پاکستان میں بدھ کے روز سونے کی قیمت نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے اور پہلی بار فی تولہ سونا پانچ لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اور اچانک اضافے نے عام شہریوں، سرمایہ کاروں اور تاجروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد سونا مزید عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے، جس کے باعث شادی بیاہ اور زیورات کی خریداری کے منصوبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
کراچی صرافہ مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق بدھ کے روز پاکستان میں پہلی مرتبہ فی تولہ سونے کی قیمت نے پانچ لاکھ روپے کی نفسیاتی حد عبور کی، جبکہ دس گرام سونے کی قیمت بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔
آل پاکستان صرافہ جیمس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد قاسم شکارپوری کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 24 کیریٹ فی تولہ سونے کی قیمت 5 لاکھ 6 ہزار 362 روپے پر بند ہوئی، جو ایک ہی دن میں 12 ہزار 700 روپے کا اضافہ ہے۔ یہ یومیہ بنیاد پر اب تک کا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونا 4 لاکھ 34 ہزار 123 روپے میں فروخت ہوا، جس میں ایک دن کے دوران 10 ہزار 888 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھاجارہا ہے۔ بدھ کے روز 24 کیریٹ چاندی فی تولہ 64 روپے اضافے کے بعد 4 ہزار 840 روپے پر فروخت ہوئی، جو حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطح ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں کا بڑھنا ہے۔ جب بین الاقوامی سطح پر معاشی بے یقینی، جنگی حالات اور مالی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھتا ہے تو سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ اسی رجحان کے باعث عالمی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسی درآمدی معیشتوں پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی اور مقامی کرنسی پر دباؤ بھی سونے کی قیمت بڑھنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے، ایسے میں سونے کی قیمت کا اس حد تک بڑھ جانا عوام کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ خاص طور پر وہ خاندان جو شادیوں کے لیے زیورات خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے، اب اپنے فیصلوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ کئی صارفین نے زیورات کی خریداری مؤخر کر دی ہے یا کم وزن اور سادہ ڈیزائن کے زیورات کی طرف رجوع کرنا شروع کر دیا ہے۔
صرافہ بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں تیزی کے باعث روزمرہ خریداروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم وہ افراد جو سونے کو سرمایہ کاری کے طور پر خریدتے ہیں، اب بھی مارکیٹ میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق خریدار اور فروخت کنندہ دونوں ہی اس وقت غیر یقینی صورتحال کے باعث انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب زیورات تیار کرنے والے کاریگر بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کاریگروں کے مطابق آرڈرز میں واضح کمی آئی ہے اور کام کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو روزگار کے مواقع مزید محدود ہو سکتے ہیں، جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں اس تیزی کے بعد فوری طور پر نمایاں کمی کا امکان کم ہے، تاہم آنے والے دنوں میں قیمتوں میں کچھ حد تک استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سیاسی حالات، مالیاتی پالیسیوں اور ڈالر کی قدر آئندہ رجحانات کا تعین کریں گے۔ اگر عالمی سطح پر بے یقینی برقرار رہی تو سونے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جبکہ کسی مثبت پیش رفت کی صورت میں قیمتوں میں کمی بھی ممکن ہے۔
ماہرین نے عوام اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں سے گریز کریں اور سونے کی خرید و فروخت سے قبل مارکیٹ کے رجحانات کا بغور جائزہ لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث نقصان کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے، اس لیے محتاط حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان میں سونے کی قیمت کا پانچ لاکھ روپے فی تولہ سے تجاوز کرنا ایک اہم اقتصادی پیش رفت ہے، جس کے اثرات نہ صرف صرافہ مارکیٹ بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگیوں پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ آیا یہ اضافہ برقرار رہتا ہے یا مارکیٹ کسی حد تک استحکام کی جانب لوٹتی ہے

