درآمدات میں اضافے اور بیرونِ ملک رقوم منتقلی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ ایک بار پھر خسارے میں

کرنٹ اکاؤنٹ

پاکستان کی بیرونی تجارت کی صورتحال دسمبر 2025 میں ایک بار پھر کمزور ہو گئی۔ درآمدات بڑھنے اور بیرونِ ملک رقوم جانے کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں چلا گیا۔ چند مہینوں کی بہتری کے بعد یہ صورتحال حکومت اور پالیسی بنانے والوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ معیشت کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عام لوگ اور کاروباری طبقہ بھی بے یقینی محسوس کر رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق دسمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 244 ملین ڈالر رہا۔ اس کے مقابلے میں نومبر میں 98 ملین ڈالر کا سرپلس تھا۔ صرف ایک ماہ میں یہ بڑی تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ بیرونی مالی معاملات اب بھی مضبوط نہیں ہیں۔ معیشت ابھی چھوٹے جھٹکے بھی برداشت نہیں کر پا رہی۔

مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ، یعنی جولائی سے دسمبر تک، مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 174 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ 957 ملین ڈالر کے سرپلس میں تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حالات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ گزشتہ سال کی بہتری مستقل ثابت نہیں ہو سکی۔

دسمبر میں خسارے کی سب سے بڑی وجہ تجارت کا بگاڑ تھا۔ ملک میں اشیا کی درآمدات بڑھ کر پانچ ارب 74 کروڑ ڈالر ہو گئیں۔ اس کے مقابلے میں برآمدات صرف دو ارب 75 کروڑ ڈالر رہیں۔ درآمدات اور برآمدات کے درمیان یہ فرق براہِ راست کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالتا ہے۔ درآمدی بل بڑھنے سے زرمبادلہ کے ذخائر بھی متاثر ہوتے ہیں۔

درآمدات میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ صنعتوں کے لیے خام مال زیادہ منگوایا گیا۔ تیل، گیس اور دیگر توانائی سے متعلق اشیا کی درآمد بھی بڑھی۔ اس کے علاوہ کچھ صارفین کی استعمال کی اشیا بھی زیادہ درآمد کی گئیں۔ دوسری جانب برآمدات میں نمایاں اضافہ نہیں ہو سکا۔ عالمی منڈی میں طلب کم ہے اور ملک کے اندر پیداوار کی لاگت زیادہ ہے، جس سے برآمدی شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ٹیکسٹائل اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومتی عدم توجہ کے باعث کئی ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں۔ صنعت کو مہنگی بجلی اور گیس جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ایپٹما کے سابق صدر ایس ایم تنویر نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ دو سال میں ملک بھر میں ٹیکسٹائل کے 100 سے زائد یونٹس بند ہو چکے ہیں۔ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری خاص طور پر شدید متاثر ہوئی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق اب تک ٹیکسٹائل کی 187 ملز بند ہو چکی ہیں۔ ان بندشوں کے باعث کم از کم 50 ہزار مزدور بیروزگار ہو گئے ہیں۔

براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورتحال بھی بہتر نہیں رہی۔ حکومت کے معاشی بہتری کے دعوؤں کے باوجود بیرونِ ملک سے آنے والی سرمایہ کاری میں واضح کمی آئی ہے۔ جولائی سے دسمبر کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ سال کے مقابلے میں 43 فیصد کم رہی۔ یہ سرمایہ کاری ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر 80 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک آ گئی۔

صرف دسمبر کے مہینے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 13 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا خالص اخراج ہوا۔ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سیاسی غیر یقینی صورتحال اور پالیسیوں کے تسلسل پر سوالات بھی سرمایہ کاری میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔

مرکزی بینک کے مطابق پاکستان کی بیرونی مالی حالت ابھی مکمل طور پر بہتر نہیں ہوئی۔ درآمدات دوبارہ بڑھ رہی ہیں جبکہ برآمدات کی رفتار سست ہے۔ اسی وجہ سے ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ برقرار ہے۔

یہ صورتحال حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ درآمدات کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ برآمدات بڑھانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ توانائی کی قیمتیں، ٹیکس نظام اور کاروباری لاگت میں اصلاحات ضروری ہیں۔ صنعت کو سہولت دیے بغیر برآمدی اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دسمبر 2025 کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معیشت کو بہت احتیاط سے چلانے کی ضرورت ہے۔ وقتی بہتری پر مطمئن ہو جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ مضبوط بنیادوں کے بغیر بیرونی مالی استحکام برقرار نہیں رہ سکتا۔ اگر معاشی پالیسی میں توازن اور تسلسل نہ آیا تو کرنٹ اکاؤنٹ کے اتار چڑھاؤ کا بوجھ عام آدمی کو ہی اٹھانا پڑے گا۔

اسی بارے میں: