Tag: شاہ عبداللطیف بھٹائی

  • سنیے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کے کوہیاری کا ایک خوبصورت شعر۔

    سنیے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کے کوہیاری کا ایک خوبصورت شعر۔

    کوہیاری کا مطلب ‘پہاڑوں میں گھومنے والا’ یہ سنھد کی لوک داستان ‘سسئی پنہوں’ کی داستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

  • شاہ عبداللطیف بھٹائی: سچی دوستی اور آزمائش | بھٹائی ساگا

    شاہ عبداللطیف بھٹائی: سچی دوستی اور آزمائش | بھٹائی ساگا

    بھٹائی ساگا کے اس حصہ میں ہم آپ کے لیے لائے ہیں شاہ عبداللطیف بھٹائی کی ایک پُر اثر شاعری (بیت)۔
    اس بیت میں شاہ سائیں فرماتے ہیں کہ زبانی طور پر ہر کوئی دوستی اور محبت کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اصل پہچان تب ہوتی ہے جب کوئی مشکل وقت یا کام سامنے آتا ہے۔ شاہ سائیں کی یہ حکمت ہمیں سکھاتی ہے کہ صرف باتوں سے کوئی دوست نہیں بن جاتا بلکہ عمل ہی سچی دوستی کی بنیاد ہے۔

  • بھٹائی ساگا: شاہ عبدالطیف بھٹائی کا سُر آبڑی میں کس موضوع پر شاعری کی ہے؟

    بھٹائی ساگا: شاہ عبدالطیف بھٹائی کا سُر آبڑی میں کس موضوع پر شاعری کی ہے؟

    آبڑی سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی پانی کے بغیر، پیاسا، کمزور، ناتواں، ابھرا ہوا اور ضعیفہ جیسے مفاہیم میں آتے ہیں۔ یہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے رسالے کا ایک حقیقی اور گہرا معنوی سر سمجھا جاتا ہے۔

    سسئی پنہوں کا قصہ سندھ کی معروف اور مستند لوک داستانوں میں شامل ہے۔ سسئی کی پیدائش برہمن آباد میں ہوئی۔ اس کے والد کا نام نائون برہمن اور والدہ کا نام مندھر بتایا جاتا ہے۔
    کیچ کے سردار آری جام کا بیٹا شہزادہ پنہوں سندھ کے ساحلی شہر بھنبھور میں خوشبو اور عطر کے کاروبار کے سلسلے میں آیا کرتا تھا۔ اسی دوران اس کی ملاقات سسئی سے ہوئی جس کی پرورش محمد نامی دھوبی نے دریائے سندھ میں بہتی ایک پیٹی سے نکال کر کی تھی۔ دونوں کے درمیان محبت پروان چڑھی اور شادی ہوگئی۔

    پنہوں کے بھائی ہوت بلوچ اس شادی سے خوش نہیں تھے۔ وہ پنہوں کو واپس لے جانے کے لیے بھنبھور پہنچے۔ آری جام نے انہیں ہدایت کی تھی کہ اگر پنہوں واقعی شادی کر چکا ہے تو اس کی بیوی کو بھی ساتھ لایا جائے کیونکہ وہ اب خاندان کی عزت ہے۔ تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ پنہوں کو تو لے جایا گیا لیکن سسئی کو وہیں چھوڑ دیا گیا۔ سسئی نے پہاڑوں اور صحراؤں میں پیدل سفر کرتے ہوئے پنہوں کا پیچھا کیا اور بالآخر روحانی وصال حاصل کیا۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی نے سر آبڑی میں سسئی پنہوں کے قصے کو تمثیل بنا کر وحدت الوجود کے فلسفے کو بیان کیا اور اللہ کی وحدانیت پر اپنے فکری خیالات پیش کیے۔

  • شاہ عبداللطیف بھٹائی نے سُر دیسی میں سسئی اور پنھوں کی محبت پر شاعری کی ہے ۔ ۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائی نے سُر دیسی میں سسئی اور پنھوں کی محبت پر شاعری کی ہے ۔ ۔

    آج سینئے ۔ سُر دیسی۔ داستان کیچ سے آیا قافلہ کا بیت ۔ سندھی ، اردو اور انگریزی زُبان میں ۔
  • شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری کے سُر کیڈارو کا ایک بیت

    شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری کے سُر کیڈارو کا ایک بیت

    آج بھٹائی ساگا سیکشن میں سنیے شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری کے سُر کیڈارو کا ایک بیت سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں
  • آج بھٹائی ساگا سیکشن میں سُر سامونڈی کا ایک بیت سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں پیش کر رہے ہیں۔

    آج بھٹائی ساگا سیکشن میں سُر سامونڈی کا ایک بیت سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں پیش کر رہے ہیں۔

    اس ویڈیو میں بھٹائی صاحب کے کلام کو سندھی، اردو اور انگریزی تراجم کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ آپ سندھ کے اس عظیم صوفی شاعر کے پیغام اور سمندری سفر سے جڑی ان کی گہری شاعری کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

  • بھٹائی ساگا: شاہ عبداللطیف بھٹائی کے رسالے کا ایک فکری اور علامتی سر سُر کھنبھات کی داستان چاند کا بیت سندھی، اردو اور انگریزی میں سنیے۔

    بھٹائی ساگا: شاہ عبداللطیف بھٹائی کے رسالے کا ایک فکری اور علامتی سر سُر کھنبھات کی داستان چاند کا بیت سندھی، اردو اور انگریزی میں سنیے۔

    بھٹائی ساگا سیکشن میں سُر کھنبھات ۔ داستان چاند کا بیت پیش کر رہے ہیں ۔سر کنبھاٹ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے رسالے کا ایک فکری اور علامتی سر ہے جو بنیادی طور پر تجارت، سفر، جدوجہد، محنت، خطرات، اور انسانی آزمائش کے موضوعات پر مبنی ہے۔

  • شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی سندھی شاعری کے اردو اور انگریزی ترجمے کے ساتھ ساگا ڈیجیٹل کی جانب سے ‘بھٹائی ساگا’ کا آغاز

    شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی سندھی شاعری کے اردو اور انگریزی ترجمے کے ساتھ ساگا ڈیجیٹل کی جانب سے ‘بھٹائی ساگا’ کا آغاز

    ساگا ڈیجیٹل اے آئی کی جانب سے شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی شاعری کو ویڈیو صورت میں پیش کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جس میں بھٹائی صاحب کی اصل سندھی شاعری کے ساتھ اس کا اردو اور انگریزی ترجمہ بھی پیش کیا جا رہا ہے۔

    آج بھٹائی ساگا سیکشن کی پہلی ویڈیو، جو سُر کلیان کے حوالے سے ہے، آپ کے سامنے پیش کی جا رہی ہے۔

    اس کام کا مقصد بھٹائی صاحب کی صدیوں پہلے کہی گئی سندھی شاعری کو اردو اور انگریزی ناظرین تک پہنچانا ہے، تاکہ برصغیر کے اس عظیم شاعر کی شاعری نوجوانوں، خصوصاً جین زی، کو بہتر طور پر سمجھائی جا سکے

    سُر ڪلياڻ : داستان : سُوري، ڪاتي ءِ زهر

    ( اصل بیت )
    اَنڌا اُنڌا ويڄَ، کَلَ ڪُڄاڙِئا کانئِيين،
    اَسان ڏُکي ڏِيلَ ۾، تُون پِياريين پيڄَ،
    سُورِي جَنِي سيڄَ، مَرَڻُ تَنِ مُشاھِدو.

    ( اردو ترجمہ )
    اندھے نیم حکیم بھلا کیوں، اور تو روگ بڑھائے،
    روگ ہے میرے من میں پر تُو، دارو اور پلائے،
    سولی سیج سہائے، موت تو پیا ملن کی۔ ترجمہ آغا سلیم