چین میں حالیہ دنوں ایک ایسی موبائل ایپ سامنے آئی ہے جس نے اپنے غیر معمولی نام کی وجہ سے لوگوں کو چونکا دیا ہے۔ اس ایپ کا نام آر یو ڈیڈ ہے، جس کا سادہ مطلب بنتا ہے ‘کیا آپ مر چکے ہیں؟’۔ نام سن کر بظاہر یہ ایپ خوفناک یا مذاق محسوس ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ اور ایک سادہ مگر اہم حل موجود ہے۔
یہ ایپ خاص طور پر ان افراد کے لیے بنائی گئی ہے جو اکیلے رہتے ہیں۔ چین میں ایسے لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو کام، تعلیم یا حالات کے باعث خاندان سے دور تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں نوجوان بھی شامل ہیں اور بڑی عمر کے افراد بھی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں سب سے بڑا خدشہ یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ بیمار ہو جائیں یا کسی حادثے کا شکار ہو جائیں تو کئی دنوں تک کسی کو خبر نہ ہو۔
‘آر یو ڈیڈ’ ایپ اسی مسئلے کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ یہ نہ تو کوئی علاج فراہم کرتی ہے اور نہ ہی ایمبولینس یا ہسپتال سے براہ راست رابطہ کرتی ہے۔ یہ صرف ایک سادہ سا سوال روزانہ صارف سے پوچھتی ہے، کیا آپ ٹھیک ہیں۔
ایپ کو استعمال کرنا نہایت آسان ہے۔ انسٹال کرنے کے بعد صارف اپنا نام درج کرتا ہے اور ایک ایسے شخص کی معلومات فراہم کرتا ہے جس پر وہ اعتماد کرتا ہو۔ یہ رابطہ کوئی قریبی دوست، رشتہ دار یا جاننے والا ہو سکتا ہے جو ضرورت پڑنے پر مدد کر سکے۔
ایپ روزانہ یا مقررہ وقت کے اندر صارف سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک سبز رنگ کا بٹن دبائے۔ یہ بٹن دبانا اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ صارف زندہ ہے اور خیریت سے ہے۔ اس عمل میں چند سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لگتا۔
اگر صارف ایک یا دو دن تک اس بٹن کو نہ دبائے تو ایپ خودکار طور پر منتخب رابطہ شخص کو اطلاع بھیج دیتی ہے۔ یہ اطلاع عموماً ای میل کے ذریعے دی جاتی ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ صارف کی جانب سے کافی وقت سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اس کے بعد رابطہ شخص خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ فون کرے، پیغام بھیجے یا ذاتی طور پر جا کر صورتحال معلوم کرے۔ اس طریقے سے اگر واقعی کوئی مسئلہ ہو تو بروقت مدد کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔
چین میں اس ایپ کے مقبول ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا نام بھی بنا۔ ‘آر یو ڈیڈ’ جیسے الفاظ نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ کچھ لوگوں نے اسے خوفناک کہا، کچھ نے مذاق سمجھا، لیکن بڑی تعداد نے اس کے مقصد کو سمجھ کر اسے ایک مفید خیال قرار دیا۔
چین میں اکیلے رہنے والے افراد، خاص طور پر بزرگ شہریوں میں یہ خدشہ عام ہے کہ اگر وہ اچانک بیمار ہو گئے تو کوئی جاننے والا کئی دن بعد ہی خبر لے گا۔ اسی احساس نے بہت سے لوگوں کو اس ایپ کو ایک خاموش محافظ کے طور پر اپنانے پر آمادہ کیا۔
اگرچہ اس ایپ کو پذیرائی ملی، لیکن اس کے نام پر تنقید بھی سامنے آئی۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ آر یو ڈیڈ جیسے الفاظ ذہنی دباؤ پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر بڑی عمر کے افراد کے لیے۔ اسی تنقید کے بعد ایپ بنانے والوں نے بعض جگہوں پر اسے ایک نرم نام ڈی مو مو کے ساتھ پیش کرنا شروع کیا۔
ماہرین کے مطابق اس ایپ کی کامیابی کی وجہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ یہ جدید معاشرے کے ایک تلخ سچ کو بھی سامنے لاتی ہے، اور وہ ہے تنہائی۔ بڑے شہروں میں رہنے والے لاکھوں افراد روزانہ سینکڑوں لوگوں کے درمیان ہوتے ہوئے بھی اصل میں اکیلے ہوتے ہیں۔
یہ ایپ ایک طرح کی ڈیجیٹل یاد دہانی ہے کہ اگر کوئی شخص خاموش ہو جائے تو کوئی نہ کوئی اس کی خبر لینے والا ہونا چاہیے۔ یہ انسانی تعلق کا متبادل نہیں، لیکن ایک حفاظتی قدم ضرور ہے۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں خاندانی نظام اب بھی نسبتاً مضبوط ہے، مگر شہروں میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ نوکری، تعلیم اور مہنگائی کے باعث لوگ اکیلے رہنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ایسے میں مستقبل میں اس نوعیت کی ایپس کی ضرورت یہاں بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔
اگرچہ ‘آر یو ڈیڈ’ مکمل حل نہیں، لیکن یہ ایک سادہ اور کم خرچ طریقہ فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے یہ معلوم رکھا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص خیریت سے ہے یا نہیں۔ یہ ایپ خوف پھیلانے کے بجائے توجہ دلاتی ہے۔ ایک چھوٹا سا بٹن، ایک سادہ سی تصدیق، اور شاید کسی کی بروقت مدد کا ذریعہ بن جائے۔

