عالمی آسکرز ایوارڈ دینے والی مطابق اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز (AMPAS) نے پاکستان کی جانب سے 98ویں اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) میں بہترین بین الاقوامی فلم کے لیے بروشسکی زبان میں بنائی گئی پہلی فیچر فلم ‘ہن دن’ کی نامزگی کو ناہل قرار دے دیا۔
اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز (AMPAS) کی کمیٹی نے فلم کی نامزدگی مسترد کرتے ہوئے ‘تکنیکی خامیوں’ اور بعد ازاں ‘مقررہ وقت پر نامزدگی جمع نہ کرانے’ کو وجہ قرار دیا۔
‘ہن دن’ پاکستان میں بروشسکی زبان میں بنائی گئی پہلی فیچر فلم ہے۔ اقوام متحدہ نے بروشسکی کو دنیا کی معدوم ہوتی ہوئی زبانوں میں شامل کیا ہے۔
یہ فلم کرامت علی کی ہدایت کاری میں بنائی گئی تھی اور پاکستانی آسکرز کمیٹی نے اسے ملک کی سرکاری نمائندگی کے لیے منتخب کیا تھا۔
ہدایتکار کا ‘لیٹ سبمشن’ فیصلے کو چیلنج
فلم کے ٹیم نے اکیڈمی کے سخت قواعد کی پابندی کو یقینی بنانے کے باوجود نامزدگی کے مسترد ہونے کی کوششیں کیں۔ ہدایتکار کرامت علی نے تصدیق کی کہ ان کی ٹیم نے فلم اور ضروری ضمنی مواد، بشمول مکمل کاسٹ اور عملے کی فہرست اور انگریزی سب ٹائٹلز، بروقت جمع کرائے تھے، لیکن اکیڈمی نے بعد میں اس سبمیشن کو نااہل قرار دے دیا۔
علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی آسکرز کمیٹی کے چیئرمین محمد علی نقوی کے ساتھ مل کر بروقت جمع کرانے کا ثبوت ٹائم اسٹیمپ کے ساتھ اکیڈمی کو بھیجا، لیکن اپیل کو آخر کار مسترد کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا،’میں نے چیئرمین آسکرز کمیٹی محمد علی نقوی کی مدد سے ٹائم اسٹیمپ کے ساتھ جمع کرانے کا ثبوت آسکرز کو بھیجا، تاہم بعد میں یہ مسترد ہو گیا اور محمد علی نقوی نے ہدایتکار کو بتایا کہ اب کچھ نہیں کیا جا سکتا۔’
کمیٹی کے چیئرمین کا تبصرہ کرنے سے انکار
جب اس مستردگی اور اکیڈمی کی طرف سے دی گئی وجوہات کے بارے میں ساگا ڈیجیٹل کی جانب سے رابطہ کیا گیا تو پاکستانی آسکرز کمیٹی کے چیئرمین محمد علی نقوی نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
فلم ‘ہن دن’ کی کہانی بروشسکی خطے کے ثقافتی اور معاشرتی پہلوؤں پر مبنی ہے، اور اسے بین الاقوامی فلم میلوں میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس نامزدگی کی مستردگی پاکستان کے لیے عالمی سطح پر علاقائی سینما کی شناخت حاصل کرنے کی کوششوں میں ایک بڑا دھچکا ہے۔
آسکرز کے 98ویں ایوارڈز میں اسٹیج پر دنیا بھر کی بہترین بین الاقوامی فلموں کے درمیان مقابلہ ہوگا، جس میں ہر سال سینکڑوں ممالک کی فلمیں حصہ لیتی ہیں۔
آسکر ایوارڈ، جسے اکیڈمی ایوارڈز بھی کہا جاتا ہے، فلمی دنیا کا سب سے مشہور اور معیاری ایوارڈ ہے۔ یہ ایوارڈ اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز (AMPAS) کی طرف سے ہر سال دیے جاتے ہیں اور فلمی صنعت میں نمایاں کامیابی، ہنر اور بہترین کام کو سراہتے ہیں۔
آسکر کے ایوارڈز مختلف زمروں میں دیے جاتے ہیں، جیسے کہ بہترین فلم، بہترین ہدایتکار، بہترین اداکار و اداکارہ، بہترین بین الاقوامی فل، بہترین دستاویزی فلم اور اینیمیشن وغیرہ
یہ ایوارڈ فلمی صنعت میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ معترف اور معتبر سمجھا جاتا ہے، اور جیتنے والے کو عالمی شہرت ملتی ہے۔
ہر سال دنیا بھر کی فلمیں آسکر کے لیے نامزد کی جاتی ہیں، اور مختلف کمیٹیوں کے جائزے اور ووٹنگ کے بعد فاتح کا اعلان ہوتا ہے۔
پاکستان نے بھی ماضی میں آسکرز میں حصہ لینے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی فلمیں، خاص طور پر علاقائی زبانوں میں بنی فلمیں، اس زمرے میں نامزد کی گئی ہیں تاکہ پاکستان کی سینما کو عالمی سطح پر تسلیم کروایا جا سکے۔ تاہم کئی بار تکنیکی وجوہات یا قواعد کی خلاف ورزی کی بنیاد پر نامزدگی مسترد ہو گئی۔
