Tag: سونا

  • ملوہا کا سفید سونا: وادی سندھ کی ہاتھی دانت کی صنعت، حیوانی نقوش اور بین النہرین سے بحری تجارت

    ملوہا کا سفید سونا: وادی سندھ کی ہاتھی دانت کی صنعت، حیوانی نقوش اور بین النہرین سے بحری تجارت

    اس دور کی باتیں جب وادی سندھ کے وسیع خطے میں دریاؤں، زرخیز زمینوں اور جنگلات کے درمیان شہر آباد تھے۔

    بین النہرین کی سرزمین پر جب قبل مسیح کے تیسرے ہزارے میں بڑے شہر، عبادت گاہیں اور شاہی مراکز ترقی کر رہے تھے، اس وقت وہاں کے حکمرانوں اور اشرافیہ کو ایسی نادر اشیا اور خام مال کی ضرورت تھی جو مقامی طور پر دستیاب نہیں تھے۔

    ان دور دراز تجارتی اشیا میں ہاتھی دانت بھی شامل تھا۔ وادی سندھ کی تہذیب اور بین النہرین کے درمیان اس دور میں طویل فاصلے کی تجارت کے شواہد ملتے ہیں، جبکہ سومیری اور اکادی تحریری ذرائع میں ملوہا نامی ایک مشرقی خطے کا ذکر موجود ہے۔

    بیشتر ماہرین ملوہا کو وسیع تر وادی سندھ کے خطے سے منسلک کرتے ہیں، اگرچہ اس شناخت پر علمی بحث مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

    ملوہا اور بین النہرین کا تحریری رشتہ

    ملوہا کے ساتھ بین النہرین کے روابط کا ایک اہم ثبوت سومیری اور اکادی دور کی مٹی کی تختیوں میں ملتا ہے۔ ان تحریروں میں ملوہا کو ایک دور دراز خطے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جہاں سے مختلف قیمتی اشیا بین النہرین پہنچتی تھیں۔

    اکدی بادشاہ سرگون کے عہد سے منسوب ایک تحریر میں ملوہا، ماگان اور دلمون کے جہازوں کا ذکر ملتا ہے جو اکد کے ساحل تک پہنچتے تھے۔ ماگان کو عام طور پر عمان کے خطے اور دلمون کو بحرین سے منسلک کیا جاتا ہے، جبکہ ملوہا کو وسیع تر وادی سندھ سے جوڑا جاتا ہے۔

    ملوہا سے منسوب اشیا میں قیمتی پتھر، عقیق، لکڑی اور دیگر مصنوعات شامل تھیں۔ ہاتھی دانت کے حوالے سے خاص طور پر بعد کے بین النہرینی تحریری ریکارڈ اہم ہیں، جن میں ملوہا کے ہاتھی دانت سے بنے پرندوں کا ذکر ملتا ہے۔

    تاہم ملوہا کو براہ راست ‘ہاتھی دانت کی سرزمین’ قرار دینا درست نہیں۔ قدیم تحریری شواہد ملوہا کو مختلف اشیا کے تجارتی خطے کے طور پر بیان کرتے ہیں، اور ہاتھی دانت ان اشیا میں سے ایک تھا۔

    وادی سندھ میں ہاتھی دانت کی کاریگری

    وادی سندھ کے متعدد شہروں سے ہاتھی دانت کی مصنوعات اور ان کی تیاری کے شواہد ملے ہیں۔ ہڑپہ، موہنجو دڑو، چنہو دڑو، لوتھل اور سرکوٹڈا جیسے مقامات سے ہاتھی دانت کی اشیا یا اس کے ٹکڑے دریافت ہوئے ہیں۔

    موہنجو دڑو میں ہاتھی دانت کا استعمال خاص طور پر نمایاں تھا۔ یہاں سے روزمرہ استعمال اور آرائش سے متعلق متعدد اشیا ملی ہیں، جن میں کنگھیاں، پنیں، سرمہ لگانے کی سلاخیں، کھیل کے مہرے، پانسے، چھوٹی تختیاں، سلاخیں، آرائشی جڑاؤ اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

    لوتھل بھی ہاتھی دانت کی کاریگری کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہاں کھدائی کے دوران ہاتھی دانت کے کٹے ہوئے ٹکڑے، تیار اور نیم تیار مصنوعات اور مختلف اشیا کے اجزا ملے ہیں۔ ان میں کنگھیاں، سلاخیں، جڑاؤ کے ٹکڑے اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔

    لوتھل ایک اہم تجارتی مرکز بھی تھا اور وہاں سے ہاتھی دانت کی اشیا سمیت مختلف مصنوعات کی دور دراز تجارت کے شواہد ملتے ہیں۔

    ہاتھی دانت سے بننے والی اشیا

    ہڑپائی معاشرے میں ہاتھی دانت صرف شاہی آرائش تک محدود نہیں تھا بلکہ اسے مختلف روزمرہ اور آرائشی اشیا بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    ان میں کنگھیاں، سرمہ لگانے کی سلاخیں، بالوں کی پنیں، پانسے، کھیل کے مہرے، جڑاؤ کے ٹکڑے، سلاخیں، تختیاں، ترازو کے اجزا اور دیگر ذاتی آرائشی اشیا شامل تھیں۔

    یہ مصنوعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وادی سندھ کے کاریگر ہاتھی دانت کو کاٹنے، تراشنے، سوراخ کرنے اور باریک آرائشی کام کے لیے مخصوص فنی مہارت رکھتے تھے۔

    حیوانی نقوش اور وادی سندھ کا فن

    وادی سندھ کے فن میں جانوروں کی تصویری نمائندگی نمایاں خصوصیت ہے۔ مہروں پر ایک سینگ والے جانور، بیل، ہاتھی، گینڈے اور دیگر جانوروں کی تصاویر ملتی ہیں۔

    ہاتھی دانت کی بعض مصنوعات پر بھی آرائشی نقوش پائے گئے ہیں، تاہم ہر مخصوص حیوانی نقش کو کسی خاص مذہبی علامت، قبیلے یا تجارتی خاندان کی شناخت قرار دینا محتاط علمی تحقیق کے بغیر درست نہیں ہوگا۔

    اسی طرح بارہ سنگھے یا ہرن کے نقش کو لازماً کسی مخصوص مذہبی یا تجارتی علامت سے جوڑنے کا قطعی ثبوت موجود نہیں۔

    وادی سندھ کی دستکاری کا وسیع نیٹ ورک

    ہاتھی دانت کی صنعت کو وادی سندھ کی دوسری دستکاریوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

    عقیق کے منکے، صدف کی اشیا، دھاتی مصنوعات اور دیگر قیمتی اشیا بھی دور دراز علاقوں تک پہنچتی تھیں۔ لوتھل اور دوسرے مراکز میں عقیق اور صدف کی کاریگری کے شواہد ملتے ہیں، جبکہ ہڑپائی طرز کی اشیا خلیج فارس کے مختلف مقامات اور بین النہرین تک پہنچی ہوئی ملتی ہیں۔

    موہنجو دڑو کی کانسی کی رقاصہ اور دیگر دھاتی مصنوعات ہڑپائی کاریگروں کی دھات کاری کی مہارت کی مثالیں ہیں، لیکن ان اشیا کو ہاتھی دانت کی تجارت سے براہ راست جوڑنے کے لیے الگ شواہد درکار ہیں۔

    اسی طرح موہنجو دڑو سے ملنے والے معروف ‘پجاری بادشاہ’ کے مجسمے کے لباس پر موجود تین پتیوں کے نقش کو براہ راست بین النہرین کے شاہی ظروف سے جوڑنا یا اسے بعد کی سندھی اجرک تک مسلسل روایت قرار دینا ثابت شدہ تاریخی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

    لوتھل سے خلیج فارس تک بحری تجارت

    وادی سندھ اور بین النہرین کے درمیان تجارت کے اہم راستوں میں خلیج فارس کا بحری راستہ شامل تھا۔

    لوتھل وادی سندھ کے اہم تجارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا اور وہاں ایک ایسا بندرگاہی ڈھانچہ موجود تھا جسے ماہرین طویل عرصے سے بحری تجارت سے جوڑتے آئے ہیں۔ جدید تحقیق بھی لوتھل کو عقیق، ہاتھی دانت اور دیگر مصنوعات کی تجارت کے ایک اہم مرکز کے طور پر بیان کرتی ہے۔

    اس بحری تجارتی نظام میں دلمون اور ماگان اہم واسطہ مراکز تھے۔ دلمون کو عام طور پر موجودہ بحرین اور ماگان کو زیادہ تر عمان کے خطے سے منسلک کیا جاتا ہے۔

    تاہم ہر تجارتی سفر کا مکمل راستہ معلوم نہیں۔ یہ کہنا کہ ہر ہڑپائی جہاز لازماً لوتھل سے روانہ ہو کر عمان، پھر بحرین اور اس کے بعد براہ راست اور یا دیگر بین النہرینی شہروں تک پہنچتا تھا، موجودہ شواہد سے ثابت نہیں۔

    اس کے بجائے آثارِ قدیمہ اور تحریری ریکارڈ اس وسیع بحری تجارتی نیٹ ورک کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں وادی سندھ، دلمون، ماگان اور بین النہرین ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

    بین النہرین میں ہڑپائی اشیا کے شواہد

    بین النہرین کے مختلف مقامات سے وادی سندھ سے منسلک اشیا دریافت ہوئی ہیں۔ ان میں ہڑپائی طرز کی مہریں، منکے، مٹی کے برتن اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔

    عراق کے شہر اور سے ملنے والی ایک مہر پر ہڑپائی طرز کی علامات موجود ہیں۔ برٹش میوزیم کے مطابق ملوہا سے تعلق رکھنے والے تاجروں کی موجودگی یا موسمی آمد و رفت کے شواہد بین النہرین اور خلیج فارس کے مختلف مقامات سے ملتے ہیں۔

    ہاتھی دانت کے بارے میں بھی آثارِ قدیمہ کے شواہد اہم ہیں۔ وادی سندھ کے مختلف مقامات سے بڑی تعداد میں ہاتھی دانت کی اشیا ملی ہیں، جبکہ خلیج فارس اور بین النہرین کے خطے میں ہڑپائی طرز کی ہاتھی دانت کی کنگھیوں اور دیگر مصنوعات کی موجودگی طویل فاصلے کی تجارت کی تصویر کو مزید واضح کرتی ہے۔

    تاہم ہر ہاتھی دانت کی شے کو یقینی طور پر وادی سندھ سے درآمد شدہ قرار دینا ممکن نہیں، کیونکہ قدیم دور میں ہاتھی دانت مختلف جغرافیائی علاقوں سے حاصل کیا جا سکتا تھا اور بعض اشیا کے خام مال کی اصل کا تعین صرف ظاہری شکل سے نہیں کیا جا سکتا۔

    ملوہا کے تاجر اور مترجم

    وادی سندھ اور بین النہرین کے تعلقات صرف اشیا کے تبادلے تک محدود نہیں تھے۔

    بین النہرین کی تحریری دستاویزات میں ملوہا سے متعلق افراد کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ایک معروف اکادی دور کی مہر پر ‘ملوہا کی زبان کے مترجم’ کا ذکر موجود ہے، جو اس بات کا اہم ثبوت ہے کہ دونوں خطوں کے درمیان زبان اور تجارت سے متعلق براہ راست رابطے موجود تھے۔

    تحریری شواہد میں ‘ملوہا گاؤں’ کا ذکر بھی ملتا ہے، جسے بعض ماہرین بین النہرین میں ہڑپائی تاجروں کی ایک تجارتی بستی سے جوڑتے ہیں۔ تاہم اس بستی کی نوعیت، اس کے رہائشیوں اور ان کی تعداد کے بارے میں علمی بحث موجود ہے، اس لیے اسے مکمل خود مختار ‘نوآبادی’ قرار دینا محتاط اندازِ بیان نہیں ہوگا۔

    ہاتھی دانت کی تجارت اور ملوہا

    وادی سندھ میں ہاتھی دانت کی وسیع پیمانے پر کاریگری، خلیج فارس کے مراکز میں ہڑپائی طرز کی اشیا اور بین النہرین کے تحریری شواہد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک وسیع تجارتی نیٹ ورک کی تصویر پیش کرتے ہیں۔

    تیسری ہزاری قبل مسیح کے اختتام اور دوسری ہزاری کے آغاز تک وادی سندھ، خلیج فارس اور بین النہرین کے درمیان روابط موجود رہے۔ تاہم ہاتھی دانت کی تمام اشیا کا براہ راست ماخذ ملوہا تھا، یہ ہر معاملے میں ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

    تجارت کا بدلتا ہوا منظر

    تقریباً 1900 قبل مسیح کے بعد وادی سندھ کی شہری تہذیب میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ بڑے شہری مراکز کی ساخت بدلی، طویل فاصلے کی تجارت کے بعض نیٹ ورک کمزور ہوئے اور مختلف علاقوں میں مقامی ثقافتی روایات نمایاں ہونے لگیں۔

    یہ تبدیلیاں صرف ایک وجہ سے نہیں ہوئیں۔ دریائی نظام، موسمی حالات، معاشی تبدیلیاں اور علاقائی عوامل اس وسیع تبدیلی کے ممکنہ عوامل میں شامل رہے ہیں۔

    اسی دور میں ملوہا کے ساتھ بین النہرین کے روابط بھی پہلے کے مقابلے میں کم نمایاں ہوتے گئے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وادی سندھ اور مغربی ایشیا کے درمیان تمام رابطے اچانک ختم ہوگئے تھے۔

    وادی سندھ کی تہذیب کو صرف زراعت اور شہری منصوبہ بندی تک محدود سمجھنا اس کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

    ہڑپائی شہروں میں ہاتھی دانت، عقیق، صدف، دھات اور دیگر مواد سے تیار کی جانے والی اشیا اس پیچیدہ دستکاری اور تجارتی معیشت کی نشاندہی کرتی ہیں جو مقامی ضروریات کے ساتھ ساتھ دور دراز منڈیوں سے بھی جڑی ہوئی تھی۔

    لوتھل، موہنجو دڑو، ہڑپہ اور دیگر مراکز سے ملنے والی ہاتھی دانت کی مصنوعات، خلیج فارس کے علاقوں میں ہڑپائی طرز کی اشیا، بین النہرین میں ملنے والی مہریں اور مٹی کی تختیوں میں ملوہا کا ذکر ایک ایسے قدیم تجارتی نظام کی گواہی دیتے ہیں جو آج سے تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کے درمیان قائم تھا۔

    یہی شواہد ہمیں بتاتے ہیں کہ قدیم دنیا ایک دوسرے سے کٹی ہوئی تہذیبوں کا مجموعہ نہیں تھی۔ دریاؤں، صحراؤں اور سمندروں کے درمیان انسان، اشیا، ہنر اور خیالات ایک خطے سے دوسرے خطے تک سفر کرتے تھے۔

    وادی سندھ بھی اسی قدیم بین الاقوامی دنیا کا ایک اہم حصہ تھی، جہاں کے کاریگر اور تاجر اپنی مصنوعات کو مقامی بستیوں سے کہیں دور، خلیج فارس کے پار بین النہرین تک پہنچاتے تھے۔

  • ایران امریکہ تناؤ: پاکستانی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں زبردست کمی

    ایران امریکہ تناؤ: پاکستانی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں زبردست کمی

    ہفتے کے پہلے روز پاکستانی صرافہ بازار میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ آل پاکستان صرافہ جم اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونا چار ہزار 900 روپے فی تولہ سستا ہو کر پانچ لاکھ ایک ہزار 162 روپے فی تولہ پر آ گیا، جبکہ دس گرام سونے کی قیمت میں چار ہزار دو سو ایک روپے کی کمی ہوئی اور یہ چار لاکھ 29 ہزار 665 روپے پر بند ہوا۔

    اسی طرح چاندی کی قیمت میں بھی 145 روپے فی تولہ کی گراوٹ آئی اور یہ آٹھ ہزار 417 روپے فی تولہ پر آ کر ٹھہر گئی۔

    صرافہ بازار میں یہ مندی اچانک نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ایک پورے ہفتے کی کشیدگی اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کارفرما رہی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور امن مذاکرات کے حوالے سے طرح طرح کی خبریں آتی رہیں، جن کی وجہ سے بازار میں بے یقینی کی فضا چھائی رہی۔ سرمایہ کاروں اور صرافہ تاجروں نے پوری صورتحال کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھا اور بازار میں احتیاطی رویہ اختیار کیا۔

    ہفتے کے آغاز پر اس وقت صورتحال نے یکسر نیا رخ اختیار کر لیا جب صبح سویرے ایران کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ تہران کا وفد اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے نہیں آئے گا۔ ایران نے اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جو کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے ایک بنیادی شرط تھی۔

    اس اعلان نے بازاروں میں پہلے سے موجود تشویش کو یکدم بڑھا دیا اور سرمایہ کاروں میں گھبراہٹ کی لہر دوڑ گئی۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ نائب صدر وینس کی قیادت میں اپنا وفد اسلام آباد بھیج رہا ہے تاکہ ایک ممکنہ امن معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں۔ اس خبر نے عالمی سطح پر ایک مثبت ماحول پیدا کیا تھا اور مختلف بازاروں میں اس کے اثرات بھی نظر آ رہے تھے۔

    تاہم ایران کے اعلان نے اس ساری مثبت فضا کو یکسر تبدیل کر دیا اور عالمی منڈیوں میں اضطراب پھیل گیا۔

    تہران سے آنے والی اس خبر کا اثر صرف پاکستانی صرافہ بازار تک محدود نہیں رہا بلکہ تمام بین الاقوامی مالیاتی اور تجارتی منڈیوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ عالمی بازاروں میں بھی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور مجموعی طور پر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی خطے میں جیو پولیٹیکل کشیدگی بڑھتی ہے تو عموماً سونے کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں، تاہم اس بار مذاکراتی عمل کی ناکامی کی خبر نے مجموعی بازار پر منفی اثر ڈالا۔

    پاکستانی صرافہ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ مقامی بازار میں خریداری کا رجحان کمزور رہا اور تاجروں نے نئی پوزیشنیں لینے سے گریز کیا۔ آنے والے دنوں میں قیمتوں کا رخ زیادہ تر اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل کس سمت جاتا ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کیا رنگ اختیار کرتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں سیاسی استحکام نہیں آتا، بازار میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اچانک کمی، عالمی اور پاکستانی منڈیوں میں مندی کا رجحان

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اچانک کمی، عالمی اور پاکستانی منڈیوں میں مندی کا رجحان

    ریکارڈ توڑ بلندی کے بعد قیمتی دھاتوں، خصوصاً سونے اور چاندی کی قیمتوں میں جمعہ کے روز نمایاں کمی دیکھی گئی۔ عالمی اور مقامی مارکیٹس میں مندی کے رجحان کے باعث سونے کی قیمت میں واضح گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں 24 قیراط سونے کی قیمت کم ہو کر تقریباً 5 لاکھ 37 ہزار 362 روپے فی تولہ کی سطح پر آ گئی ہے، جبکہ 10 گرام سونا تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح 22 قیراط سونے کی قیمت تقریباً 4 لاکھ 92 ہزار 324 روپے فی تولہ ریکارڈ کی گئی۔
    چاندی کی مقامی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ صرافہ بازار کے مطابق چاندی کی قیمت تقریباً 11 ہزار 69 روپے فی تولہ جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت تقریباً 9 ہزار 489 روپے رہی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ چاندی کی قیمت میں کمی سونے کے مقابلے میں کم ہے، تاہم اس کا رجحان بھی عالمی مارکیٹ سے منسلک ہے۔
    ماہرین کے مطابق پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتیں بنیادی طور پر عالمی نرخوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر سے جڑی ہوتی ہیں۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں روپے کی قدر میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھی گئی، تاہم عالمی منڈی میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے مقامی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ کے سیزن میں کمی اور خریداری کی رفتار سست ہونے سے بھی قیمتوں پر منفی اثر پڑا ہے۔
    صرافہ مارکیٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا یا جغرافیائی و سیاسی تناؤ دوبارہ شدت اختیار کرتا ہے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ بھی ممکن ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں مارکیٹ محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے اور سرمایہ کار فوری فیصلوں کے بجائے صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
    معاشی ماہرین نے عوام اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ سونے اور چاندی میں سرمایہ کاری سے قبل عالمی منڈی، امریکی ڈالر کی صورتحال اور مقامی معاشی حالات کو ضرور مدنظر رکھا جائے، کیونکہ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ایک فطری عمل ہے اور قلیل مدت میں جلد بازی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

  • پاکستان میں سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر، فی تولہ قیمت پانچ لاکھ سے تجاوز

    پاکستان میں سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر، فی تولہ قیمت پانچ لاکھ سے تجاوز

    پاکستان میں بدھ کے روز سونے کی قیمت نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے اور پہلی بار فی تولہ سونا پانچ لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اور اچانک اضافے نے عام شہریوں، سرمایہ کاروں اور تاجروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد سونا مزید عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے، جس کے باعث شادی بیاہ اور زیورات کی خریداری کے منصوبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

    کراچی صرافہ مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق بدھ کے روز پاکستان میں پہلی مرتبہ فی تولہ سونے کی قیمت نے پانچ لاکھ روپے کی نفسیاتی حد عبور کی، جبکہ دس گرام سونے کی قیمت بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد قاسم شکارپوری کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 24 کیریٹ فی تولہ سونے کی قیمت 5 لاکھ 6 ہزار 362 روپے پر بند ہوئی، جو ایک ہی دن میں 12 ہزار 700 روپے کا اضافہ ہے۔ یہ یومیہ بنیاد پر اب تک کا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونا 4 لاکھ 34 ہزار 123 روپے میں فروخت ہوا، جس میں ایک دن کے دوران 10 ہزار 888 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھاجارہا ہے۔ بدھ کے روز 24 کیریٹ چاندی فی تولہ 64 روپے اضافے کے بعد 4 ہزار 840 روپے پر فروخت ہوئی، جو حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطح ہے۔

    ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں کا بڑھنا ہے۔ جب بین الاقوامی سطح پر معاشی بے یقینی، جنگی حالات اور مالی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھتا ہے تو سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ اسی رجحان کے باعث عالمی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسی درآمدی معیشتوں پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی اور مقامی کرنسی پر دباؤ بھی سونے کی قیمت بڑھنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

    گزشتہ ایک سال کے دوران سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے، ایسے میں سونے کی قیمت کا اس حد تک بڑھ جانا عوام کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ خاص طور پر وہ خاندان جو شادیوں کے لیے زیورات خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے، اب اپنے فیصلوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ کئی صارفین نے زیورات کی خریداری مؤخر کر دی ہے یا کم وزن اور سادہ ڈیزائن کے زیورات کی طرف رجوع کرنا شروع کر دیا ہے۔

    صرافہ بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں تیزی کے باعث روزمرہ خریداروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم وہ افراد جو سونے کو سرمایہ کاری کے طور پر خریدتے ہیں، اب بھی مارکیٹ میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق خریدار اور فروخت کنندہ دونوں ہی اس وقت غیر یقینی صورتحال کے باعث انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب زیورات تیار کرنے والے کاریگر بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کاریگروں کے مطابق آرڈرز میں واضح کمی آئی ہے اور کام کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو روزگار کے مواقع مزید محدود ہو سکتے ہیں، جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے۔

    ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں اس تیزی کے بعد فوری طور پر نمایاں کمی کا امکان کم ہے، تاہم آنے والے دنوں میں قیمتوں میں کچھ حد تک استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سیاسی حالات، مالیاتی پالیسیوں اور ڈالر کی قدر آئندہ رجحانات کا تعین کریں گے۔ اگر عالمی سطح پر بے یقینی برقرار رہی تو سونے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جبکہ کسی مثبت پیش رفت کی صورت میں قیمتوں میں کمی بھی ممکن ہے۔

    ماہرین نے عوام اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں سے گریز کریں اور سونے کی خرید و فروخت سے قبل مارکیٹ کے رجحانات کا بغور جائزہ لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث نقصان کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے، اس لیے محتاط حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    مجموعی طور پر پاکستان میں سونے کی قیمت کا پانچ لاکھ روپے فی تولہ سے تجاوز کرنا ایک اہم اقتصادی پیش رفت ہے، جس کے اثرات نہ صرف صرافہ مارکیٹ بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگیوں پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ آیا یہ اضافہ برقرار رہتا ہے یا مارکیٹ کسی حد تک استحکام کی جانب لوٹتی ہے