[rank_math_breadcrumb]

پاکستان میں منشیات کے بڑھتے ہوئے بحران سے کتنے لوگ متاثر ہیں؟ 

پاکستان میں منشیات کے استعمال پر سب سے جامع قومی سروے تقریباً ایک دہائی پہلے ہوا تھا، جس میں تخمینہ لگایا گیا کہ ملک میں 60 لاکھ سے زیادہ افراد کسی نہ کسی شکل میں منشیات استعمال کرتے ہیں۔ ان میں اکثریت مرد ہیں، مگر خواتین میں بھی دواؤں کے غلط استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

15 سالوں کے بعد نشے کے عادی افراد میں کتنا اضافہ ہوا ہوگا؟

عمر کے لحاظ سے 18 سے 40 سال کی نوجوان آبادی سب سے زیادہ متاثر ہے، یہ وہ طبقہ ہے جو معاشی دباؤ، بے روزگاری، عدم استحکام اور ذہنی تناؤ کے بیچ پسا ہوا ہے۔

پاکستان میں سب سے عام نشہ چرس اور اوپیئٹس ہیں — یعنی ہیروئن، افیون اور انجیکشن کے ذریعے لی جانے والی ڈرگز۔ مگر پچھلے چند سال میں جس نشے نے سب کو تشویش میں ڈالا ہے وہ ہے آئس… ایک ایسی میتھ ایمفیٹامین جو انتہائی خطرناک، سستی، اور بہت تیزی سے عادت بنا لینے والی ہے۔

آئس کو اکثر "ہائی کلاس” ڈرگ سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ یونیورسٹیوں، ہاسٹلوں اور شہری بستیوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس کی سب سے خوفناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دماغ کے فیصلے کرنے والے حصے کو براہِ راست متاثر کرتی ہے، نیند ختم کر دیتی ہے، اور مسلسل استعمال کرنے پر انسان کو شدید ذہنی بیماریوں تک لے جاتی ہے۔

بحالی مراکز میں آنے والے کیسز میں آئس کی شرح بڑھ رہی ہے، اور سب سے زیادہ متاثر نوجوان اور طالب علم ہیں۔

علاقائی طور پر سرحدی اضلاع، بڑے شہروں کے مضافاتی علاقے، اور وہ کمیونٹیز جہاں روزگار کم ہیں — ان میں نشہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مرد متاثرین کی تعداد زیادہ ہے، مگر خواتین میں آئس اور دواؤں کے غلط استعمال کے کیسز بڑھ رہے ہیں، اور اکثر یہ روندی ہوئی ذہنی صحت اور گھریلو دباؤ سے جڑے ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ نشہ بڑھ کیوں رہا ہے؟

ایک بڑی وجہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے، یہاں سے گزرنے والے راستے دنیا کی بڑی منشیات کی سپلائی لائن کا حصہ ہیں۔ سپلائی آسان ہو تو نشہ سستا رہتا ہے، اور یہی اس کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔

دوسری وجہ ذہنی صحت کے نظام کی کمزوری ہے۔ ڈپریشن، بے خوابی اور بے چینی کا بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے نوجوان فوری "فرار” ڈھونڈتے ہیں، اور آئس جیسی ڈرگز خود کو وقتی طاقت اور اعتماد کا جھوٹا احساس دیتی ہیں۔

تیسری وجہ معاشی بے یقینی ہے، جب نوجوانوں کو مستقبل نظر نہ آئے تو نئے نشے زیادہ تیزی سے جڑ پکڑتے ہیں۔
چوتھی وجہ اسکولوں، یونیورسٹیوں اور گھروں میں آگاہی کا فقدان ہے۔ بہت سے والدین کو آئس کی شکل تک معلوم نہیں، جبکہ یہ ان کے بچوں کی زندگیاں بدل رہی ہے۔

پاکستان میں نئے قومی سروے کی ضرورت برسوں سے زیرِ بحث ہے تاکہ پتا چل سکے کہ آئس، چرس، ہیروئن اور دواؤں کے غلط استعمال کا موجودہ نقشہ کیا ہے۔ نئے اعداد و شمار کے بغیر مؤثر پالیسی بنانا ممکن نہیں۔

یہ مسئلہ صرف ایک لت نہیں، یہ معاشی، ذہنی اور سماجی بحران ہے جو نوجوان نسل کے مستقبل سے جڑا ہے۔

اسی بارے میں: