زاویہ: مغرب میں راشن ذخیرہ کرنے کی ہنگامی تیاریاں کیوں؟

زاویہ

اکتوبر کے آخری ہفتے سے یہ بات زیادہ نمایاں اور سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہوتی جا رہی ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں حکومتیں اپنے شہریوں کو پیشگی تیاری کرنے اور گھروں میں خوراک، پانی اور ضروری اشیا رکھنے کی ہدایت دے رہی ہیں۔

بعض حکومتوں نے نئی مہمات شروع کی ہیں، جبکہ بعض نے پہلے سے جاری ہدایات دہرائی ہیں۔ یورپ میں میرے دوستوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ پیغامات ان کے علاقوں کے لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں جاری عوامی گفتگو کو دیکھتے ہوئے میں سوچتا ہوں کہ ہم میں سے کتنے لوگوں نے ان پیغامات پر توجہ دی، ان کی اہمیت سمجھی یا ان پر بات کی ہے۔

ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچے، منظم ہنگامی خدمات اور وافر وسائل رکھنے والے ممالک اپنے شہریوں سے کیوں کہہ رہے ہیں کہ وہ معمول کی امداد کے بغیر کئی دن گزارنے کی تیاری کریں؟ ان کے پیش نظر کون سے خطرات ہیں، اور ہمارے جیسے ملک کو ان سے کیا سیکھنا چاہیے؟

اس سے پہلے کہ تشویش خوف میں بدل جائے، حقائق کی درستی ضروری ہے۔ ان اعلانات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تقریباً ہر ملک نے کوئی نیا ‘ہائی الرٹ’ جاری کر دیا ہے یا حکومتوں کو کسی آنے والی تباہی کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی ہے۔ زیادہ تر ہدایات کا تعلق گھریلو سطح پر ہنگامی حالات کی تیاری سے ہے۔

ان کا مقصد ضروری اشیا کا اتنا ذخیرہ رکھنے کی ترغیب دینا ہے کہ معمول کی خدمات معطل ہونے کی صورت میں خاندان اپنا گزارہ کر سکیں۔ تاہم، مختلف حکومتوں کی جانب سے ایک جیسی ہدایات جاری کرنا سنجیدہ توجہ کا مستحق ضرور ہے۔

برطانیہ اکتوبر کی ایک واضح مثال پیش کرتا ہے۔ 22 اکتوبر 2026 کو کابینہ دفتر اور وزیرِ سلامتی ڈین جاروس نے ‘تیار رہیے’ (Be Ready) مہم کے تحت تازہ ہدایات جاری کیں۔ گھرانوں کو تین دن تک معمولات میں خلل کا سامنا کرنے کی تیاری کی ترغیب دی گئی، جس میں بوتل بند پانی اور دیر تک محفوظ رہنے والی خوراک رکھنا بھی شامل تھا۔

اعلان میں شدید موسم، طوفانوں، جنگلاتی آگ اور بجلی، پانی، فون اور انٹرنیٹ کی ممکنہ بندش کا ذکر کیا گیا۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان ہدایات کا بڑا حصہ مئی 2024 سے موجود تھا۔ یہ عوامی آگاہی کی تجدید شدہ مہم تھی، کسی مخصوص تاریخ کو آفت آنے کا اعلان نہیں۔

جاپان کے پیغام نے بھی خاص توجہ حاصل کی۔ 27 اور 28 اکتوبر 2026 کی خبروں میں بتایا گیا کہ آفات سے نمٹنے کے وزیر گوشو ہوسونو، نئے ادارۂ انتظامِ آفات کے آغاز کے ساتھ، دو نومبر کو عوام سے تیاری کی اپیل جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گھرانوں کو کم از کم تین دن، اور بہتر طور پر ایک ہفتے کے لیے خوراک، پانی اور ہنگامی حالات میں بیت الخلا کے استعمال کے لیے ضروری اشیا رکھنے کی ترغیب دی جانی تھی۔

جاپان کی تشویش میں بڑے زلزلے اور دوسری آفات شامل ہیں، جو سڑکوں، بنیادی سہولتوں اور امدادی سامان کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس مضمون کی تاریخ تک نومبر کی یہ اپیل جاری ہونا باقی تھی۔

نیدرلینڈز نے 12 اکتوبر 2026 کو ‘ڈینک ووراؤٹ’ (Denk vooruit)، یعنی ‘پہلے سے سوچیے’، مہم کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا۔ انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی کے قومی رابطہ کار ادارے، این سی ٹی وی (NCTV)، نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بجلی، پانی یا انٹرنیٹ کے بغیر 72 گھنٹے گزارنے کی تیاری کریں۔

اعلان میں جنگلاتی آگ، خشک سالی اور جرمنی میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیا گیا۔ وزیرِ انصاف و سلامتی وان ویل نے عملی منصوبہ بندی پر زور دیا: خدمات کی بندش کے دوران بچوں کو کون لے کر آئے گا، پڑوسیوں کی مدد کون کرے گا اور باہمی رابطہ کیسے برقرار رکھا جائے گا؟ ہر دس میں سے چار سے زیادہ ڈچ باشندے پہلے ہی تیاری کے لیے کوئی نہ کوئی قدم اٹھا چکے تھے۔

جرمنی کی وفاقی حکومت نے 13 اکتوبر 2026 کو، آفات کے خطرات میں کمی کے عالمی دن کے موقع پر، شہریوں کو ہنگامی ذخیرے کی یاد دہانی کرائی۔ اس کا وفاقی ادارۂ شہری تحفظ و امدادِ آفات، بی بی کے، دس دن کے لیے کھانے پینے کی اشیا رکھنے کا مشورہ دیتا ہے۔ ناروے نے 26 اکتوبر کو اپنا سالانہ ہفتہ تیاری شروع کیا، جس میں مواصلاتی نظام کی بندش پر توجہ دی گئی۔ وہاں کے ڈائریکٹوریٹ برائے شہری تحفظ، ڈی ایس بی، نے مئی 2024 میں ہی گھریلو خود کفالت کی تجویز کردہ مدت تین دن سے بڑھا کر ایک ہفتہ کر دی تھی۔

یہ رجحان اکتوبر کے ان اعلانات تک محدود نہیں۔ فرانس، بیلجیئم، ڈنمارک اور کینیڈا تقریباً 72 گھنٹے کی تیاری کا مشورہ دیتے ہیں۔ سویڈن کم از کم ایک ہفتے تک اپنے وسائل سے گزارہ کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ تقریباً ایک ہفتے کی خوراک اور فی شخص کم از کم نو لیٹر پانی رکھنے کا مشورہ دیتا ہے۔

امریکہ کی ہدایات میں ہنگامی خوراک اور بوتل بند پانی شامل ہیں، جبکہ سنگاپور کی سول ڈیفنس فورس پانی اور خشک خوراک پر مشتمل ایک تیار بیگ رکھنے کی سفارش کرتی ہے۔ ہمارے جائزے میں ایسے 13 ممالک کی نشاندہی ہوئی جن کی سرکاری ہدایات موجود ہیں، لیکن یہ نہ پوری دنیا کی جامع گنتی ہے اور نہ ہی اکتوبر میں جاری ہونے والے 13 نئے انتباہات کی تعداد۔

اس سے پہلے کا ایک یورپی پالیسی فریم ورک بھی موجود ہے۔ 26 مارچ 2025 کو یورپی کمیشن اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے نے ‘پریپیئرڈنس یونین اسٹریٹجی’ (Preparedness Union Strategy) متعارف کرائی، جس میں گھروں میں کم از کم 72 گھنٹے کی ضروری اشیا رکھنے کی ترغیب دی گئی۔

اس کے وسیع تر مقاصد میں قدرتی اور انسانی پیدا کردہ بحرانوں، بشمول سلامتی کے خطرات، سے نمٹنا شامل ہے۔ اس لیے اکتوبر کی تشہیری سرگرمیاں عوامی تیاری کے ایک جاری عمل کا حصہ ہیں۔

اس بحث سے تین مسلح تنازعات خاص طور پر متعلق ہیں: ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، یمن کے حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ افواج کے درمیان لڑائی، اور یوکرین کے خلاف روس کی جنگ۔ خلیج توانائی اور بحری نقل و حمل کو پہنچنے والے دھچکوں کا ایک بڑا مرکز ہے، جبکہ یوکرین جنگ ایک الگ محاذ ہے، جس کے اثرات یورپی سلامتی اور اناج کی تجارت پر پڑتے ہیں۔ یہ دنیا کے واحد مسلح تنازعات نہیں، لیکن ان کے بین الاقوامی اثرات بہت وسیع ہیں۔

دنیا پہلے ہی جانتی ہے کہ جنگ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور تجارت میں تعطل کا باعث بنتی ہے۔ اب جس بات کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے، وہ گھریلو سطح پر تیاری پر دوبارہ دیا جانے والا زور ہے۔ حکومتیں خاندانوں سے کہہ رہی ہیں کہ وہ سوچیں: اگر معمول کی خدمات رک جائیں تو پینے کا پانی کیسے حاصل کریں گے، کھانا کیسے پکائیں گے، معلومات کیسے حاصل کریں گے اور ضروریات کیسے پوری کریں گے؟ یہ مشورہ بالکل نیا نہیں، لیکن اس کی دوبارہ تشہیر نے ایک پرانی کمزوری کو پھر نمایاں کر دیا ہے۔

قیمتوں میں اضافہ ایک مسئلہ ہے، جبکہ ضروری خدمات تک رسائی کا عارضی طور پر ختم ہو جانا دوسرا۔ ان مہمات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، لیکن انہیں اس بات کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ حکومتوں کو کسی وسیع تر جنگ کے فوری آغاز کا علم ہے۔

آخر حکومتوں کو کس بات کا خوف ہے؟

اس کا جواب مختلف خطرات کے مجموعے میں پوشیدہ ہے۔ جاپان کا زور اس کے قدرتی آفات کی زد میں رہنے کی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔ برطانیہ کا اعلان شدید موسم اور خدمات کی بندش کو نمایاں کرتا ہے۔ شمالی اور مشرقی یورپ کی تیاریوں میں یوکرین کے خلاف روس کی جنگ، فوجی عدم تحفظ، تخریب کاری اور سائبر خطرات بھی شامل ہیں۔ کوئی ایک وجہ ایسی نہیں جو ہر ملک پر یکساں لاگو ہو۔

ان سب کی مشترکہ کمزوری باہم جڑے نظاموں پر انحصار ہے۔ پانی کی پمپنگ، خوراک کو ٹھنڈا رکھنے، مواصلات اور ادائیگیوں کے نظام بجلی سے چلتے ہیں۔ نقل و حمل کے ذرائع دکانوں تک نیا سامان اور ضرورت مندوں تک ادویات پہنچاتے ہیں۔ جب کئی نظام ایک ساتھ متاثر ہوں تو ایک خوش حال شہر کو بھی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ گھریلو ذخیرہ ہنگامی اداروں کو خدمات بحال کرنے اور فوری مدد کے محتاج لوگوں تک پہنچنے کے لیے وقت فراہم کرتا ہے۔

جنگ اس صورتِ حال میں ایک اور پیچیدگی پیدا کرتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع توانائی کی پیداوار، بحری نقل و حمل اور کاروباری بے یقینی کے ذریعے میدانِ جنگ سے بہت دور کے ممالک کو بھی متاثر کرتا ہے۔ عالمی بینک نے 28 اکتوبر 2026 کی اپنی رپورٹ ‘کموڈٹی مارکیٹس آؤٹ لک’ (Commodity Markets Outlook) میں 2026 کے دوران بنیادی تجارتی اشیا کی مجموعی قیمتوں میں 23 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی، جس میں توانائی کی قیمتوں میں 32 فیصد اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد اضافے کا تخمینہ شامل تھا۔

یہ پیش گوئیاں بیک وقت اثر انداز ہونے والے کئی دھچکوں کی عکاسی کرتی ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ کا تنازع، اناج کی ترسیل میں رکاوٹیں اور موسمی خطرات شامل ہیں۔ دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ان تمام اثرات کو صرف ایک جنگ سے منسوب نہ کیا جائے۔

پاکستان کے لیے میدانِ جنگ سے دوری، بیرونِ ملک سے آنے والی لاگت میں اضافے سے بہت کم تحفظ فراہم کرتی ہے۔ آئی ایم ایف کی 14 مئی 2026 کی پاکستان سے متعلق رپورٹ نے خبردار کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ مہنگائی بڑھا سکتی ہے اور معاشی نمو اور توازنِ ادائیگی پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

رپورٹ کے بنیادی تخمینے میں اس کے اثرات محدود بتائے گئے، لیکن خطرات کو بلند قرار دیا گیا۔ جو گھرانہ پہلے ہی بلوں کی ادائیگی میں مشکلات کا شکار ہو، اس کے پاس نقل و حمل، توانائی یا خوراک کی قیمتوں میں ایک اور اضافے کو برداشت کرنے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں خوراک ختم ہو رہی ہے۔ اس مضمون کے لیے دیکھے گئے عالمی بینک کے غذائی تحفظ سے متعلق صفحے کی ستمبر کی تازہ معلومات کے مطابق، عالمی سطح پر خوراک کی رسد عمومی طور پر مناسب تھی، اگرچہ قیمتیں بڑھ رہی تھیں اور بعض خطے شدید بھوک کا سامنا کر رہے تھے۔

خوراک کی دستیابی، اسے خریدنے کی استطاعت اور اس کی قابلِ اعتماد ترسیل تین الگ سوال ہیں۔ خوراک بین الاقوامی منڈی میں موجود ہو سکتی ہے، لیکن پھر بھی ایک کمزور گھرانے کی پہنچ سے باہر رہ سکتی ہے۔

پاکستان کا ردِعمل واضح عوامی آگاہی سے شروع ہونا چاہیے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، صوبائی حکام، ضلعی انتظامیہ اور بنیادی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو بتانا چاہیے کہ گھرانوں کو کن چیزوں کی ضرورت ہے، کتنی مقدار مناسب ہے اور جو لوگ ذخیرہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ان تک کیا مدد پہنچائی جائے گی۔

یہ ہدایات اردو، سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی اور دوسری ایسی زبانوں میں دستیاب ہونی چاہییں جنہیں لوگ سمجھتے ہوں۔

خاندان اپنی روزمرہ استعمال کی خوراک کا تھوڑا ذخیرہ بتدریج قائم کر سکتے ہیں اور اسے استعمال کرتے ہوئے تازہ اشیا سے بدلتے رہ سکتے ہیں۔ وہ محفوظ پینے کا پانی، ضروری ادویات اور ٹارچ رکھ سکتے ہیں، پاور بینک چارج کر سکتے ہیں اور اہم رابطہ نمبرز لکھ کر محفوظ کر سکتے ہیں۔

سرکاری اداروں کو بھی ہسپتالوں میں متبادل بجلی، پانی کی پمپنگ، نقل و حمل کے راستوں، ہنگامی مواصلات اور دور افتادہ آبادیوں کی ضروریات کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہ عملی تیاری کی تجاویز ہیں، ضرورت سے زیادہ خریداری کی ہدایات نہیں۔

کسی دیہاڑی دار مزدور سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ محض ایک معلوماتی پرچے کی سفارش پر ایک ہفتے کا راشن خرید لے۔ اس لیے تیاری میں سماجی امداد، محلے اور برادری کی سطح پر انتظامات اور فعال عوامی خدمات کو شامل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ ہنگامی حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگ ہی تیاری کی سب سے کم استطاعت رکھتے رہیں گے۔

یورپ میں میرے دوستوں کے مشاہدات نے ان پیغامات کو میرے لیے زیادہ قریب اور قابلِ فہم بنا دیا۔ سرکاری اعلانات ان مشاہدات کو ٹھوس بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے سبق یہ ہے کہ جب تک خدمات جاری ہیں، تبھی مشکل سوالات پوچھے جائیں: ہمارے خاندان کتنے دن گزارہ کر سکتے ہیں؟ ہمارے بزرگ پڑوسیوں کی مدد کون کرے گا؟ ہم پانی، دوا اور قابلِ اعتماد معلومات کیسے حاصل کریں گے؟

چند دن کی دانش مندانہ تیاری زندگی کے ساتھ انسانی وقار کو بھی محفوظ رکھ سکتی ہے۔ ہمیں ان سوالات کو عوامی توجہ کا موضوع بنا لینا چاہیے، اس سے پہلے کہ کوئی ہنگامی صورتِ حال ہمیں ان کے جواب دینے پر مجبور کر دے۔

اسی بارے میں: