Tag: سونا

  • ایران امریکہ تناؤ: پاکستانی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں زبردست کمی

    ایران امریکہ تناؤ: پاکستانی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں زبردست کمی

    ہفتے کے پہلے روز پاکستانی صرافہ بازار میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ آل پاکستان صرافہ جم اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونا چار ہزار 900 روپے فی تولہ سستا ہو کر پانچ لاکھ ایک ہزار 162 روپے فی تولہ پر آ گیا، جبکہ دس گرام سونے کی قیمت میں چار ہزار دو سو ایک روپے کی کمی ہوئی اور یہ چار لاکھ 29 ہزار 665 روپے پر بند ہوا۔

    اسی طرح چاندی کی قیمت میں بھی 145 روپے فی تولہ کی گراوٹ آئی اور یہ آٹھ ہزار 417 روپے فی تولہ پر آ کر ٹھہر گئی۔

    صرافہ بازار میں یہ مندی اچانک نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ایک پورے ہفتے کی کشیدگی اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کارفرما رہی۔ گزشتہ ہفتے کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور امن مذاکرات کے حوالے سے طرح طرح کی خبریں آتی رہیں، جن کی وجہ سے بازار میں بے یقینی کی فضا چھائی رہی۔ سرمایہ کاروں اور صرافہ تاجروں نے پوری صورتحال کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھا اور بازار میں احتیاطی رویہ اختیار کیا۔

    ہفتے کے آغاز پر اس وقت صورتحال نے یکسر نیا رخ اختیار کر لیا جب صبح سویرے ایران کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ تہران کا وفد اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے نہیں آئے گا۔ ایران نے اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جو کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے ایک بنیادی شرط تھی۔

    اس اعلان نے بازاروں میں پہلے سے موجود تشویش کو یکدم بڑھا دیا اور سرمایہ کاروں میں گھبراہٹ کی لہر دوڑ گئی۔

    واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ نائب صدر وینس کی قیادت میں اپنا وفد اسلام آباد بھیج رہا ہے تاکہ ایک ممکنہ امن معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں۔ اس خبر نے عالمی سطح پر ایک مثبت ماحول پیدا کیا تھا اور مختلف بازاروں میں اس کے اثرات بھی نظر آ رہے تھے۔

    تاہم ایران کے اعلان نے اس ساری مثبت فضا کو یکسر تبدیل کر دیا اور عالمی منڈیوں میں اضطراب پھیل گیا۔

    تہران سے آنے والی اس خبر کا اثر صرف پاکستانی صرافہ بازار تک محدود نہیں رہا بلکہ تمام بین الاقوامی مالیاتی اور تجارتی منڈیوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ عالمی بازاروں میں بھی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور مجموعی طور پر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی خطے میں جیو پولیٹیکل کشیدگی بڑھتی ہے تو عموماً سونے کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں، تاہم اس بار مذاکراتی عمل کی ناکامی کی خبر نے مجموعی بازار پر منفی اثر ڈالا۔

    پاکستانی صرافہ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ مقامی بازار میں خریداری کا رجحان کمزور رہا اور تاجروں نے نئی پوزیشنیں لینے سے گریز کیا۔ آنے والے دنوں میں قیمتوں کا رخ زیادہ تر اس بات پر منحصر ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل کس سمت جاتا ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کیا رنگ اختیار کرتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں سیاسی استحکام نہیں آتا، بازار میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اچانک کمی، عالمی اور پاکستانی منڈیوں میں مندی کا رجحان

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اچانک کمی، عالمی اور پاکستانی منڈیوں میں مندی کا رجحان

    ریکارڈ توڑ بلندی کے بعد قیمتی دھاتوں، خصوصاً سونے اور چاندی کی قیمتوں میں جمعہ کے روز نمایاں کمی دیکھی گئی۔ عالمی اور مقامی مارکیٹس میں مندی کے رجحان کے باعث سونے کی قیمت میں واضح گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں 24 قیراط سونے کی قیمت کم ہو کر تقریباً 5 لاکھ 37 ہزار 362 روپے فی تولہ کی سطح پر آ گئی ہے، جبکہ 10 گرام سونا تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح 22 قیراط سونے کی قیمت تقریباً 4 لاکھ 92 ہزار 324 روپے فی تولہ ریکارڈ کی گئی۔
    چاندی کی مقامی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ صرافہ بازار کے مطابق چاندی کی قیمت تقریباً 11 ہزار 69 روپے فی تولہ جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت تقریباً 9 ہزار 489 روپے رہی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ چاندی کی قیمت میں کمی سونے کے مقابلے میں کم ہے، تاہم اس کا رجحان بھی عالمی مارکیٹ سے منسلک ہے۔
    ماہرین کے مطابق پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتیں بنیادی طور پر عالمی نرخوں اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر سے جڑی ہوتی ہیں۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں روپے کی قدر میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھی گئی، تاہم عالمی منڈی میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے مقامی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ اس کے علاوہ شادی بیاہ کے سیزن میں کمی اور خریداری کی رفتار سست ہونے سے بھی قیمتوں پر منفی اثر پڑا ہے۔
    صرافہ مارکیٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا یا جغرافیائی و سیاسی تناؤ دوبارہ شدت اختیار کرتا ہے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ بھی ممکن ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں مارکیٹ محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے اور سرمایہ کار فوری فیصلوں کے بجائے صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
    معاشی ماہرین نے عوام اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ سونے اور چاندی میں سرمایہ کاری سے قبل عالمی منڈی، امریکی ڈالر کی صورتحال اور مقامی معاشی حالات کو ضرور مدنظر رکھا جائے، کیونکہ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ایک فطری عمل ہے اور قلیل مدت میں جلد بازی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

  • پاکستان میں سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر، فی تولہ قیمت پانچ لاکھ سے تجاوز

    پاکستان میں سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر، فی تولہ قیمت پانچ لاکھ سے تجاوز

    پاکستان میں بدھ کے روز سونے کی قیمت نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے اور پہلی بار فی تولہ سونا پانچ لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اور اچانک اضافے نے عام شہریوں، سرمایہ کاروں اور تاجروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد سونا مزید عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گیا ہے، جس کے باعث شادی بیاہ اور زیورات کی خریداری کے منصوبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

    کراچی صرافہ مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق بدھ کے روز پاکستان میں پہلی مرتبہ فی تولہ سونے کی قیمت نے پانچ لاکھ روپے کی نفسیاتی حد عبور کی، جبکہ دس گرام سونے کی قیمت بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد قاسم شکارپوری کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 24 کیریٹ فی تولہ سونے کی قیمت 5 لاکھ 6 ہزار 362 روپے پر بند ہوئی، جو ایک ہی دن میں 12 ہزار 700 روپے کا اضافہ ہے۔ یہ یومیہ بنیاد پر اب تک کا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونا 4 لاکھ 34 ہزار 123 روپے میں فروخت ہوا، جس میں ایک دن کے دوران 10 ہزار 888 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھاجارہا ہے۔ بدھ کے روز 24 کیریٹ چاندی فی تولہ 64 روپے اضافے کے بعد 4 ہزار 840 روپے پر فروخت ہوئی، جو حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطح ہے۔

    ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں کا بڑھنا ہے۔ جب بین الاقوامی سطح پر معاشی بے یقینی، جنگی حالات اور مالی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھتا ہے تو سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ اسی رجحان کے باعث عالمی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسی درآمدی معیشتوں پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی اور مقامی کرنسی پر دباؤ بھی سونے کی قیمت بڑھنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

    گزشتہ ایک سال کے دوران سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے، ایسے میں سونے کی قیمت کا اس حد تک بڑھ جانا عوام کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ خاص طور پر وہ خاندان جو شادیوں کے لیے زیورات خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے، اب اپنے فیصلوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ کئی صارفین نے زیورات کی خریداری مؤخر کر دی ہے یا کم وزن اور سادہ ڈیزائن کے زیورات کی طرف رجوع کرنا شروع کر دیا ہے۔

    صرافہ بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں تیزی کے باعث روزمرہ خریداروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم وہ افراد جو سونے کو سرمایہ کاری کے طور پر خریدتے ہیں، اب بھی مارکیٹ میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق خریدار اور فروخت کنندہ دونوں ہی اس وقت غیر یقینی صورتحال کے باعث انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب زیورات تیار کرنے والے کاریگر بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کاریگروں کے مطابق آرڈرز میں واضح کمی آئی ہے اور کام کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو روزگار کے مواقع مزید محدود ہو سکتے ہیں، جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے۔

    ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں اس تیزی کے بعد فوری طور پر نمایاں کمی کا امکان کم ہے، تاہم آنے والے دنوں میں قیمتوں میں کچھ حد تک استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سیاسی حالات، مالیاتی پالیسیوں اور ڈالر کی قدر آئندہ رجحانات کا تعین کریں گے۔ اگر عالمی سطح پر بے یقینی برقرار رہی تو سونے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جبکہ کسی مثبت پیش رفت کی صورت میں قیمتوں میں کمی بھی ممکن ہے۔

    ماہرین نے عوام اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں سے گریز کریں اور سونے کی خرید و فروخت سے قبل مارکیٹ کے رجحانات کا بغور جائزہ لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث نقصان کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے، اس لیے محتاط حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    مجموعی طور پر پاکستان میں سونے کی قیمت کا پانچ لاکھ روپے فی تولہ سے تجاوز کرنا ایک اہم اقتصادی پیش رفت ہے، جس کے اثرات نہ صرف صرافہ مارکیٹ بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگیوں پر بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ آیا یہ اضافہ برقرار رہتا ہے یا مارکیٹ کسی حد تک استحکام کی جانب لوٹتی ہے