سندھ کے شہر دادو قیام پاکستان سے قبل شروع ہونے والی منفرد مٹھائی، فیاض کا اُگم حلوا، جو کھیر تھر کی پہاڑوں میں اُگنے والے جڑی بوٹیوں سے تیار کیا جاتا ہے۔
فیاض کا اگم حلوہ ہاؤس کے مالک لالہ شجاع کے مطابق فیاض کا حلوہ کھیرتھر کے پہاڑوں سے حاصل ہونے والے اجزا سے تیار کیا جاتا ہے، اگر کبھی وہاں سے دستیاب نہ ہو تو ہم اجزا چین سے منگواتے ہیں، یہ حلوہ جوڑوں اور کمر کے درد کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، اور لوگ اسے تحفے کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔
اس حلوے کی شہرت صرف دادو تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سندھ کے مختلف شہروں میں پہچانا جانے والا خاص تحفہ بن چکا ہے۔
اُگم حلوے کی خاص بات اس کی تیاری کا قدیم طریقہ ہے۔ اس حلوے کی تیاری کے لیے مختلف اجزا کو روایتی بڑے لوہے کے کڑاہی میں ہلکی آنچ پر گھنٹوں تک پکایا جاتا ہے، یہاں تک کہ دودھ کا ہر قطرہ ذائقے اور خوشبو میں ڈھل جاتا ہے۔ مسلسل چلانے کی وجہ سے حلوے میں ایک خاص لچک آتی ہے جو اسے عام حلووں سے منفرد بناتی ہے۔ فیاض کی دکان پر روزانہ تازہ تیار ہونے والا اُگم حلوہ دور دور سے آنے والے گاہکوں کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔
ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے لالہ شجاع نے بتایا: ‘فیاض کا اگم حلوہ سعودی عرب، ترکی، کینیڈا اور دبئی سمیت کئی ممالک میں بھیجا جاتا ہےخاص طور پر سعودی عرب میں تو یہ روزانہ جاتا ہے۔
‘حلوہ کئی مرحلوں سے گزر کر تیار ہوتا ہے اور اس کی تین سے چار اقسام بنائی جاتی ہیں، ہر قسم کے الگ الگ نرخ ہوتے ہیں، اگم حلوہ تیار ہونے میں تین گھنٹے لگ جاتے ہیں اور میعاد ایک ماہ تک ہے۔
‘یہ وہی ترکیب ہے جو میرے دادا اور والد استعمال کرتے تھے۔ اب میں اور میرا بیٹا اس کاروبار کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہمارا دکان پاکستان بننے سے پہلے قائم ہوا تھا۔’
دادو کے مقامی لوگ اس حلوے کو اپنی ثقافت اور مہمان نوازی کی علامت سمجھتے ہیں۔ شادی بیاہ، میلوں، میلے ٹھیلوں اور خاص مہمانوں کی آمد پر اُگم حلوہ لازمی رکھا جاتا ہے۔ باہر سے آنے والے سیاح بھی دادو پہنچ کر سب سے پہلے اسی حلوے کا مزہ چکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
