پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) 1990 کے بعد سے مسلسل خسارے میں چلنے اور عالمی پروازوں میں بھی واضح کمی کے بعد منگل کو نجکاری کردی گئی۔
نجکاری کے مرحلہ وار عمل میں عارف حبیب کنسورشیم نے سب سے زیادہ 135 ارب روپے کی بولی دے کر پاکستان کی قومی ایئر لائن کے 75 فیصد شیئرز خرید لیے۔
1960 اور 1970 کی دہائیوں کے دوران جنوبی ایشیا کی جدید ایئر لائن سمجھی جانے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے قیام میں اہم کردار کرنے والے ابو الحسن اصفہانی کے متعلق بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان کی قومی ایئرلائینز کے لیے اپنی نجی ایئر لائین وقف کردی۔
ابو الحسن اصفہانی نہ صرف اورینٹ ایئرویز کے بانی تھے بلکہ قیامِ پاکستان کے بعد سفارتی اور قومی خدمات کے باعث بھی ایک نمایاں شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ابو الحسن اصفہانی کی شخصیت اور خدمات پاکستان کی تاریخ میں ایک مضبوط اور باوقار حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔
ابو الحسن اصفہانی کا کردار پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، یعنی پی آئی اے، کے قیام میں بنیادی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں پاکستان میں جدید ہوابازی کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل جب فضائی سفر برصغیر میں محدود اور مہنگا سمجھا جاتا تھا، اس وقت ابو الحسن اصفہانی نے ایک نجی فضائی کمپنی اورینٹ ایئرویز قائم کی۔ اس اقدام کے پیچھے ان کی یہ سوچ کارفرما تھی کہ مستقبل میں فضائی رابطے تجارت، سیاست اور عوامی روابط کے لیے ناگزیر ہوں گے۔ اس وقت اورینٹ ایئرویز کا قیام ایک غیرمعمولی قدم سمجھا جاتا تھا۔
1946 میں قائم ہونے والی اورینٹ ایئرویز نے ابتدا میں کلکتہ، دہلی اور آگرہ جیسے شہروں کے درمیان پروازیں شروع کیں۔ تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان ایک نئے ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا تو اسے شدید انتظامی اور معاشی چیلنجز کا سامنا تھا۔
نئے ملک کے پاس نہ مناسب انفراسٹرکچر تھا اور نہ ہی قومی سطح کی کوئی فضائی کمپنی۔ ایسے وقت میں ابو الحسن اصفہانی نے ایک تاریخی فیصلہ کیا اور ہجرت کے بعد اپنی پوری ایئرلائن پاکستان کے لیے وقف کر دی۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد اورینٹ ایئرویز نے پاکستان کی فضائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان طویل فاصلے اور زمینی رابطوں کی کمی کے باعث فضائی سفر ناگزیر تھا۔ اورینٹ ایئرویز نے کراچی، لاہور اور ڈھاکہ کے درمیان پروازیں شروع کیں، جس سے نہ صرف سرکاری امور میں آسانی ہوئی بلکہ عوام کو بھی ایک نئی سہولت میسر آئی۔
اس دور میں یہ ایئرلائن دراصل پاکستان کی غیر سرکاری مگر عملی قومی ایئرلائن کے طور پر کام کر رہی تھی۔
1955 میں حکومت پاکستان نے اورینٹ ایئرویز کو قومی تحویل میں لے کر اسے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، یعنی پی آئی اے، کی شکل دی۔ اس طرح اورینٹ ایئرویز پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کی بنیاد بن گئی۔
پی آئی اے نے جلد ہی بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی شناخت بنانا شروع کی اور ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے مختلف شہروں کے لیے پروازیں شروع کیں۔ ابتدائی برسوں میں پی آئی اے کو ایک جدید، منظم اور پیشہ ور ایئرلائن کے طور پر دیکھا جاتا تھا، جس کی ساکھ دنیا بھر میں قائم ہوئی۔
ابو الحسن اصفہانی نہ صرف ہوابازی بلکہ سفارت کاری کے میدان میں بھی ایک نمایاں نام تھے۔ انہوں نے پاکستان کی نمائندگی مختلف بین الاقوامی فورمز پر کی اور ملک کے لیے سرمایہ کاری اور اعتماد پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔
ان کی سوچ طویل المدت تھی اور وہ پاکستان کو ایک جدید، خودمختار اور عالمی برادری کا فعال رکن دیکھنا چاہتے تھے۔ پی آئی اے کی صورت میں انہوں نے ملک کو ایک ایسا ادارہ دیا جو کئی دہائیوں تک قومی وقار اور شناخت کی علامت رہا۔
وقت کے ساتھ ساتھ پی آئی اے نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے۔ کبھی اسے دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شمار کیا گیا اور کبھی انتظامی مسائل، مالی بحران اور سیاسی مداخلت نے اسے کمزور کیا۔
حالیہ برسوں میں قومی ایئرلائن کی نجکاری اور فروخت جیسے فیصلے اسی طویل تاریخ کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم پی آئی اے کی ابتدا کی کہانی آج بھی یہ یاد دلاتی ہے کہ یہ ادارہ ایک فرد کے وژن، قربانی اور قومی جذبے کا نتیجہ تھا۔
ابو الحسن اصفہانی کا انتقال 18 نومبر 1981 کو کراچی میں ہوا۔ انہیں گورا قبرستان کے قریب پورے اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی زندگی اور خدمات پاکستان کی ہوابازی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے متعصل ال آصف اسکوائر سے یونیورسٹی روڈ تک شہر کی اہم شاہراہ کو ان کے خدمات کے باعث ان کے نام سے منسوب کرکے ‘ابو الحسن اصفہانی روڈ‘ رکھا گیا۔
پی آئی اے کی بنیاد رکھنے والے اس وژنری شخص کی کہانی آج بھی اس سوال کو زندہ رکھتی ہے کہ قومی ادارے صرف مالی اثاثے نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک قوم کی امیدوں، تاریخ اور شناخت سے جڑے ہوتے ہیں۔

