آپ کے تحت پڑھانے والی ماہنور شیخ نے نزدیکی گاؤں میں ایک اسکول کھول لیا ہے۔
ماہنور شیخ نے سندھ یونیورسٹی جامشورو کے شعبہ ایجوکیشن سے 2022 میں گریجویشن مکمل کی۔
سندھ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران عالمی وبا کووڈ 19 کے باعث دنیا بھر میں نافذ لاک ڈاؤن کے سبب یونیورسٹی بند ہو گئی اور وہ اپنے گاؤں آ گئیں۔
بقول ماہنور شیخ، گاؤں محمد بچل مہر کے قریب ایک بڑا قبرستان ہے، جہاں گاؤں کے بچے دن بھر فاتحہ خوانی کے لیے آنے والے لوگوں کا انتظار کرتے تاکہ وہ لوگ بچوں کو کچھ رقم بطور خرچی دیں۔
انہوں نے کہا، یہ دیکھ کر مجھے دکھ ہوا کہ بچے تعلیم کے بجائے بھیک مانگ رہے ہیں۔ مجھے یہ بات ناگوار گزری اور میں نے گاؤں میں اسکول کھولا تاکہ بچے پڑھ سکیں۔
ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ماہنور شیخ نے بتایا کہ گاؤں محمد بچل مہر میں تقریباً سات سال تک اسکول چلانے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ برابر والے گاؤں گل بہار سولنگی میں بھی بچے قبرستان میں بھیک مانگ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، یہ انتہائی افسوس ناک تھا کہ بچے اسکول کے بجائے قبرستان میں بیٹھے رہتے ہیں۔ اس گاؤں میں کوئی سرکاری اسکول نہیں، اس لیے میں نے بچوں کو پڑھانے کا فیصلہ کیا۔
ماہنور شیخ کے مطابق گاؤں میں کوئی ایسی جگہ موجود نہیں تھی جہاں بیٹھ کر بچوں کو تعلیم دی جا سکے، اس لیے انہوں نے مقامی مسجد میں اسکول چلانے کا فیصلہ کیا۔
فنڈز کی کمی کے باعث وہ بچوں کو پڑھانے کے لیے اساتذہ نہیں رکھ سکتی تھیں، اس لیے انہوں نے چند لڑکیوں کی تربیت کی اور اب بڑی لڑکیاں چھوٹے بچوں کو مختلف مضامین پڑھا رہی ہیں۔
ماہنور شیخ نے کہا، سرکاری اسکول نہ ہونے کے باعث بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ اگر سندھ حکومت اس گاؤں میں سرکاری اسکول دے تو آس پاس کے کئی گاؤں کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا، ایک غیر سرکاری تنظیم اسکول کی عمارت بنانے کے لیے تیار ہے، مگر شرط یہ ہے کہ محکمہ تعلیم ہمارے گاؤں کے اسکول کو سرکاری نظام میں باقاعدہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسکول ای ایم آئی ایس کوڈ جاری کرے۔ مجھے امید ہے کہ سندھ حکومت جلد ہمارے گاؤں کے اسکول کے لیے ای ایم آئی ایس کوڈ جاری کرے گی۔
