صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں پولیس نے خاتون پر بدترین تشدد کے الزام میں ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ متاثرہ خاتون کو علاج کے لیے سول اسپتال حیدرآباد کے پلاسٹک سرجری وارڈ میں داخل کر دیا گیا ہے۔
دو روز قبل ضلع سانگھڑ کے علاقے چوٹیاریوں کے قریب شاد بانو نامی خاتون پر تشدد کا واقعہ سامنے آیا تھا، جس میں شاد بانو شدید زخمی ہو گئی تھیں۔
زخمی خاتون کے بھائی اعجاز علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مقامی وڈیرے کے بیٹے نے ان کی بہن کو اس وقت گھر سے اغوا کیا جب اہلِ خانہ موجود نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بہن پر شدید تشدد کیا گیا اور وہ زخمی اور انتہائی تشویشناک حالت میں ملی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی بہن کی زبان اور ہونٹوں کو کاٹا گیا تھا۔
شاد بانو کی ناک کی ہڈی میں فریکچر
متاثرہ خاتون شاد بانو کا معائنہ کرنے والے سول اسپتال حیدرآباد کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مجیب کلوڑ کے مطابق زخمی خاتون کو کنسلٹنٹ پروفیسرز نے چیک کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون کی حالت اب بہتر ہے، تاہم وہ شدید خوف زدہ ہے۔ ڈاکٹر مجیب کلوڑ نے متاثرہ خاتون کی ناک کی ہڈی میں فریکچر کی بھی تصدیق کی ہے۔
ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ
واقعے کا مقدمہ متاثرہ لڑکی کے اہلِ خانہ کی مدعیت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 311، 337 (جسمانی تشدد) اور 376 (زیادتی) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایس ایس پی سانگھڑ عابد علی کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ایک ملزم وزیر علی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جسے مزید قانونی کارروائی کے لیے مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
