[rank_math_breadcrumb]

پرتگال کے سنترہ کی پہاڑیوں پر واقع پینا نیشنل پیلس، خیال، رنگ اور رومانوی فنِ تعمیر کی علامت

پرتگال کے شہر سنترہ کی پہاڑیوں پر واقع پینا نیشنل پیلس ایک ایسا محل ہے جو دیکھنے والے کو چونکاتا بھی ہے اور سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ یہ محل سطح سمندر سے بلند، بادلوں کے قریب اور گھنے جنگل کے درمیان قائم ہے، جہاں فطرت اور فنِ تعمیر ایک دوسرے میں گھلتے نظر آتے ہیں۔

پینا نیشنل پیلس کی تاریخ ایک شاہی محل سے پہلے شروع ہوتی ہے۔ سولہویں صدی میں یہاں ایک مذہبی خانقاہ قائم کی گئی تھی، جو عبادت کے لیے مخصوص تھی، اقتدار کے لیے نہیں۔ سنہ 1755 میں لزبن میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے اس خانقاہ کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے بعد یہ مقام وقت کے ساتھ ویران ہوتا چلا گیا۔

انیسویں صدی میں سنہ 1839 کے دوران پرتگال کے شہزادے فرڈینینڈ دوم یہاں پہنچے۔ انہوں نے ان کھنڈرات کو ایک نئے تصور کے تحت دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ایک روایتی شاہی محل بنانے کا نہیں تھا بلکہ ایک ایسے محل کا تھا جو خواب، تصور اور فنکارانہ آزادی کی نمائندگی کرے۔

پینا نیشنل پیلس انیسویں صدی کے رومانوی فنِ تعمیر کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہاں کوئی ایک طرزِ تعمیر غالب نہیں۔ گوتھک، مانیولین، مورش اور نشاۃ ثانیہ کے انداز ایک ہی عمارت میں ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ محل کو جان بوجھ کر غیر متوازن شکل دی گئی تاکہ دیکھنے والا ہر زاویے سے ایک نیا منظر دیکھے اور حیرت میں مبتلا ہو۔

محل کے شوخ رنگ ابتدا میں اس قدر نمایاں نہیں تھے۔ بعد ازاں بحالی کے عمل کے دوران لال اور پیلے رنگ کو نمایاں کیا گیا تاکہ محل اردگرد کے سبز جنگل سے الگ اور دور سے پہچانا جا سکے۔ یہی رنگ آج اس محل کی پہچان بن چکے ہیں۔

پینا نیشنل پیلس کے گرد و نواح میں پینا پارک واقع ہے، جہاں دنیا کے مختلف خطوں سے درخت اور پودے لا کر لگائے گئے۔ یہ پارک ایک تجربہ تھا، جس کا مقصد قدرت کو فنِ تعمیر کے ساتھ جوڑنا تھا۔ یہاں چلتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے محل اور جنگل ایک ہی کہانی کا حصہ ہوں۔

سنہ 1910 میں پرتگال میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد پینا نیشنل پیلس ریاست کی ملکیت بن گیا۔ بعد ازاں اسے قومی یادگار قرار دیا گیا اور آج یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔

پینا نیشنل پیلس طاقت یا شاہانہ جاہ و جلال کی علامت نہیں۔ یہ ایک تصور، ایک خیال اور اپنے وقت سے آگے سوچنے کی مثال ہے۔ یہ محل دیکھنے سے زیادہ سمجھنے کی جگہ ہے، جہاں ہر رنگ، ہر دیوار اور ہر زاویہ ایک الگ کہانی سناتا ہے۔

اسی بارے میں: