ایک ہاتھ مزدور کی اجرت روکتا ہے، دوسرا دسترخوان بچھاتا ہے۔ ایک کھاتے میں آمدنی چھپائی جاتی ہے، دوسرے کھاتے میں عطیہ درج ہوتا ہے۔ کارخانے کے دروازے پر حق مانگنے والا دھتکارا جاتا ہے، خیراتی تقریب کے دروازے پر اسی کے لیے کیمرے روشن ہو جاتے ہیں۔
پھر شہر میں چرچا ہوتا ہے کہ فلاں صاحب بڑے سخی ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ان کی سخاوت میں کتنے لوگوں کا روکا ہوا حق شامل ہے۔
یہیں سے خیرات، ثواب اور ٹیکس چوری کے دھندے کی کہانی شروع ہوتی ہے؛ وہاں سے، جہاں نیکی انسان کی خدمت سے ہٹ کر دولت کی حفاظت، شہرت کی تعمیر اور احتساب سے بچنے کا وسیلہ بننے لگتی ہے۔
خیرات انسانی معاشرے کی خوب صورت روایت ہے۔ کسی بھوکے کے لیے روٹی، بیمار کے لیے دوا اور بے گھر کے لیے چھت کا بندوبست زندگی کی تاریکی میں چراغ جلانے کے برابر ہے۔ گیٹس فاؤنڈیشن، ویلکم ٹرسٹ، راک فیلر فاؤنڈیشن، ایدھی فاؤنڈیشن، چھیپا، سیلانی، الخدمت، اخوت، ٹی سی ایف اور انڈس جیسے نام اس وسیع فلاحی منظرنامے کا حصہ ہیں۔
ان ناموں کا ذکر کسی مالی الزام کے لیے نہیں؛ سوال اس ذہنیت سے ہے جو خیرات کو اپنے کاروباری اور قانونی فرائض کا بدل سمجھ لیتی ہے۔
دنیا میں دولت صرف چیزیں نہیں خریدتی، اپنے لیے عزت کے عنوان بھی تلاش کرتی ہے۔ کبھی کسی عمارت پر نام کندہ ہوتا ہے، کبھی کسی تقریب میں انسان دوستی کا تمغہ سجتا ہے۔ عطیہ مفید بھی ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ شہرت کی خواہش بھی موجود ہو سکتی ہے۔
لیکن معاملہ تب سنگین ہوتا ہے جب سخاوت کی روشنی ان سوالوں پر پردہ ڈالنے لگے کہ دولت کیسے کمائی گئی، کس کا حق ادا نہیں ہوا اور عوامی خزانے میں کیا واجب الادا تھا۔
فاؤنڈیشنز اور ٹیکس رعایتوں کی بحث بھی اسی مقام پر اہم ہوتی ہے۔ قانونی طور پر دستیاب ٹیکس رعایت بذاتِ خود چوری نہیں۔ فاؤنڈیشن کے انتظام پر اثر رکھنے اور اس کے مال کا ذاتی مالک ہونے میں بھی فرق ہے۔
مگر جہاں جعلی عطیات، چھپائی ہوئی آمدنی، ذاتی اخراجات کو فلاحی خرچ دکھانے یا قانونی حیثیت کے ناجائز استعمال کا معاملہ ہو، وہاں خیرات کا نام جواب دہی سے استثنا نہیں دے سکتا۔ نیکی کی رسید، بے ضابطگی کا اجازت نامہ نہیں ہوتی۔

پاکستان میں اس بحث کا سب سے تکلیف دہ کردار وہ محنت کش ہے جو دولت پیدا کرتا ہے، مگر اپنے گھر کی ضرورت پوری نہیں کر پاتا۔ بعض کارخانوں میں اس کی اجرت اخراجات کا ایسا بوجھ سمجھی جاتی ہے جسے حتی الامکان کم رکھا جائے، جبکہ مالک کی تشہیر سرمایہ کاری شمار ہوتی ہے۔
ملازم کی تنخواہ بڑھانے پر حساب کی کتاب کھل جاتی ہے؛ خیراتی تقریب پر خرچ کرتے ہوئے تصویروں کا البم۔
پاکستان کے گارمنٹس شعبے میں مزدوروں کے حقوق پر ہیومن رائٹس واچ کی 2019 کی تحقیق نے کم اجرت، جبری اضافی کام اور غیر محفوظ حالات جیسے مسائل درج کیے تھے۔ یہ صورت حال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مزدور کے حصے کی روٹی روک کر اسے افطار کرانے سے حساب برابر نہیں ہوتا۔ اس کی اجرت اس پر احسان نہیں، اس کی کمائی ہے۔ جس رقم پر اس کے بچوں کا حق ہو، وہ مالک کی سخاوت کا سرمایہ کیسے بن سکتی ہے؟
اسی طرح ملاوٹ، دھوکے یا کسی نقصان دہ کاروباری عمل سے کمائی گئی دولت کا ایک حصہ علاج پر لگا دینا، نقصان پہنچانے کی ذمہ داری ختم نہیں کرتا۔ دوا بانٹنے والے ہاتھ سے یہ پوچھنا بھی لازم ہے کہ کہیں بیماری پھیلانے میں اس کا حصہ تو نہیں۔ کسی خیراتی عمارت کا سنگِ مرمر ان سوالوں کو دفن نہیں کر سکتا۔
ٹیکس کے معاملے میں بھی ہماری اخلاقیات عجیب دو عملی کا شکار ہیں۔ ہم اپنی مرضی سے دی گئی رقم پر فخر کرتے ہیں، مگر قانون کے تحت واجب الادا حصہ دیتے ہوئے راستے تلاش کرتے ہیں۔ عطیہ دیتے وقت نام، مقام اور تصویر اپنے اختیار میں ہوتے ہیں؛ ٹیکس میں یہی اختیار اجتماعی ضرورتوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ شاید اسی لیے بعض لوگوں کو اپنی سخاوت زیادہ عزیز اور اپنی شہری ذمہ داری زیادہ گراں محسوس ہوتی ہے۔
وفاقی ٹیکس محتسب کی تحقیقات سے متعلق 2023 کی رپورٹنگ میں غیر منافع بخش شعبے میں گوشواروں، منظوریوں اور ٹیکس رعایتوں کے غلط استعمال کے مسائل سامنے آئے تھے۔ ایسے معاملات کا جواب کسی پورے شعبے پر الزام نہیں، بلکہ ادارہ وار جانچ، آزاد آڈٹ اور یکساں قانون ہے۔ حقیقی خدمت کرنے والے اداروں کی ساکھ بھی اسی شفافیت سے محفوظ رہتی ہے۔
ریاست کی بدعنوانی پر سوال اٹھانا شہری کا حق ہے، مگر ٹیکس چوری اس کا علاج نہیں۔ اسی طرح ریاست محض وصولی کرکے بری الذمہ نہیں ہو جاتی۔ اسے بتانا ہوگا کہ عوام کے پیسے سے کتنے اسکول کھلے، کتنے مریضوں کو دوا ملی اور کتنے علاقوں تک بنیادی سہولت پہنچی۔ شہری سے حساب مانگنے والی حکومت اپنے حساب کو پردے میں نہیں رکھ سکتی۔
اس پوری بحث میں غریب کی عزت کو نشانہ بنانا سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ مفت کھانا لینے والا ہر شخص کام سے بھاگا ہوا انسان نہیں۔ اس قطار میں دیہاڑی نہ ملنے والا مزدور، علاج پر جمع پونجی کھو دینے والا باپ اور تنہا بزرگ بھی ہو سکتا ہے۔ مدد لینے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا؛ اسے اپنی بڑائی کی نمائش کا سامان بنا لینا دینے والے کو چھوٹا کرتا ہے۔
بھوک فوری کھانا مانگتی ہے، اس لیے دسترخوان ضروری ہے۔ مگر ایک معاشرے کی کامیابی ہمیشہ بڑھتی ہوئی قطاریں نہیں ہو سکتیں۔ ان قطاروں سے نکلنے کے راستے بھی بننے چاہییں: مناسب اجرت، ہنر، تعلیم، روزگار اور ضرورت کے وقت باعزت کفالت۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آج کتنے لوگوں کو کھلایا گیا؛ یہ بھی ہے کہ کتنے لوگ کل اپنا کھانا خود خرید سکیں گے۔
بچے کے ہاتھ میں سکہ رکھ دینا آسان ہے، اس کا ہاتھ تعلیم اور محفوظ بچپن تک پہنچانا مشکل۔ کسی خاندان کی تصویر کے ساتھ راشن دینا آسان ہے، اس کی آمدنی بحال کرنے کے لیے مسلسل کام کرنا مشکل۔ ہماری سخاوت کا اصل امتحان اسی مشکل کام میں ہے، جہاں فوری داد کم اور دیرپا ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے۔
ہمیں نیکی کا پیمانہ بدلنا ہوگا۔ بڑے عطیے کے ساتھ پوری اجرت، خیراتی رسید کے ساتھ درست گوشوارہ اور سخاوت کی تقریر کے ساتھ کاروبار کی دیانت بھی دیکھی جائے۔ امداد کے حسابات واضح ہوں، مفادات کے ٹکراؤ کی جانچ ہو اور ضرورت مند کی عزت کی حفاظت کی جائے۔
معاشرے کی بنیاد حق کی ادائیگی ہے؛ خیرات اس بنیاد پر انسانیت کی مزید تعمیر کرتی ہے۔ بنیاد کھوکھلی کرکے اوپر نیکی کے گنبد اٹھا دیے جائیں تو عمارت خوب صورت ضرور دکھائی دے گی، محفوظ نہیں ہوگی۔
مزدور کا حق ادا کیجیے، واجب الادا ٹیکس دیجیے، پھر دل کھول کر خیرات کیجیے۔ کسی کے حصے کی روٹی واپس کرکے سخی کہلانے کی خواہش، نیکی سے زیادہ اپنے ضمیر کو بہلانے کا دھندا ہے۔

