فرانس سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان مارو نے سائیکلنگ کے ذریعے دنیا بھر کا ایک منفرد اور طویل سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ وہ فرانس سے روانہ ہو کر اب تک 14,500 کلومیٹر کا فاصلہ سائیکل پر طے کر چکے ہیں اور پاکستان ان کا 21 واں ملک ہے۔
مارو کا تعلق فرانس کے مغربی ساحلی علاقے برٹنی سے ہے۔ ان کے مطابق وہ پچھلے چھ ماہ سے مسلسل سائیکلنگ کر رہے ہیں جبکہ دو ماہ سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ انہوں نے چین کے راستے خنجراب پاس عبور کر کے پاکستان میں داخلہ لیا۔ اس سے قبل وہ چین، تاجکستان اور افغانستان سے گزرے تھے۔
پاکستان میں قیام کے دوران انہوں نے خیبر پختونخوا، اسلام آباد، لاہور، حیدرآباد اور کراچی سمیت مختلف شہروں کا سفر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پہنچنے میں انہیں پانچ ماہ لگے اور یہاں آ کر انہیں وہ سب کچھ ملا جس کے بارے میں انہوں نے پہلے بہت کچھ سنا تھا۔
اپنے بیان میں مارو کہتے ہیں کہ پاکستان میں میرا پسندیدہ کھانا دال ماش ہے۔ یہ بہت مزیدار ہے۔ مجھے بریانی بھی پسند ہے لیکن وہ میرے لیے کچھ زیادہ اسپائسی ہوتی ہے۔ یہاں کے پھلوں کے جوس بہت اچھے ہیں اور آم کا جوس میرا سب سے پسندیدہ ہے۔ واقعی یہاں کی چائے بھی بہت اچھی ہے۔
فرانسیسی سائیکلسٹ کے مطابق پاکستان کے لوگ دنیا کے سب سے زیادہ ملنسار، مہمان نواز اور خوش اخلاق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کی پسندیدہ جگہ گلگت بلتستان ہے جہاں کے پہاڑ انہیں دنیا کے بہترین پہاڑ لگتے ہیں۔
مارو روزانہ اوسطاً 80 سے 120 کلومیٹر سائیکل چلاتے ہیں۔ وہ اپنا تمام سامان خود سائیکل پر لے جاتے ہیں جس میں خیمہ، کپڑے اور ضروری آلات شامل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق سائیکلنگ انہیں زمین اور لوگوں سے قریب لے آتی ہے اور یہی اس سفر کا اصل مقصد ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یورپی ممالک میں سرحدوں کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کے سفر میں پہلی باقاعدہ سرحد یونان اور ترکیہ کے بعد جارجیا میں آئی۔ پاکستان ان کے لیے اب تک کا سب سے یادگار ملک ثابت ہوا ہے اور وہ اسے اپنا پسندیدہ ملک قرار دیتے ہیں۔
مارو کے مطابق وہ سائیکلنگ ایک تنظیم کے لیے بھی کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں امن، ثقافت اور دوستی کا پیغام پھیلانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائیکلنگ ان کے لیے صرف سفر نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔
پاکستان کے بعد وہ کویت، عراق، شام اور مصر جائیں گے۔ اس کے بعد عرب خلیج کے خطے میں تقریباً پانچ ماہ سائیکلنگ کریں گے جبکہ ان کے طویل سفر کا آخری پڑاؤ نیپال ہوگا۔ ان کے مطابق پورے سفر میں تقریباً 35 یا 36 ممالک شامل ہوں گے اور یہ سفر ممکنہ طور پر دو سال میں مکمل ہوگا۔
