[rank_math_breadcrumb]

کراچی: چار پُشتوں سے گھڑی ساز خاندان کے آخری کاریگر شاہد جمیل

گذشتہ 40 سالوں سے گھڑی سازی کا کام کرنے والے شاہد جمیل انصاری اپنی چار پُشتوں سے گھڑی سازی کا کام کرنے والے آخری کاریگر ہیں، جو اب اپنے بچوں کا گھڑسازی کا کام ‘اچھا روزگار’ نہ ہونے کے باعث سکھا نہیں رہے اور ان کے ریٹائر ہونے کے بعد ان کا یہ خاندانی کام بھی ختم ہوجائے گا۔

شاہد کے پردادا بھارتی دارالحکومت دہلی کے قریب کازگنج شہر میں گھڑی ساز تھے۔

پردادا کے بعد ان کے دادا نے اپنے والد کے پیشے کو جاری رکھا اور اپنے بیٹے اور شاہد کے دادا کو گھڑی سازی سکھائی۔

شاہد کے والد نے بھی گھڑی سازی کا کام جاری رکھا۔ اس دوران تقسیم ہند ہوا اور ان کا خاندان کازگنج سے کراچی آگئے۔

کراچی کی اہم شاہراہ عبداللہ ہارون روڈ پر زینب مارکیٹ کے قریب رفیق سینٹر کے نزدیک ‘جمیل اینڈ سنزواچ میکر’ نامی دکان اس علاقے کی واحد گھڑی سازی کی دکان ہے۔

شاہد جمیل انصاری کے مطابق کچھ دہائیوں پہلے تک شہر میں گھڑی سازی کا کام عروج پر تھا اور اس وقت سینکڑوں گھڑی ساز شہر کے گلی کوچوں میں کام کرتے تھے، جن کے پاس مہنگی ترین گھڑیاں مرمت اور صفائی کے لیے لائی جاتی تھیں۔

‘مگر اب صرف چند گھڑی ساز بچے ہیں، جو اپنی آنے والی نسل کو گھڑی سازی کا کام نہیں سکھا رہے کیوں اب گھڑی سازی کا اب کوئی مستقبل نہیں رہا۔’

ساگا ڈیجیتل سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد جمیل انصاری نے کہا: ’سمارٹ فون کے باعث نہ صرف گھڑی بلکہ کیمرہ، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر سمیت مختلف کاریگر مکمل طور پر بے روزگار ہوگئے ہیں۔’

ماضی کی مشہور اور مہنگی گھڑیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس دور میں رولیکس، اومیگا، پیٹک فلپ کمپنی کی انتہائی مہنگی گھڑیاں ہوا کرتی تھیں۔

‘پیٹک فلپ کی گھڑیاں سب سے مہنگی گھڑیاں تھیں، اس وقت پیٹک فلپ کی گھڑی کی قیمت ڈھائی سے تین کروڑ روپے ہے۔

‘اس کے علاوہ مون فیز، واشرون، بیجیٹ کی گھڑیاں بھی قیمتی سمجھی جاتی تھیں۔ قیمت اور اہمیت کے حساب سے رولیکس کا تقریباً چھٹا نمبر ہے، جس کے

بعد اومیگا اور دیگر گھڑیوں کا نمبر آتا ہے۔‘

اسی بارے میں: