اتوار کے روز وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرکے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر مملکت آصف علی زرداری کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی سمری بھیجی گئی۔ صدر آصف علی زرداری نے اس سمری پر دستخط کرکے خود اپنے ہاتھوں سے اٹھارہویں آئینی ترمیم کو دفن کردیا ہے۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم میں واضح طور پر طے کیا گیا تھا کہ کسی بھی اسمبلی کو توڑنے یا معطل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ صوبے کی اسمبلی یا وزیراعلیٰ وفاق کو سفارش کرے۔ اس کے بعد وفاقی حکومت یا صدر پاکستان اس اسمبلی کو توڑ یا معطل کرسکتا ہے، یا ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرسکتا ہے۔
پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ میں وفاق اور صوبوں کے تعلقات ہمیشہ ایک حساس موضوع رہے ہیں۔ 1947سے لے کر آج تک ملکی سیاست میں وفاقی بالادستی اور صوبائی خودمختاری کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ اس تاریخی کشمکش میں وفاقی حکومتوں کی جانب سے صوبوں پر سیاسی کنٹرول حاصل کرنے اور عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے کے لیے سب سے بڑا ہتھیار گورنر راج (Governor’s Rule) اور صوبائی ایمرجنسی رہا ہے۔
تحقیقی اور علمی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو صوبوں میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ محض ایک قانونی کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت، آئین سازی اور وفاقی نظام کی عملی ناکامیوں یا سیاسی مفادات کی عکاسی بھی کرتا رہا ہے۔
1۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کا آئینی ڈھانچہ
پاکستان کے متفقہ 1973 کے آئین میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور صوبائی انتظامیہ کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے واضح دفعات موجود ہیں۔
آرٹیکل 232: یہ ملکی سلامتی، جنگ یا اندرونی بدامنی کی صورت میں پورے ملک یا کسی ایک صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
آرٹیکل 234: جب کسی صوبے میں آئینی نظام ناکام ہوجائے یا صوبائی حکومت آئین کے مطابق کام نہ کرسکے تو صدر مملکت، گورنر کی رپورٹ یا آئینی ضابطوں کے تحت صوبائی حکومت کو معطل کرکے گورنر راج نافذ کرسکتا ہے۔
بظاہر یہ آرٹیکلز ریاست کی سلامتی اور آئینی نظام برقرار رکھنے کے لیے شامل کیے گئے تھے، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ تحقیقی جائزے کے مطابق ان کا استعمال زیادہ تر مخالف سیاسی جماعتوں کی صوبائی حکومتوں کو ختم کرنے اور آئینی حدود سے تجاوز کرنے کے لیے کیا گیا۔
2۔ پہلے عشرے سے 1971 تک: ابتدائی تجربات اور سیاسی عدم استحکام
گورنر راج کی کہانی 1947 کے بعد ابتدائی دور ہی میں شروع ہوگئی تھی۔
1947 (خیبر پختونخوا، سابق صوبہ سرحد): قیام پاکستان کے چند دنوں کے اندر ہی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت ڈاکٹر خان صاحب کی منتخب حکومت کو برطرف کردیا۔
1954 (مشرقی بنگال): جگتو فرنٹ (Jugto Front) نے انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کی حکومت کو دوبارہ تشکیل پانے کے چند ماہ کے اندر ہی معطل کرکے گورنر راج نافذ کردیا گیا۔
ون یونٹ کا دور: مغربی پاکستان میں مختلف صوبوں کی الگ حیثیت ختم کرکے جب ون یونٹ قائم کیا گیا تو اس دور میں بھی سیاسی مخالفت کو کچلنے کے لیے اس غیر آئینی ہتھیار کا بار بار استعمال کیا گیا۔
1973 کے بعد کا دور: سیاسی انتقام اور آئینی بحران
1973 میں بین الصوبائی اتفاق رائے سے آئین منظور ہونے کے بعد توقع تھی کہ صوبوں کے حقوق محفوظ رہیں گے، لیکن عملی طور پر صورت حال ایسی نہیں رہی۔
بلوچستان اور صوبہ سرحد (1973): ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیشنل عوامی پارٹی (NAP) اور جمعیت علمائے اسلام کی حکومت کو بلوچستان میں معطل کرکے گورنر راج نافذ کردیا گیا۔ اس کے بعد صوبہ سرحد کی حکومت نے بھی احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔
پنجاب (1999 اور 2009): 1999 میں نواز شریف کے دور اور 2009ء میں آصف علی زرداری کے دور میں پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت کو معطل کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا۔
سندھ (1998): مختلف سیاسی بحرانوں کے دوران سندھ میں بھی گورنر راج کے ذریعے براہ راست انتظامی کنٹرول سنبھالا گیا۔
4۔ موجودہ بحران: خیبر پختونخوا میں غیر آئینی اور غیر قانونی گورنر راج کا نفاذ
پاکستان کی سیاست میں غیر آئینی ہتھکنڈوں کا نیا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ خیبر پختونخوا صوبے میں دوبارہ نافذ کیے جانے والے گورنر راج کو علمی اور آئینی نقطۂ نظر سے ایک غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام قرار دیا جارہا ہے۔
عوامی مینڈیٹ اور صوبائی اسمبلی کی توہین: خیبر پختونخوا کے عوام کے منتخب نمائندوں اور قانونی صوبائی حکومت کی موجودگی کے باوجود وفاقی ہتھکنڈوں کے ذریعے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا نہ صرف صوبائی بلکہ ملکی جمہوریت کی روح کو بھی مجروح کرتا ہے۔
اٹھارہویں ترمیم اور آئین کی صریح خلاف ورزی: 2010 کی اٹھارہویں آئینی ترمیم نے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبائی اسمبلی کی رضامندی اور پارلیمنٹ کی منظوری کو واضح طور پر لازمی قرار دیا تھا۔ موجودہ وفاقی اقدام کے ذریعے ان تمام آئینی اصولوں اور سپریم کورٹ کے سابقہ تاریخی فیصلوں کو کسی جائز سیاسی یا آئینی وجہ کے بغیر مسترد کردیا گیا ہے۔
سیاسی بدحالی اور عدم استحکام: خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں، جہاں بدامنی اور دہشت گردی کے بڑے چیلنج موجود ہیں، عوامی مینڈیٹ ختم کرکے گورنر راج نافذ کرنے سے صوبے میں سیاسی محرومی، وفاق پر شدید عدم اعتماد اور عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔
وفاقی نظام کا زوال: جب بھی وفاق نے صوبوں کی عوامی حکومتوں پر شب خون مارا اور زبردستی گورنر راج نافذ کیا، اس سے ملکی سالمیت اور بین الصوبائی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچا۔
عدالتی نظرثانی (Judicial Review) کی ضرورت: سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کو خیبر پختونخوا میں نافذ کیے گئے اس غیر آئینی اور غیر قانونی گورنر راج کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئین کی بحالی اور صوبائی حکومت کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں نافذ کیے گئے غیر قانونی گورنر راج کو ہمیشہ کے لیے ختم کرکے عوام کی منتخب حکومت کو اس کے آئینی اختیارات واپس منتقل کیے جائیں۔
آرٹیکل 234 کے غلط استعمال اور سیاست کو آئین سے بالاتر بنانے کے رجحان کو روکنے کے لیے آئینی عدالتوں اور پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں متحرک ہونا ہوگا۔
پاکستان کو ایک مستحکم اور مضبوط وفاق بنانے کے لیے ضروری ہے کہ صوبوں کی آئینی اور جمہوری رائے کا احترام کیا جائے۔ خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبوں میں گورنر راج جیسے غیر آئینی اقدامات جمہوریت کا جنازہ نکالنے کے برابر ہیں۔ ان کا خاتمہ ہی ملک کی سلامتی کی واحد ضمانت ہے۔
اس دن سے ڈریں، کیونکہ ممکن ہے کہ ملک کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے حکم پر ایسا ہی اقدام سندھ میں بھی دہرایا جائے۔

