لندن کانفرنس میں سندھ کی تقسیم مسترد، دریائے سندھ پر نئی نہروں کی مخالفت، سندھی اور اردو بولنے والوں کے اتحاد پر زور

سندھ

برطانیہ، شمالی امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے 400 سے زائد مندوبین نے ہفتے کے روز یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کے ہیرو کیمپس میں سندھ سے متعلق 38ویں بین الاقوامی کانفرنس میں سندھ کی تقسیم مسترد، دریائے سندھ پر نئی نہروں کی مخالفت، سندھی اور اردو بولنے والوں کے اتحاد پر زور دیا۔

ورلڈ سندھی کانگریس کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس کا موضوع ’حق خودارادیت سندھ: امن، جمہوریت اور پائیدار مستقبل کی راہیں‘ تھا۔

کانفرنس میں واضح مؤقف اختیار کیا گیا کہ سندھ کے عوام اپنے تاریخی وطن کو صوبوں یا نام نہاد انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی کسی کوشش کو قبول نہیں کریں گے۔ مندوبین نے دریائے سندھ پر پانی کا رخ موڑنے والی کسی بھی نئی نہر کی تعمیر کی سخت مخالفت کی اور سندھی بولنے والوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان مکمل اتحاد پر زور دیا۔

کانفرنس میں بلوچ اور پشتون مندوبین نے بھی شرکت کی اور سندھ کے عوام کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون قومیں سندھ کی تقسیم کی کسی بھی سازش کے خلاف سندھ کے ساتھ کھڑی ہیں۔

مقررین نے سندھ کو تقسیم کرنے یا کراچی کی بندرگاہی شہر کی حیثیت کو سندھ سے الگ کرنے کی تجاویز کو ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی قرار دیا، جس کا مقصد ان کے بقول سندھ کی قومی شناخت کو کمزور کرنا اور اس کے وسائل پر بالادستی مستحکم کرنا ہے۔

صوبے کی زمین، معدنیات اور دریائی پانی پر مسلسل قبضے اور ان کے حصول کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے شرکا نے سندھی اور اردو بولنے والی آبادیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی مشترکہ سرزمین اور معاشی مستقبل کے دفاع کے لیے متحد ہوں۔

مندوبین نے دریائے سندھ پر کسی بھی نئی نہر اور پانی کا رخ موڑنے کے منصوبے کی مکمل مخالفت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بالائی علاقوں سے دریائے سندھ کا پانی موڑنے سے زیریں علاقوں کی آبادیوں کو ان کے جائز حصے سے محروم کیا جاتا ہے اور اس سے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی ماحولیاتی تباہی میں تیزی آتی ہے۔

کانفرنس کا ایک اہم پہلو بلوچ اور پشتون رہنماؤں کی جانب سے یکجہتی کا بھرپور اظہار تھا۔ ان میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ، بلوچ ہیومن رائٹس سینٹر کے ڈاکٹر نصیر دشتی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے شاہد خان کاکڑ شامل تھے۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے سندھ کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کے خلاف سندھ کے عوام کی حمایت کا اعادہ کیا۔

مقررین نے کہا کہ سندھی، بلوچ اور پشتون قوموں کو سیاسی محرومی، وسائل کے استحصال اور ریاستی جبر جیسے مشترکہ مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مرکزی اقتدار کی بالادستی کے خلاف مزاحمت اور جمہوری حق خودارادیت کے حصول کے لیے تینوں قوموں کی جدوجہد باہمی یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنی چاہیے۔

کانفرنس میں سندھ کو درپیش صحت اور سماجی بہبود کے بحرانوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ بچوں کے امراض کے پروفیسر ڈاکٹر نیل کنٹھ نے سندھ بھر میں بچوں میں غذائی قلت اور نشوونما رکنے کی بلند شرح کی نشاندہی کی۔ انہوں نے اس صورت حال کو ریاستی سطح پر نظامی غفلت سے منسوب کرتے ہوئے سیکولر اور فلاحی اصولوں پر مبنی حکمرانی کا مطالبہ کیا۔

ماہا پنہور نے سیلاب کے بعد بحالی کے عمل میں پیش رفت نہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب کے کئی سال گزرنے کے باوجود متاثرہ آبادیوں کو صحت کے مسلسل بحرانوں، بے گھری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے ایسے تباہ کن اثرات کا سامنا ہے جو ایک دوسرے کو مزید شدت دیتے ہیں۔

کانفرنس میں ورلڈ سندھی کانگریس کے رہنما امید لغاری کی پیش کردہ دس نکاتی قرارداد باضابطہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد میں سندھی عوام کے حق خودارادیت کی توثیق کرتے ہوئے گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ اور زمینوں پر قبضے کو مسترد کیا گیا۔ اس میں جبری گمشدگیوں اور خواتین کے خلاف ریاستی تشدد کی مذمت بھی کی گئی۔

قرارداد میں کم سن پریا کماری سمیت اغوا کیے گئے بچوں کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا گیا، ہندو اور مسیحی لڑکیوں کی جبری مذہب تبدیلی کے فوری خاتمے پر زور دیا گیا اور کارونجھر پہاڑیوں جیسے تاریخی ورثے کے مقامات کے تحفظ کے لیے عالمی برادری سے فوری تعاون طلب کیا گیا۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ باب بلیک مین نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کی اور خصوصی طور پر سندھ کے ہندوؤں کو درپیش مبینہ مظالم کا ذکر کیا۔

باب بلیک مین نے کہا، ’سندھی ہندوؤں سمیت مذہبی اقلیتوں کو درپیش ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ برطانیہ میں مقیم سندھیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ارکان پارلیمنٹ سے رابطہ کریں اور اپنے حلقوں میں منعقد ہونے والی ملاقاتوں میں شرکت کریں تاکہ ان خدشات کو سنا جا سکے۔‘

ورلڈ سندھی کانگریس کے چیئرپرسن ڈاکٹر لکھو لوہانہ نے کہا کہ سندھ کی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

ان کے بقول، ’سندھ کا اتحاد اور سندھی عوام کا اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔ ہم جمہوری شرکت، یکجہتی اور مسلسل عالمی رابطوں کے ذریعے ان حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘

امریکہ کی سائراکیوز یونیورسٹی کے پروفیسر ریان گریفتھس نے حق خودارادیت کے حصول کے بین الاقوامی طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح نمائندگی سے محروم قومیں اپنی اجتماعی رائے پر اتفاق پیدا کرکے اور کثیرالجہتی عالمی اداروں سے مسلسل رابطے کے ذریعے مرحلہ وار اپنے سیاسی اختیار کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔

عوامی سطح پر متحرک کارکن، ڈاکٹر اور انسانی حقوق کے محافظ ڈاکٹر سورٹھ سندھو نے دیہی علاقوں کی جدوجہد کو اجاگر کیا اور سیاسی قیادت میں خواتین کے کردار کی حمایت کی۔ جیے سندھ محاذ کے چیئرمین عبدالخالق جونیجو نے حق خودارادیت کے تاریخی اور آئینی پہلوؤں پر خطاب کیا، جبکہ ہانگ کانگ میں مقیم کارکن بصیر نوید نے شہری آزادیوں کی منظم خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کے معاملات پیش کیے۔

کانفرنس سے ثقلین امام، حفیظاں واڈیو، گل صنائی، ڈاکٹر ہدایت بھٹو، ساج چنہ، سارنگ سندھی، سہیل ابڑو، رزاق بُرڑو، عباس چنہ، نارائن ببلانی، سید سہیل احمد، رگھویر سنگھ سوڈھو، خوشحال کلانی اور ڈاکٹر شگفتہ کھندھرو نے بھی خطاب کیا۔

کانفرنس کے دوران ایک خصوصی تقریب میں عبدالخالق جونیجو کی کتاب ’قومی حق خودارادیت‘ اور امداد اوڈھو کی کتاب ’دھرتی ماں جو سڈ‘ کی رونمائی بھی کی گئی۔ تقریب کی نظامت صغیر شیخ نے کی۔ اس نشست میں سندھ کی تاریخ اور حقوق کو محفوظ کرنے اور اجاگر کرنے میں سیاسی ادب کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

کانفرنس کے شرکا نے دوپہر اور رات کے کھانے کے دوران بھی ایک دوسرے سے ملاقاتیں کیں۔ ثقافتی پروگرام میں ارشاد چانڈیو نے سندھی شاعری پیش کی، جس کے بعد بھارتی گلوکارہ انشیکا ٹہلیانی اور مقامی فنکار کامران لاشاری نے براہ راست موسیقی پیش کی۔ موسیقی کی دھنوں پر شرکا نے رقص بھی کیا، اور یوں کانفرنس کا اختتام ثقافتی استقامت اور اتحاد کے پُرجوش اظہار کے ساتھ ہوا۔

اسی بارے میں: