[rank_math_breadcrumb]

مردان کا بدایونی پیڑا : ‘ملکہ الزبتھ پیڑا چکھ کر میرے والد کو برطانیہ لے جانا چاہتی تھیں’

خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے شہر مردان میں بدایونی پیڑا بنانے والے دکاندار احمر محمود کے مطابق جب برطانیہ کی 96 الزبتھ دوم پاکستان آئیں تو ان کے والد محمود علی خان نے ملکہ کو بدایونی پیڑے کا تحفہ دیا، جس کو چکھ کر ملکہ نے ان کے والد کو کہا کہ وہ برطانیہ چلیں اور یہ ذائقہ برطانیہ میں متعار کرائیں۔
بقول احمر محمود: ‘میرے والد نے پاکستان میں ہی رہنا پسند کیا۔’

احمر محمود کے مطابق ان کے والد تقسیم ہند کے وقت انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر بدایون سے تعلق رکھتے تھے، ہجرت کے بعد انہوں نے اپنے شہر کے نام کی نسبت دکان کا نام بدایونی پیڑے رکھا۔

ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے احمر محمود نے کہا کہ بدایونی پیڑے گاڑھے دودھ، چینی سے تیار کیا جاتا ہے۔
‘ہم گاڑھے دودھ میں چینی ملا کر اس وقت تک پکاتے ہیں جب تک کہ یہ گاڑھا بن جائے اور اس کی رنگت نہ تبدیل ہوجائے۔’
احمر محمود کے مطابق بدایونی پیڑے نہ صرف مقامی افراد میں مقبول ہے مگر لوگ اپنے پیاروں کو بھی یہ پیڑے ٹھفے کے طور پر بھیجتے ہیں۔

اسی بارے میں: