کامریڈ جام ساقی کی والدہ کی فاتح خوانی کے لیے بغیر پروٹوکول بے نطیر بھٹو کی آمد کا قصہ

جام ساقی

دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، دروازہ کھلا تو سامنے بے نظیر بھٹو کھڑی تھیں، پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم، اسلامی دنیا کی پہلی خاتون سربراہِ حکومت، مگر نہ کسی رسمی اعلان کے ساتھ، نہ کسی پروٹوکول کے شور میں گھری ہوئی۔ وہ اس وقار کے ساتھ گھر کے اندر آئیں جو عہدوں سے نہیں، تربیت اور شعور سے جنم لیتا ہے، اور کسی غیر ضروری تکلف کے بغیر پلنگ پر بیٹھ گئیں۔

طاقت کا غرور نہیں، صرف وقار کی سادگی۔ ایک خاموش اعلان، اقتدار انسان کو بڑا نہیں کرتا، انسانیت عہدوں کو باوقار بناتی ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جو صرف آنکھوں سے دیکھا جا سکتا تھا، مگر دل پر نقش ہو جاتا ہے۔

یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب اپنے نظریات کے باعث کئی سال جیل کاٹنے والے سندھ کے بائیں بازو کے ترقی پسند سیاست دان کامریڈ جام ساقی کی والدہ کا انتقال ہوا۔ کامریڈ جام ساقی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نظریے کے لیے قید و بند، ریاستی جبر اور سیاسی تنہائی جھیلی، مگر اقتدار اور آسائش سے ہمیشہ فاصلہ رکھا۔ ان کی سیاست اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا وسیلہ نہیں تھی، بلکہ اصول، سوال اور مزاحمت کی سیاست تھی۔

جام ساقی اور بے نظیر بھٹو کے نظریاتی اختلافات واضح اور گہرے تھے۔ جام ساقی سخت گیر انقلابی، طبقاتی جدوجہد کے قائل اور ریاستی ڈھانچے کی تبدیلی کے حامی تھے، جبکہ بے نظیر بھٹو جمہوری، پارلیمانی اور عوامی رائے کے ذریعے تبدیلی کی علمبردار تھیں۔ ایک انقلابی سیاست کا نمائندہ، دوسری انتخابی سیاست کی علامت۔ مگر انسانی وقار نے اختلاف کے تمام فاصلے ختم کر دیے۔

یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اختلاف نظریات میں ہو سکتا ہے، مگر احترام، اخلاق اور انسانیت کے اصول ہر وقت قائم رہ سکتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جو آج کی سیاست کے شور اور فاصلوں کے بیچ بھی خاموشی کے ساتھ اپنا پیغام دیتا ہے۔

جام ساقی کے گھر میں فرنیچر تک موجود نہیں تھا۔ یہ سادگی غربت یا مجبوری کا نتیجہ نہیں، بلکہ نظریاتی انتخاب تھا۔ میزبان پریشان تھے کہ پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم، اسلامی دنیا کی پہلی خاتون سربراہ حکومت، کو کہاں بٹھایا جائے؟

مگر بے نظیر بھٹو نے اس اضطراب کو محسوس ہونے ہی نہیں دیا۔ پلنگ پر بیٹھنا، خاموشی سے غم بانٹنا، اور گلاس پانی پینا، یہ سب ایک ایسا عمل تھا جو اقتدار اور نظریاتی اختلاف کے تمام رکاوٹوں کو توڑ دیتا ہے۔ یہ عمل محض ایک تعزیت یا اخلاقی روایت نہیں، بلکہ قیادت کا ایک زندہ اور عملی معیار تھا۔

تعزیت کے دوران جب میزبان نے پوچھا کہ وہ ان کی خدمت میں کیا پیش کریں، تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے جام ساقی کے گھر سے ایک گلاس پانی مانگا، ایسا پانی جو نہ ابلا ہوا تھا، نہ فلٹر شدہ۔ یہ محض پانی نہیں، بلکہ نظریاتی اختلاف کے باوجود انسانی برابری کو تسلیم کرنے کا خاموش مگر گہرا اعلان تھا۔

یہ لمحہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قیادت کا اصل امتحان اقتدار میں نہیں، بلکہ انسانوں کے درمیان کھڑے ہو کر انسان بنے رہنے میں ہے۔ بے نظیر بھٹو نے نہ کوئی تقریر کی، نہ کوئی اعلان، نہ کوئی سیاسی فائدہ سمیٹا۔ صرف ایک خاموش عمل کے ذریعے انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ حقیقی عظمت عہدوں میں نہیں، کردار، انسان دوستی اور وقار میں ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں اختلاف، نظریاتی فاصلہ، اور سیاسی کشمکش بھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یہاں اقتدار کا زور نہیں، صرف انسانیت کی آواز بلند ہوتی ہے۔ یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عوامی قیادت عوام کے قریب ہوتی ہے، اور کسی عہدے یا منصب کے بغیر بھی لوگوں کے دکھ میں شریک ہونا ممکن ہے۔

یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ بالغ جمہوریت میں اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔ نظریات ٹکراتے ہیں، مگر احترام اور انسانیت قائم رہ سکتی ہے۔ آج کی سیاست میں، جہاں اختلاف فوراً نفرت، تشدد اور کردار کشی میں بدل جاتا ہے، وہاں یہ واقعہ ایک زندہ سبق ہے کہ اختلاف کے ساتھ احترام بھی ممکن ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ قیادت صرف عہدے، اقتدار یا نعروں میں نہیں، بلکہ انسانوں کے دکھ میں شریک ہونے میں اور نظریاتی اختلاف کے باوجود انسانیت کی پاسداری کرنے میں ہے۔

بے نظیر بھٹو آج بھی یاد کی جاتی ہیں، اور جام ساقی آج بھی احترام کے ساتھ یاد کیے جاتے ہیں۔ یہ لمحہ دونوں شخصیات کو ایک اخلاقی بلندی پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام زندہ رہتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ سیاست صرف اقتدار، طاقت یا منصب کی جنگ نہیں، بلکہ اخلاق، انسانیت اور احترام کا امتحان بھی ہے۔

ایک معیار جو آج بھی سوال کرتا ہے: ہم نے سیاست تو بہت دیکھی، مگر کیا ہم نے اختلاف کے ساتھ احترام اور قیادت کے ساتھ انسانیت بھی دیکھی؟

 

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا  ہے، ساگا  ڈیجیٹل کا لکھاری کے خیالات  سے متفق ہونا ضروری نہیں۔