[rank_math_breadcrumb]

بھٹائی ساگا: شاہ عبدالطیف بھٹائی کا سُر آبڑی میں کس موضوع پر شاعری کی ہے؟

آبڑی سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی پانی کے بغیر، پیاسا، کمزور، ناتواں، ابھرا ہوا اور ضعیفہ جیسے مفاہیم میں آتے ہیں۔ یہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے رسالے کا ایک حقیقی اور گہرا معنوی سر سمجھا جاتا ہے۔

سسئی پنہوں کا قصہ سندھ کی معروف اور مستند لوک داستانوں میں شامل ہے۔ سسئی کی پیدائش برہمن آباد میں ہوئی۔ اس کے والد کا نام نائون برہمن اور والدہ کا نام مندھر بتایا جاتا ہے۔
کیچ کے سردار آری جام کا بیٹا شہزادہ پنہوں سندھ کے ساحلی شہر بھنبھور میں خوشبو اور عطر کے کاروبار کے سلسلے میں آیا کرتا تھا۔ اسی دوران اس کی ملاقات سسئی سے ہوئی جس کی پرورش محمد نامی دھوبی نے دریائے سندھ میں بہتی ایک پیٹی سے نکال کر کی تھی۔ دونوں کے درمیان محبت پروان چڑھی اور شادی ہوگئی۔

پنہوں کے بھائی ہوت بلوچ اس شادی سے خوش نہیں تھے۔ وہ پنہوں کو واپس لے جانے کے لیے بھنبھور پہنچے۔ آری جام نے انہیں ہدایت کی تھی کہ اگر پنہوں واقعی شادی کر چکا ہے تو اس کی بیوی کو بھی ساتھ لایا جائے کیونکہ وہ اب خاندان کی عزت ہے۔ تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ پنہوں کو تو لے جایا گیا لیکن سسئی کو وہیں چھوڑ دیا گیا۔ سسئی نے پہاڑوں اور صحراؤں میں پیدل سفر کرتے ہوئے پنہوں کا پیچھا کیا اور بالآخر روحانی وصال حاصل کیا۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے سر آبڑی میں سسئی پنہوں کے قصے کو تمثیل بنا کر وحدت الوجود کے فلسفے کو بیان کیا اور اللہ کی وحدانیت پر اپنے فکری خیالات پیش کیے۔