[rank_math_breadcrumb]

تقریباً دو مہینوں سے چمن بارڈر بند ہونے کے باعث کتنا نقصان؟

چمن پاک افغان بارڈر تقریباً دو ماہ سے بند ہے اور اس کے نتیجے میں تجارت اور انسانی بحران سنگین ہو گیا ہے۔ سرحد کی بندش نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو معطل کر دیا ہے بلکہ انسانی زندگیوں پر بھی شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔

چمن اور کوئٹہ سمیت دیگر سرحدی علاقوں میں کاروباری حضرات، ٹرانسپورٹرز اور مزدور سخت مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پھنسے ہوئے شہری بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث مشکلات میں گھِرے ہیں۔

اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں قریبی فورسز کے درمیان فائرنگ اور جھڑپوں کے واقعات سامنے آئے، جس کے بعد دونوں جانب سے جوابی کارروائیوں اور کشیدگی میں اضافے کے باعث پاک افغان بارڈرز کو سلامتی کے تناظر میں بند کر دیا گیا تھا۔

افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع اسپین بولدک میں ہزاروں پاکستانی تاجر اور عام شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ افراد کاروباری یا دیگر مقاصد کے لیے افغانستان گئے تھے، لیکن سرحد بند ہونے کے باعث واپس نہیں آ سکے۔ اسپین بولدک میں پھنسے شہری خوراک، رہائش اور طبی سہولیات کے شدید بحران کا شکار ہیں، جبکہ پاکستان میں ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

انسانی حقوق کے ماہرین اور مقامی ادارے بارڈر بندش کے باعث پیدا ہونے والے انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
چمن بارڈر تاریخی طور پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی راستہ رہا ہے۔ یہاں سے یومیہ کروڑوں روپے کی درآمد و برآمد ہوتی تھی، جس میں پھل، سبزیاں، خشک میوہ جات، مصالحہ جات اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں۔

سرحد کی بندش نے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو روک دیا ہے بلکہ کاروباری حضرات کے سرمایہ کو بھی جکڑ کر رکھ دیا ہے۔ کنٹینرز اور مال بردار گاڑیاں دونوں جانب کھڑی ہیں اور اشیائے خورونوش کے خراب ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ سرحد کی بندش کے باعث ان کے کاروبار شدید نقصان میں ہیں اور اگر جلد کوئی قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے۔
تجارتی حلقے خبردار کر رہے ہیں کہ دو ماہ سے جاری بندش کے دوران نہ صرف مقامی معیشت متاثر ہوئی ہے بلکہ ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں اور عام مزدور بھی بے روزگار ہو گئے ہیں۔ بارڈر کے بند ہونے سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوا بلکہ روزمرہ کے روزگار پر بھی سنگین اثرات پڑے ہیں۔

تاجروں اور عوامی حلقوں نے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد کھولنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ خاص طور پر پھنسے ہوئے شہریوں اور تاجروں کی واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سرحد جزوی طور پر کھولی جائے تاکہ انسانی بحران کم کیا جا سکے اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔

عوام اور تجارتی ادارے حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ فوری اقدامات کریں اور پھنسے ہوئے تاجروں اور شہریوں کو واپس لانے کے لیے بارڈر جزوی طور پر کھولیں۔ اس اقدام سے انسانی مشکلات میں کمی آئے گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔ وقت پر مناسب قدم اٹھانا اس بحران سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے تاکہ مالی اور انسانی نقصان کم سے کم ہو۔

چمن پاک افغان بارڈر تقریباً دو ماہ سے بند، تجارت اور انسانی بحران سنگین

پاک افغان سرحد تقریباً دو ماہ سے ہر قسم کی آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند ہے، جس کے باعث پاکستان اور افغانستان کے تاجروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ سرحد کی طویل بندش نے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ ایک سنگین انسانی بحران بھی جنم لے چکا ہے۔

سرحد بند ہونے کے باعث افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع اسپین بولدک میں ہزاروں پاکستانی تاجر اور عام شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ افراد کاروباری مقاصد کے لیے افغانستان گئے تھے، تاہم بارڈر بند ہونے کے باعث ان کی واپسی ممکن نہیں ہو سکی۔ اسپین بولدک میں پھنسے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، جہاں انہیں رہائش، خوراک اور طبی سہولیات جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے، جبکہ پاکستان میں موجود ان کے اہلِ خانہ سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔

دوسری جانب سرحد کی بندش کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت گزشتہ تقریباً دو ماہ سے مکمل طور پر معطل ہے۔ چمن بارڈر کے ذریعے یومیہ کروڑوں روپے کی درآمد و برآمد ہوتی تھی، جس میں پھل، سبزیاں، خشک میوہ جات، مصالحہ جات اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل تھیں۔ تجارت بند ہونے سے چمن، کوئٹہ اور دیگر سرحدی علاقوں کے تاجر، ٹرانسپورٹرز، مزدور اور کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس بے روزگاری اور شدید مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔

مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ بارڈر بندش کے باعث ان کا سرمایہ پھنسا ہوا ہے، کنٹینرز اور مال بردار گاڑیاں دونوں جانب کھڑی ہیں جبکہ اشیائے خورونوش کے خراب ہونے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد سرحد نہ کھولی گئی تو نقصانات ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔

عوامی اور تجارتی حلقوں نے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحد کھولنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ کم از کم پھنسے ہوئے شہریوں اور تاجروں کی واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بارڈر جزوی طور پر کھولا جائے تاکہ انسانی بحران میں کمی آئے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔