ماہرین صحت کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں وٹامنز کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہڈیوں، جلد، آنکھوں اور قوتِ مدافعت سے جڑی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔
ہم روزانہ خوراک کھاتے ہیں، پانی پیتے ہیں اور جسمانی توانائی حاصل کرتے ہیں، مگر شاذ و نادر ہی سوچتے ہیں کہ ہماری صحت کے پیچھے اصل کام کرنے والے عناصر کون ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم لیکن اکثر نظر انداز ہونے والا جزو ہیں وٹامنز۔ یہ وہ قدرتی غذائی اجزا ہیں جو جسم کے مختلف افعال کو درست رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
جسم انہیں خود نہیں بنا سکتا، اس لیے ان کا حصول خوراک یا سپلیمنٹ کے ذریعے ضروری ہوتا ہے۔ وٹامنز کی کمی نہ صرف جسمانی کمزوری بلکہ سنگین بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
وٹامنز کی اقسام
:غذائیت کے ماہرین وٹامنز کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں
پہلی قسم ہے چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز، جن میں وٹامن اے، ڈی، ای اور کے شامل ہیں۔ یہ جسم میں چربی کے ساتھ محفوظ رہتے ہیں اور طویل عرصے تک جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔
دوسری قسم ہے پانی میں حل ہونے والے وٹامنز، جن میں وٹامن سی اور وٹامن بی کے مختلف گروپ شامل ہیں۔ یہ جسم میں جمع نہیں ہوتے، اس لیے روزانہ تازہ خوراک کے ذریعے حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
وٹامن اے : بینائی اور جلد کا محافظ
وٹامن اے کو اکثر ‘نگاہ کا وٹامن’ کہا جاتا ہے۔ یہ آنکھوں کی روشنی کو برقرار رکھنے، جلد کو صحت مند رکھنے اور قوتِ مدافعت بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی سے رات کے وقت دیکھنے میں دشواری یعنی رات کا اندھا پن پیدا ہو جاتا ہے۔
وٹامن اے گاجر، پالک، انڈے کی زردی، دودھ اور مکھن میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ وٹامن اے کی کمی کے باعث خشک جلد، بینائی میں کمزوری، اور انفیکشن کے خلاف کمزور مدافعت کا خطرہ ہوتا ہے۔
وٹامن بی کمپلیکس: توانائی اور اعصاب کے لیے بنیاد
وٹامن بی کوئی ایک نہیں بلکہ ایک گروپ ہے جس میں مختلف وٹامنز شامل ہیں اور ہر ایک کا اپنا کردار ہے۔
وٹامن بی ون (تھیامین): دل اور اعصاب کے نظام کے لیے ضروری۔ اس کی کمی سے "بیری بیری” بیماری ہوتی ہے۔
وٹامن بی ٹو (رائبوفلاوِن): خلیوں میں توانائی پیدا کرتا ہے اور جلد کی صحت برقرار رکھتا ہے۔
وٹامن بی تھری (نیاسین): خون کی روانی اور ہاضمے کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔ کمی سے "پیلاگرا” پیدا ہو سکتی ہے۔
وٹامن بی فائیو (پینتھوتھینک ایسڈ): ہارمونز کی تیاری اور توانائی کے تبادلے میں مدد دیتا ہے۔
وٹامن بی سکس (پائریڈوکسین): دماغی کارکردگی اور خون میں ہیموگلوبن کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وٹامن بی سیون (بایوٹن): بالوں، ناخنوں اور جلد کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اسے "خوبصورتی کا وٹامن” کہا جاتا ہے۔
وٹامن بی نائن (فولک ایسڈ): خون کے سرخ خلیے بنانے اور حمل کے دوران بچے کی نشوونما کے لیے ضروری۔
وٹامن بی ٹوئلو (کوبالامین): اعصاب اور خون کے نظام کے لیے لازمی۔ اس کی کمی سے خون کی کمی اور اعصابی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ذرائع: دلیہ، گوشت، مچھلی، انڈے، دودھ، دالیں اور سبزیاں۔
وٹامن سی: قوتِ مدافعت کا ساتھی
وٹامن سی جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے، زخموں کو جلد بھرنے میں مدد دیتا ہے اور خلیوں کو نقصان دہ اجزا سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ جسم میں لوہے کے جذب کو بھی بڑھاتا ہے۔
ذرائع: کینو، لیموں، امرود، ٹماٹر اور مرچیں۔
کمی کے اثرات: "اسکاروی” نامی بیماری، جس میں مسوڑھوں سے خون آتا ہے اور جسمانی کمزوری پیدا ہوتی ہے۔
وٹامن ڈی: ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کا راز
وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم کے جذب میں مدد دیتا ہے، جو ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ سورج کی روشنی اس کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ ہے۔
ذرائع: سورج کی روشنی، مچھلی، انڈے کی زردی اور دودھ۔
کمی کے اثرات: ہڈیوں کا درد، کمزوری، اور بچوں میں رکٹس۔
وٹامن ای: خلیوں کا محافظ
وٹامن ای ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو خلیوں کو نقصان سے بچاتا ہے، جلد کو صحت مند رکھتا ہے اور قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے۔
ذرائع: بادام، سورج مکھی کے بیج، سبزیوں کے تیل اور پالک۔
کمی کے اثرات: جسمانی کمزوری، جلد کی خشکی اور مدافعتی نظام کی کمزوری۔
وٹامن کے: خون جمنے کا نگران
وٹامن کے جسم میں خون جمنے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے بغیر معمولی زخم بھی دیر سے بھرتے ہیں یا زیادہ خون بہتا ہے۔
ذرائع: پالک، بند گوبھی، بروکلی اور انڈے۔
کمی کے اثرات: خون بہنے میں تاخیر، جلد پر نیل پڑ جانا اور زخموں کا دیر سے بھرنا۔
وٹامنز کی کمی کی وجوہات
ماہرین کے مطابق جدید طرزِ زندگی نے وٹامنز کی کمی کو عام کر دیا ہے۔ پروسیس شدہ غذائیں، غیر متوازن خوراک، سورج کی روشنی سے گریز اور نیند کی کمی سب اس کے ذمہ دار ہیں۔ شہروں میں لوگ تازہ پھل اور سبزیاں کم جبکہ فاسٹ فوڈ زیادہ کھاتے ہیں، جس میں قدرتی وٹامنز کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ بعض دوائیں بھی وٹامنز کی سطح پر اثر ڈالتی ہیں۔ مثلاً اینٹی بایوٹکس آنتوں کے اندر موجود وہ بیکٹیریا ختم کر دیتی ہیں جو وٹامن بی اور کے بناتے ہیں۔
کیا سپلیمنٹ لینا ضروری ہے؟

اگر خوراک متوازن ہو تو عام طور پر اضافی سپلیمنٹ لینے کی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن کچھ حالات میں، جیسے حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، بوڑھے افراد یا دائمی مریض، انہیں ڈاکٹر کی نگرانی میں وٹامن سپلیمنٹ دیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ وٹامنز کی زیادتی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر وٹامن اے اور ڈی کی زیادہ مقدار جگر کے مسائل یا ہڈیوں کی کمزوری پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے سپلیمنٹ ہمیشہ طبی مشورے کے بعد ہی لینے چاہئیں۔
وٹامنز کا کردار: صحت کی بنیاد
وٹامنز کو جسمانی مشین کے نٹ بولٹ کہا جا سکتا ہے۔ یہ بظاہر چھوٹی مقدار میں درکار ہوتے ہیں مگر ان کے بغیر جسم کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
وٹامن اے بینائی اور جلد کے لیے، وٹامن بی توانائی کے لیے، وٹامن سی قوتِ مدافعت کے لیے، وٹامن ڈی ہڈیوں کے لیے، وٹامن ای خلیوں کی حفاظت کے لیے، اور وٹامن کے خون جمنے کے لیے لازمی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی کمی بھی جسم کے پورے نظام پر اثر ڈال سکتی ہے۔
نتیجہ: قدرتی وٹامنز کو خوراک کا حصہ بنائیں
وٹامنز دراصل ہماری صحت کے خاموش محافظ ہیں۔ یہ ہمیں توانائی دیتے ہیں، بیماریوں سے بچاتے ہیں اور جسم کے نظام کو درست رکھتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق اگر ہم اپنی روزمرہ خوراک میں تازہ پھل، سبزیاں، دودھ، مچھلی اور اناج شامل کریں اور روزانہ کچھ وقت سورج کی روشنی میں گزاریں تو زیادہ تر وٹامنز قدرتی طور پر حاصل ہو سکتے ہیں۔
ایک ماہر غذائیت کے مطابق: ‘وٹامنز ہماری صحت کے وہ غیر مرئی محافظ ہیں جو خاموشی سے ہمیں بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ ان کی کمی کو معمولی سمجھنا دراصل اپنی صحت سے غفلت برتنا ہے۔’

