2025 کا ڈیجیٹل سال، وہ واقعات جنہوں نے پاکستان کا سوشل میڈیا ہلا کر رکھ دیا

سوشل میڈیا

سنہ 2025 پاکستان میں سوشل میڈیا کے لیے ایک غیر معمولی سال ثابت ہوا۔ یہ وہ سال تھا جب موبائل فون کی اسکرین محض تفریح یا ذاتی اظہار تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی دکھ، غصے، سوال اور اجتماعی ردعمل کا مرکز بن گئی۔

سیاست سے لے کر سماجی سانحات تک، کئی واقعات ایسے تھے جنہوں نے دنوں اور بعض اوقات ہفتوں تک سوشل میڈیا کو اپنی گرفت میں رکھا۔

کم عمر سوشل میڈیا صارف ثنا یوسف کے قتل

جون 2025 میں اسلام آباد میں کم عمر سوشل میڈیا صارف ثنا یوسف کے قتل نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا کا مرکزی موضوع بن گیا۔

خواتین کے تحفظ، آن لائن شناخت کے خطرات اور معاشرتی رویوں پر شدید بحث شروع ہوئی۔ عوامی دباؤ، احتجاجی ویڈیوز اور انصاف کے مطالبات نے اس واقعے کو سال کے سب سے زیادہ زیر بحث موضوعات میں شامل کر دیا۔

سوات میں مون سون کے دوران آن کیمرا 13 افراد کا ریلے کے ساتھ بہنے والا واقعہ

مون سون کے مہینوں میں آنے والے شدید سیلاب کے دوران سوات میں سیالکوٹ کے رہائشی ایک خاندان کے افراد کو سیلابی ریلے کے دوران بے یار و مددگار کھڑے ہونے کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ کئی گھنٹے چیخ و پکار اور مدد کی فریادوں کے باوجود کوئی مدد نہیں پہنچی اور 13 افراد پانی کے ریلے میں بہہ گئے۔

اس سانحے کے ساتھ دیگر  کئی مقامات پر امداد کی رسائی، حکومتی ردعمل اور تاخیر پر عوامی تنقید نے آن لائن بیانیے کو شکل دی۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی قید، عدالتی کارروائیاں، احتجاج

سیاسی منظرنامہ بھی پورا سال ڈیجیٹل بحث کا مرکز رہا۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی قید، عدالتی کارروائیاں اور ان سے جڑی احتجاجی تحریکیں بار بار سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنیں۔ گرفتاریوں کی ویڈیوز، جلسوں کی لائیو نشریات اور سیاسی بیانات نے سوشل میڈیا کو ایک متوازی سیاسی میدان بنا دیا جہاں حامی اور مخالف مسلسل آمنے سامنے رہے۔

خیبر پختونخوا کے کٹلنگ میں سیکیورٹی آپریشن

مارچ 2025 میں خیبر پختونخوا کے علاقے کٹلنگ میں ہونے والا سیکیورٹی آپریشن سوشل میڈیا پر شدید تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔ مقامی افراد کی جانب سے سامنے آنے والی ویڈیوز اور بیانات نے شہری ہلاکتوں کے سوال کو جنم دیا۔ عوامی دباؤ کے نتیجے میں تحقیقات اور اعلانات بھی اسی ڈیجیٹل دباؤ کا نتیجہ سمجھے گئے۔ یہ واقعہ ریاستی مؤقف اور عوامی مشاہدے کے درمیان فاصلے کی علامت بن گیا۔

سال بھر ڈیجیٹل آزادی کا سوال بھی سوشل میڈیا پر چھایا رہا۔ اکاؤنٹس کی معطلی، مواد ہٹائے جانے اور انٹرنیٹ کی سست روی پر صارفین نے کھل کر ردعمل دیا۔ آزادی اظہار، سنسرشپ اور شہری حقوق جیسے موضوعات پہلی بار عام صارفین کی گفتگو کا مستقل حصہ بنتے دکھائی دیے۔

سنہ 2025 نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا اب محض ایک پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک طاقتور سماجی حقیقت ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سوال اٹھتے ہیں، بیانیے بنتے ہیں اور بعض اوقات فیصلوں پر دباؤ بھی ڈالا جاتا ہے۔ یہ سال پاکستانی ڈیجیٹل تاریخ میں اس تبدیلی کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب عوامی آواز نے اسکرین کے ذریعے خود کو منوانا سیکھ لیا۔

اسی بارے میں: