کراچی سفاری پارک میں ہاتھیوں کے لیے بنایا گیا انکلوژر صرف ایک باڑہ نہیں، بلکہ ان بڑے اور سماجی جانوروں کو نسبتاً بہتر ماحول فراہم کرنے کی کوشش ہے۔
سفاری پارک کے اس انکلوژر میں اس وقت دو افریقی مادہ ہاتھی، مدھوبالا اور ملکا، موجود ہیں۔
مدھوبالا نومبر 2024 میں کراچی چڑیا گھر سے سفاری پارک منتقل کی گئی تھی۔ یہاں منتقلی کے بعد مدھوبالا کی تقریباً پندرہ سال بعد اپنی بہنوں ملکا اور سونیا سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔
تاہم نومبر 2024 میں سونیا کی اچانک موت کے بعد سفاری پارک میں اب دو ہاتھی، مدھوبالا اور ملکا، موجود ہیں۔
مدھوبالا کی منتقلی سے قبل سفاری پارک میں ہاتھیوں کے انکلوژر کو بھی وسیع کیا گیا تھا۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریکارڈ کے مطابق اس انکلوژر کا رقبہ سات ایکڑ ہے، جبکہ جانوروں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم فور پاز کے مطابق مدھوبالا کے لیے تیار کیے گئے مخصوص سینکچری ایریا کا رقبہ پانچ اعشاریہ دو ایکڑ ہے۔
اس انکلوژر میں ہاتھیوں کے نہانے کے لیے پانی، مٹی اور ریت کے مختلف حصے، سایہ اور خوراک تلاش کرنے سمیت ذہنی سرگرمیوں کے لیے مختلف انتظامات کیے گئے ہیں۔
ہاتھیوں کو جسم رگڑنے، خوراک تلاش کرنے اور مختلف سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے بھی انکلوژر میں سہولیات موجود ہیں۔
ہاتھی انتہائی سماجی جانور ہیں اور ان کی فلاح کے لیے صرف خوراک اور پانی ہی کافی نہیں، بلکہ مناسب جگہ، جسمانی سرگرمی، ذہنی مصروفیت اور سماجی تعلق بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
مدھوبالا اور ملکا اب ایک ہی ماحول میں رہ رہی ہیں، تاہم قید میں موجود بڑے جانوروں کی صحت اور نگہداشت مسلسل نگرانی کا تقاضا کرتی ہے۔
