پاکستان میں کمانے والوں کی تعداد میں کمی، آمدنی میں اضافہ: ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے

سروے

حال ہی میں جاری ہونے والے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں فی خاندان کمانے والوں کی اوسط تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس کے برعکس فی کس اور گھریلو آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

فیڈرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 2018-19 میں فی خاندان کمانے والوں کی اوسط تعداد 1.86 تھی۔
یہ تعداد 2025-26 میں کم ہو کر 1.72 رہ گئی، جو وقت کے ساتھ گھریلو افرادی شمولیت میں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ رجحان شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں دیکھا گیا۔ شہری علاقوں میں فی خاندان کمانے والوں کی اوسط تعداد 1.75 سے کم ہو کر 1.62 رہ گئی۔دیہی علاقوں میں یہ تعداد 1.92 سے کم ہو کر 1.78 ہو گئی۔

صوبائی سطح پر اعداد و شمار میں فرق سامنے آیا ہے۔ پنجاب میں فی گھرانہ کمانے والوں کی اوسط تعداد 1.63 سے معمولی بڑھ کر 1.64 ریکارڈ کی گئی۔ سندھ میں یہ تعداد 1.80 سے کم ہو کر 1.74 ہو گئی۔ خیبر پختونخوا میں 2.08 سے کم ہو کر 1.88 جبکہ بلوچستان میں 2.14 سے کم ہو کر 1.79 ریکارڈ کی گئی۔

سروے کے مطابق روزگار کی نوعیت میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ قومی سطح پر اجرت پر کام کرنے والوں کا تناسب 2018-19 میں 54.80 فیصد تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 60.1 فیصد ہو گیا۔

شہری علاقوں میں یہ تناسب 66.63 فیصد سے بڑھ کر 69.13 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دیہی علاقوں میں بھی اجرتی ملازمت میں اضافہ ہوا، تاہم شرح شہری علاقوں سے کم رہی۔

اس کے برعکس خود روزگار افراد کا تناسب قومی سطح پر 24.7 فیصد سے کم ہو کر 21.75 فیصد رہ گیا۔خاندان کے بلا معاوضہ کام کرنے والوں کا تناسب بھی 17.39 فیصد سے کم ہو کر 13.53 فیصد ہو گیا، جو خاص طور پر دیہی علاقوں میں نمایاں ہے۔
آجرین کا تناسب معمولی طور پر بڑھا، تاہم یہ اب بھی مجموعی روزگار کا محدود حصہ ہے۔

آمدنی کے حوالے سے سروے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہری گھرانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی 2018-19 میں 53 ہزار 10 روپے تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 96 ہزار 763 روپے ہو گئی۔

دیہی علاقوں میں اوسط آمدنی 34 ہزار 520 روپے سے بڑھ کر 72 ہزار 157 روپے تک پہنچ گئی۔
قومی سطح پر اوسط گھریلو آمدنی 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ریکارڈ کی گئی۔

تاہم آمدنی میں اضافے کے باوجود عدم مساوات برقرار ہے۔ 2024-25 میں غریب ترین طبقے کی اوسط آمدنی 41 ہزار 851 روپے رہی، جبکہ امیر ترین طبقے کی آمدنی ایک لاکھ 39 ہزار 317 روپے تک پہنچ گئی۔

شہری علاقوں میں یہ فرق مزید نمایاں ہے، جہاں امیر ترین گھرانوں کی آمدنی ایک لاکھ 46 ہزار 920 روپے سے زیادہ جبکہ غریب ترین گھرانوں کی آمدنی 42 ہزار 412 روپے سے کم ریکارڈ کی گئی۔

سروے کے مطابق بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقوم کا گھریلو آمدنی میں حصہ بڑھ گیا ہے۔ یہ حصہ 2018-19 میں 4.96 فیصد تھا جو 2024-25 میں بڑھ کر 7.77 فیصد ہو گیا۔ تحائف اور امداد سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی 2.12 فیصد سے بڑھ کر 4.57 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے غیر رسمی معاونت پر بڑھتے انحصار کی نشاندہی ہوتی ہے۔

شہری اور دیہی علاقوں میں آمدنی کے ذرائع میں واضح فرق دیکھا گیا۔ شہری علاقوں میں تنخواہیں اور اجرتیں بدستور سب سے بڑا ذریعہ ہیں، جن کا حصہ 50.27 فیصد ہے، جبکہ غیر زرعی سرگرمیاں 20.36 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
دیہی علاقوں میں فصلوں سے آمدنی 11.73 فیصد اور مویشیوں سے آمدنی 11.94 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو بالترتیب دوسرے اور تیسرے اہم ذرائع ہیں۔

اسی بارے میں: